215

ٹیکسوں کابوجھ برداشت کرنے کا مشورہ

وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ٹیکسوں کا بوجھ کچھ عرصے کیلئے برداشت کرنا ہوگا جبکہ مشیر خزانہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیتے ہیں‘ وزیراعظم کے ایڈوائزر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے مشکل فیصلے کئے جا رہے ہیں‘حکومت کو درپیش معاشی مشکلات ناقابل تردید حقیقت ہیں تاہم ان سے نمٹنے کیلئے تمام بوجھ عام شہری کو منتقل کرنا کسی طور درست حکمت عملی قرار نہیں دیاجاسکتا۔ ٹیکس بزنس کمیونٹی پر عائد ہویا زرعی پیداوار پر ‘ بیوٹی پارلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایاجائے یا ادویات پر ڈیوٹی عائد ہو یہ ادا نہ تو صنعت کار کرتا ہے نہ ہی جاگیردار‘ اس بوجھ کو بہت آسانی کےساتھ صارفین کو منتقل کر دیاجاتا ہے‘اس کے بدلے میں حکومت کوئی بھی سہولت یا مراعات دے تو اس کا فائدہ محدود طبقے کے بینک بیلنس ہی کو بڑھاتا ہے‘ اب جبکہ مالی سال 2019-20ءکا قومی بجٹ چند روز ہی میں پیش ہونے جا رہا ہے‘ اس حقیقت کومدنظر رکھنا ہوگا کہ غریب‘متوسط شہری اور تنخواہ داروں کےلئے مزید بوجھ ناقابل برداشت ہوتا چلاجا رہا ہے۔ حکومت کو معیشت کے حوالے سے چیلنجوں کا سامنا ضرور ہے تاہم ان سے نمٹنے کیلئے اپنے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

 وزیر مملکت حماد اظہر ایف بی آر میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں‘چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبرزیدی اپنے خط میں وزیراعظم کو برسرزمین حقائق اور اصلاح احوال سے متعلق تجاویز دے چکے ہیں‘ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی جاری مالی سال کے گیارہ ماہ میں ٹیکس وصولی کے اہداف میں 460 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ آنےوالے مالی سال کیلئے ایک بڑا ٹارگٹ رکھا جا رہا ہے جس کا والیوم ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے بتایا جا رہا ہے‘ دوسری جانب بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافے کابوجھ عام صارف پر بڑھ رہا ہے جبکہ اس کا اثر پروڈکشن کاسٹ بڑھنے پر مہنگائی میں اضافے کی صورت بھی اس شہری کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔ ایک جانب اس عام شہری پر بوجھ بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب لائن لاسسز اپنی جگہ ہیں جن کو کم کرکے گھریلو استعمال کے بلوں میں ریلیف دینا ممکن ہے حکومت کو اقتصادی شعبے کیلئے لانگ ٹرم حکمت عملی کیساتھ غریب شہریوں کو ریلیف دینے کیلئے فوری اقدامات بھی یقینی بنانا ہوں گے۔

مردہ جانوروں کا گوشت؟

محکمہ خوراک کے ایک چھاپے میں ایک مردہ بھینس اور دو لاغر اور بیمار جانور ذبح ہونے کا انکشاف ہوا ہے‘محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ مردہ جانوروں کا گوشت کباب فروشوں کو سپلائی کیاجاتا تھا‘ مردہ مرغیاں اس سے قبل متعدد چھاپوں میں برآمد کی جاچکی ہیں‘زہریلے اجزاءپر مشتمل ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت چیلنج کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے‘ملاوٹ شدہ چائے کا بڑا ذخیرہ تلف کیا جاچکاہے‘ متعلقہ محکموں کی کاروائیاں اپنی جگہ قابل اطمینان سہی تاہم مسئلے کے جڑ سے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ اب گلی محلے کی سطح پر کمیٹیاں بناکر انہیں رپورٹ کرنے کا کہاجائے‘ یہ حقیقت ہے کہ اتنے بڑے بگاڑ میں شہریوں کی شمولیت کے بغیر صورتحال پر قابو پانا اب کسی طور ممکن نہیں۔