183

سیاست ‘ عید اور آشفتگان خاک

ہر ہفتے سیاست‘ جنگ و امن‘ امریکہ اور عالمی معاملات پر لکھتے رہنے کے بعد کبھی کبھار جی چاہتا ہے کہ کسی نئے اور آسان موضوع پر طبع آزمائی کی جائے ارد گرد کے کسی دلچسپ کردار کو اپنی کھوکھلی اقلیم فن کا قصر نشین بنایا جائے ‘ کوچہ و بازار کے اجتماعی معاملات کو ٹٹولا جائے‘ تصور اخلاقیات اور مروجہ سماجی تصورات اگر کار عالمانہ و ناصحانہ ہیں تو پھر جون ایلیا کی طرح جو کچھ نظر آئے اسی کو بیان کر دیا جائے مگر بات وہاںتک نہ پہنچے جہاں شاعر کو یہ کہنا پڑ گیا

جو دیکھتا ہوں وہی لکھنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
چند ماہ پہلے تک کسی بھی فساد پر رائے زنی کی جا سکتی تھی اب وقت نے کروٹ بدل لی ہے اب بہت کچھ شجر ممنوعہ ہو چکا ہے اسی لئے آج عید کے موقعے پر کچھ وکھری قسم کی باتیں کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجھے ہر دوسرے ہفتے کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں کہیں نہ کہیں جانا پڑ تا ہے دو تین دن کے سفر کے دوران کئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو دیر تک یاد رہتے ہیںہر مسافر جانتا ہے کہ سفرمیں کچھ بھی ساکت نہیں ہوتا چہرے‘ منظر حتیٰ کہ آسمان بھی بدلتا رہتا ہے شاعر نے کس خوبی سے سفر میں پیش آنیوالے ایک تاریخی واقعے کو بیان کیا ہے

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
سفر ہی کے بارے میں ظفر اقبال نے پتے کی یہ بات کہی ہے
گھر سے نکلیں تو سہی عزم سفر جیسا بھی ہے
لے ہی جائیگا کہیں تو راہ گذر جیسا بھی ہے
اس حیران کدے میں ایسے ایسے راہ گذر بھی ہیں کہ جنہیں آسانی سے ظرف و نظر کے آئینے میں سمویا جا سکتا ہے میں جب انہیں آنکھوں میں بسائے گھر میں داخل ہوتا ہوں تو وہاں اک عالم نو میرا منتظر ہوتا ہے گھر والی سے خیر خیریت پوچھنے کے بعد میںاسے سفر کے دو چار قصے سنا کر جب اپنے کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو پچھلے دو چار دنوں کے اخبار میری راہ تک رہے ہوتے ہیںانہیں مزے لے لے کر پڑھنے کے بعد جب کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں تو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ میری داستان حیات اور میرے سفر کے قصوںکی نسبت دنیا کے بحر بیکراں کا مدوجزر کہیں زیادہ اہم ہے عدیم النظیر شاعر حافظ شیراز نے کہا ہے
از ما بجز حکایت مہرو وفا مپرس
قصہ سکندرو دارا نہ خواندہ ایم

مجھ سے مہرو محبت کی داستانوں کے سواکچھ نہ پوچھو میں سکندرو دارا کے قصے میں نہیں پڑتااب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ ہر کوئی اپنی مہرو محبت کی داستانوں میں کھو یا ہواہے ہر کسی کو زندگی اپنے ڈھنگ سے گزارنے کا اختیار حاصل ہونا چاہئے مگرپبلک سپیس کا معاملہ ذرا مختلف ہوتا ہے کالم نگار کو جو جگہ لکھنے کیلئے دی جاتی ہے وہ ایک امریکی صحافی کے بقول بڑی مہنگی ریئل ا سٹیٹ ہوتی ہے اسے بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے بقول شخصے یہ کاکے کا ہوٹل نہیں ہوتا کہ جہاں جی چاہا کلی کر لی میں اسی الزام سے بچنے کیلئے صیغہ واحد متکلم کے قریب نہیں پھٹکتا اسمرتبہ عید کا دن ہے موقع اور دستور بھی ہے اسلئے میری طرف سے عید مبارک قبول کیجئے مجھے اس کالم کا آغاز ہی عید کی مبارکباد سے کرنا چاہئے تھا مگر پھر وہی بات کہ قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘ قلم ایک بادشاہ ہے اپنی اقلیم میں آزاد اسے بڑی مشکل سے کسی دوسری قلمرو میں قدم رنجہ فرمانے پر آمادہ کیا جاتا ہے میں اسوقت اس سے دامن چھڑاتے ہوے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس مرتبہ کی عید کچھ کھٹی میٹھی قسم کی ہے لگتا ہے کہ دنیا پہلے جیسی نہیں رہی دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا ہے کل ایک ایسا کالم پڑھا جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے یوں کہہ لیجئے کہ میں بہت دنوں سے جن حقائق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھاوہ اچانک میرے سامنے آ کھڑے ہوئے اور میں انہیں دیکھتا ہی رہ گیا یہ حقائق اہل وطن کی ہر سانس میں رچے بسے ہوئے ہیں۔

مگر دور رہنے والے ان سے باخبر تو ضرور ہیں مگر انہیں بھگت نہیں رہے کل میری خوش گمانیوں کایہ سفر بھی اپنے اختتام کو جا پہنچا تین جون کے نوائے وقت میں ممتاز صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے ” ذلتوںکے مارے لوگ“ کے عنوان سے ایک کالم لکھا ہے اسے آپ ضرور پڑھیں اسمیں اس نئے پاکستان کی تصویر کشی کی گئی ہے جسکا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھانصرت صاحب نے لکھا ہے کہ لاہور کی ایک سڑک پر گاڑی میں گذرتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے موٹر سائیکل کو زمین پر لٹائے اسکی خالی ٹینکی کو دیکھ رہا تھا کچھ دیر بعد ایک دوسرا نوجوان بھی اپنی موٹر سائیکل کی خالی ٹینکی کو گھورتا نظر آیا اسے دیکھتے ہوے ڈرائیور نے کہا کہ ایسے منظر آپکو ہر سڑک پر نظر آئیں گے کالم نگار نے لکھا ہے کہ لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ انکی بائیک کی ٹینکی خالی ہوچکی ہے ہر روز کی طرح آج بھی انہیں یقین تھا کہ ٹینکی میں پڑا پٹرول انہیں گھر پہنچا دیگا مگر انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تھاکہ کل والے پیسوں میں کل جتنا پٹرول نہیں مل سکتا آج ایک نیا دن ہے اور آج ہر چیز کی ایک نئی قیمت ہے میں نے جب سے یہ کالم پڑھا ہے یہی منظر آنکھوں میں گھوم رہا ہے اسکے ساتھ ہی فیض احمد فیض کا یہ شعر بھی سنائی دے رہا ہے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
احمد فراز نے بھی ان تاریکیوں کی پیش گوئی اس شعر میں کر دی تھی
جاناں‘ دل کا شہر نگر افسوس کا ہے
تیرا میرا سارا سفر افسوس کا ہے
 اگلے دن جب اخبار نویس ایک موچی کی دکان پر جوتے پالش کرانے گیا تو وہاں پرانے جوتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا موچی نے اسے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عید کے موقعے پر اتنے لوگ پرانے جوتے مرمت کرانے کیلئے چھوڑ گئے ہیںاس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اگر لاہور میں لوگوں کا یہ حال ہے تو پھر چھوٹے شہروں اور دور دراز کے دیہاتوں میں آشفتگان خاک پر کیا بیت رہی ہو گی انہوں نے یہ عید کیسے منائی ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔