209

عید‘ چپل اور غیبت پسندی

تحفظ ماحول سے متعلق جہاں قوانین و قواعد کو زیادہ سخت بنانے کےلئے نظرثانی کی ضرورت ہے وہیں قدرت کے قائم کردہ ماحولیاتی تنوع (توازن) اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے کی صورت ’قانون شکنی‘ سے متعلق عمومی اور خصوصی روئیوں کی اصلاح بھی یکساں اہم ہے‘ جس کے لئے عوامی شعور اُجاگر کرنے کے لئے زیادہ بڑے پیمانے پر منظم و مربوط مہمات کی ضرورت ہے کیونکہ ماحول کے تحفظ سے متعلق ’دردمندی کا فقدان‘ معاشرے کی ہر سطح پر کسی نہ کسی درجے پایا جاتا ہے اور یہ عمومی ’بے حسی‘ و ’سردمہری‘ ہی کا شاخسانہ ہے کہ قانون ساز ایوانوں کے اراکین سے لیکر معاشرے کی ہر سطح پر ’ماحولیات‘ کو اہل مغرب (ترقی یافتہ ممالک) کا مسئلہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ماحول کا تحفظ پاکستان جیسے ترقی پذیر‘ غربت و افلاس زدہ اور زرعی معیشت و معاشرت رکھنے والے ممالک کی ضرورت ہے! ماحول دوستی سے ناآشنائی کی بنیادی وجہ ’کرہ¿ ارض‘ کی آب و ہوا‘ موسمیاتی وسائل‘ ترتیب و انتظام اور بالخصوص جنگلی حیات کی اہمیت نہ تو ہمارے ’نصاب تعلیم‘ کے ذریعے اُجاگر ہوتی ہے اور نہ ہی اِس بارے میں ذرائع ابلاغ (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) اپنی ذمہ داریاں خاطرخواہ انداز میں نبھا رہے ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ میڈیا نے پاکستانیوں کی اکثریت کو ”غیبت کا دلدادہ“ بنا دیا ہے۔

 غیبت نشہ آور ہے جو قوم کے رگ و پے میں دوڑ رہی ہے! یہی وجہ ہے کہ سیاست کے موضوعات پر ’ہر دن (بلا تھکان)‘ تعریف و توصیف اور تنقید برائے تنقید لکھنے والے نسبتاً زیادہ پسند کئے جاتے ہیں لیکن اگر کہیں ماحول کے تحفظ سے متعلق کسی پہلو کو اُجاگر کیا گیا ہو تو ایسے مضمون‘ نفس مضمون اور لکھاری کی کوشش بہت کم نظروں سے گزرتی ہے!نتیجہ فکر یہ ہے کہ حضرت اِنسان جس درخت پر بیٹھا ہے اُسی کو کاٹ رہا ہے اور یہ بھی ناقابل فہم عمل ہے کہ جس چیز میں اِس کی جان (بقائ) ہے لیکن یہ اُسی کا دشمن بنا ہوا ہے! رواں ہفتے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی الیکٹرانک ذرائع ابلاغ نے پشاور کے ایک چپل ساز سے متعلق رپورٹیں نشر کیں‘ جس نے اپنی مہارت اور تجربے کا استعمال کرتے ہوئے اژدھے (سانپ) کی کھال سے وزیراعظم عمران خان کے لئے چپلی (جوتا) تیار کرنے کا دعویٰ کیا۔ پوری قوم جانتی ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وزیراعظم بننے سے قبل ’پشاوری چپل‘ کے دلدادہ تھے اور اُن کی اِس کمزوری کا ’کاروباری فائدہ‘ اٹھاتے ہوئے ایک خصوصی چپلی تیار کی گئی‘ جس کی خاص بات اُس کا وزن تھا۔

 خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں عموماً ایسی چپل پسند کی جاتی رہی ہے‘ جس کا وزن کم اور پاو¿ں کی تراش خراش (ساخت) کے لحاظ سے موزویت (فٹنس) زیادہ ہو لیکن ’عمران خان‘ کے نام سے ڈیزائن کی گئی چپلی انتہائی وزنی تیار کی گئی کیونکہ عمران خان کو ہر وقت وزن اٹھائے رکھنا پسند ہے اور اِسے ’ورزشی ٹوٹکا‘ سمجھتے ہیں۔ جن قارئین کو عمران خان کی رہائشگاہ (بنی گالہ) یا فرنٹیئر ہاو¿س (نتھیاگلی) میں اُن سے ملاقاتوں کا اتفاق ہوا‘ وہ ’خان صاحب‘ کے اِس حیرت انگیز معمول سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ اپنی دونوں ٹانگوں پر وزن باندھے رہتے ہیں اور اِس وزن کے ساتھ بالکل ہلکے پھلکے انداز میں چلتے پھرتے ہیں! اور یہی تو کپتان کی صحت کا راز ہے کہ وہ سیاسی طور پر کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں لیکن اپنی صحت و تندرستی کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے‘جب تحریک انصاف نے ’آزادی مارچ‘ کے نام سے پاکستانی تاریخ کا طویل ترین احتجاج کیا تو اُس دوران پشاور کے ایک چپل ساز نے عمران خان سے دھرنے کے دوران‘ کنٹینر میں ملاقات کی اور خصوصی طور پر تیار کی گئی بھاری بھرکم چپلی کا تحفہ پیش کیا اور اُن کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں‘ یہ تصاویر بعدازاں مارکیٹنگ کے لئے استعمال ہوئیں۔ اُن دنوں چونکہ تحریک انصاف حزب اختلاف کی سیاست رقص و موسیقی کے ساتھ یعنی پورے زور و شور سے کر رہی تھی اور اُن دنوں تحریک انصاف ’غیبت کی عادی قوم‘ کی مرکز نگاہ بھی تھی۔

 اِس لئے پشاور کے چپل ساز نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی بنائی ہوئی چپلی تحریک انصاف کے ’داخلی حلقوں سے ہوتے ہوئے عالمی سطح پر مقبول ہوئی اور اب تو ’قومی لباس‘ کا حصہ بن چکی ہے! ماہ رمضان کے آخری عشرے میں وزیراعظم عمران خان کے لئے ’سانپ کی کھال‘ سے تیار کردہ خصوصی چپل نمائش کے لئے پیش کی گئی تو خیبرپختونخوا کا ”محکمہ جنگلی حیات‘ حرکت میں آیا اور اُس نے چھاپہ مار کر مذکورہ چپلی اپنے قبضے میں لے لی‘ دکاندار پہلے موقع سے فرار ہوا‘ اور بعدازاں یہ پورا قضیہ صرف پچاس ہزار روپے جرمانہ اَدا کرکے تصفیہ کردیا گیا‘ تحقیقات سے پتہ چلا کہ عمران خان کے ایک مداح نعمان نامی شخص نے خصوصی چپل کی تیاری کے لئے امریکہ سے ’اژدھے‘ کی کھال بھجوائی تھی تاہم دکاندار کے پاس بیرون ممالک سے اژدھے کی کھال درآمد کرنے کے دستاویزی ثبوت نہیں ملے۔ جانچ سے پتہ چلا کہ مذکورہ کھال ’ایناکونڈا‘ نسل کے ’پائے تھن‘ سانپ کی تھی! حکام نے جذبات میں آ کر دکاندار پر متعدد دفعات لگائیں‘ جن میں جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے اور جنگلی حیات کی کھال کی غیرقانونی تجارت شامل تھیں لیکن چونکہ یہاں معاملہ وزیراعظم سے متعلق تھا۔

 اِس لئے قانونی راہ نکال لی گئی! رسمی طور پر متعلقہ دکاندار کو خبردار کیا گیا اور قانونی (سٹامپ پیپر پر) بیان حلفی لکھوایا گیا کہ وہ مستقبل میں جنگلی حیات کی کھال سے ایسے چپل نہیں بنائے گا لیکن یہ بیان حلفی تو کسی ایک دکاندار نے دیا ہے‘ کیا وارننگ تمام چپل سازوں کو جاری کی گئی ہے اور اگر منافع اور شہرت کی لالچ میں یہی کام کسی دوسرے کاریگر نے کیا‘ تو قانون حرکت میں آئے گا یا نہیں؟ اُمید ہے کہ سانپ کے بعد شیر‘ ہرن‘ چیتے‘ مارخور اور دیگر قیمتی جنگلی حیات کی کھالوں سے بنے جوتے پہننے کا فیشن نہیں چل نکلے گا اور بات اِس حد سے آگے نہیں بڑھے گی! اندرون و بیرون ملک سے ماحول دوست کارکنوں کو ’وزیراَعظم ہاو¿س‘ کی جانب سے اِس بات کی وضاحت کا اِنتظار ہے کہ وہ اِس قسم کے کسی بھی تحفے کو قبول نہیں کریں گے تاکہ ’ماحول دشمنوں کی حوصلہ شکنی‘ ہو۔ اَژدھے کی کھال سے بنی چپل پہن کر خبروں میں آیا جا سکتا ہے تو ایسی چپل پہننے سے انکار کر کے بھی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم اِنکار کر دیں تو باقی کام ’سیاسی غیبت‘ کرنے اور لکھنے والے کر دیںگے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔