125

دلیری نہیں‘ دانشمندی پلیز

کرکٹ کے جاری عالمی مقابلوں میں ٹیم گرین کی مایوس کن کارکردگی کا ایک مثبت پہلو سب سے پہلے ذکر کرنے کا مقصد‘ راکھ میں چھپی اس چنگاری کی جانب اشارہ کرنا ہے‘ جو آنے والے مقابلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے عالمی مقابلوں کے توازن کو پاکستان کے حق میں کر سکتی ہے اور یہ پلس پوائنٹ عامر کی کھیل میں واپسی ہے۔ عامر باو¿لنگ کے شعبے میں تو پہلے ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن انہوں نے جس طرح مستقل مزاجی سے اچھی لینتھ کےساتھ باو¿لنگ کا مظاہرہ کیا‘ وہ بھلے ہی وکٹیں ملنے کی صورت قابل ذکر کامیابی کا باعث نہ بنا ہو لیکن بہرحال ایک ایسا ماحول ضرور بن گیا ہے‘ جو ورلڈ کپ کھیلنے والی دیگر ٹیموں کے ہوش اڑانے کےلئے ضرورت سے زیادہ کافی ہیں‘ عامر کی واپسی سے نہ صرف ٹیم گرین کے دیگر کھلاڑیوں اور انتظامیہ بلکہ شائقین کرکٹ کا حوصلہ بھی خاصا بلند ہوا ہے‘ جن کےلئے ابھی تو بہت سا کھیل باقی ہے!پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیم سے کھیل کی کمزوری کے باعث نہیں بلکہ غلط حکمت عملی اختیار کرنے کی وجہ سے ہاری ہے‘پاکستانی بلے بازوں کو بیک فٹ پر کھیلنے کا مشورہ جس کسی نے بھی دیا۔

 اسے اب خاصی شرمندگی ہو رہی ہوگی کیونکہ دفاعی کھیل ہمارے بلے بازوں کا کبھی بھی مزاج نہیں رہا۔ فخر زمان کو حملہ آور کا کردار دیا گیا ہے‘ یہ وہی منصب ہے جو بھارت کے سہواگ یا سری لنکا کے سنتھ جے سوریا جیسے بلے بازوں کا تھا اور اب یہی کردار کرس گیل اور جیسن ادا کر رہے ہیں مگر ہر کھلاڑی کی مہارت میں فطری فرق ہوتا ہے۔ فخر زمان میں خامی یہ ہے کہ انکے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ شارٹ بال ان کی کمزوری ہے اور وہ تب تک اچھا بلے باز نہیں مانے جائیں گے جب تک کہ شارٹ بالوں پر اپنی اتھارٹی کی مہر ثبت نہ کر دیں حالانکہ کرکٹ میں اس قسم کی سوچ اور کرتب کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور کسی ذمہ دار کھلاڑی کےلئے کھیل کے کسی بھی پہلو کے حوالے سے اتنا حساس رویہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہر کھلاڑی میں کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے لیکن وہ اس پر قابو پاتا ہے‘شارٹ بال تو سریش رائنا اور مائیکل بیون جیسے کامیاب کھلاڑیوں کی بھی کمزوری رہی ہے لیکن وہ اس سے باوقار انداز یعنی تحمل سے نمٹ لیتے تھے‘فخر کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے‘ دراصل کرکٹ دلیری کا نہیں دانشمندی کا کھیل ہے!

آج کی کرکٹ کھیل سے زیادہ سائنس کا درجہ حاصل کر چکی ہے‘موجودہ دور میں ہر کھلاڑی کا مکمل تجزیاتی مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسی کوئی کمی پوشیدہ رہ سکے یا مخالف ٹیم کے پاس اسکا کوئی توڑ نہ ہو۔ پاکستان کےخلاف کھیلنے والے ٹیم گرین کے ہر کھلاڑی کی تمام خامیوں اور کمزوریوں کو فہرست کرنے کے بعد میدان میں اُترتے ہیں اور پھر کھلاڑیوں کو وہی غلطیاں کرنے پر اکسایا جاتا ہے‘ جن کی وجہ سے وہ ماضی میں متواتر شکار ہو رہے ہوں۔ اس مرحلے پر امام الحق کی کارکردگی پر بھی نظر ہونی چاہئے جن کا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ ٹیم میں انہیں مرکزی کردار ادا کرنا ہے یعنی وہ ٹیم کو لے کر چلیں گے۔ تیز نہ کھیلنا مسئلہ نہیں‘ اصل مسئلہ دائرے کے اوورز میں سٹرائیک روٹیٹ نہ کرنا ہے‘ جب تک ان کی آنکھیں اور قدم سیٹ ہوتے ہیں وہ دس سے پندرہ گیندوں پر کبھی دو تو کبھی چار رنز پر کھڑے پائے جاتے ہیں۔ تب اچانک ان پر کہیں سے شدید دباو¿ آتا ہے اور پھر ایک خراب بال ملتے ہی جذباتی شاٹ کھیل جاتے ہیں‘ ویسٹ انڈیز کےخلاف میچ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ میں عمومی اور موجودہ فارمیٹ میں خصوصی طور پر جہاں 10میں سے 4ٹیمیں سیمی فائنل میں جانے کی اہل ہوتی ہیں‘ وہیں رن ریٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے ٹورنامنٹ کی نسبتاً کمزور ٹیم کےخلاف قیمتی پوائنٹس گنوا دیئے ہیں‘ اوپر سے رن ریٹ کا جھٹکابھی لگا ہے کہ اب ہر میچ میں رن ریٹ کی تلوار سر پر لٹکتی رہے گی۔ قومی ٹیم ایک روزہ کرکٹ کی اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلسل گیارہ ایک روزہ میچ ہار چکی ہے پھر یہ اعزاز کہ کسی بھی ورلڈکپ میچ میں گیندوں کے حساب سے یہ پاکستان کی سب سے مختصر ایک روزہ اننگ تھی! لگتا ہے شائقین کرکٹ کو جاری ورلڈ کپ مقابلوں میں ابھی بہت سے صدمے جھیلنا ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔