211

مہنگائی اور غریب عوام

موجودہ حکومت کے آنے کے بعد اور تو کچھ ہوا یا نہیں البتہ زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے کوئی چیز بھی تو ایسی نہیں کہ جو غریب عوام کی پہنچ میں رہی ہو‘ عید پر چونکہ نئے کپڑے اور نئے جوتے ضروری ائٹم میں شمار ہو تے ہیں‘ مگر صورت حال یہ ہے کہ اس دفعہ اگر کوئی کپڑا خریدنے نکلا ہے تو اگر ہوش و حواس میں واپس گھر آ گیا ہے تو اُس کو مبارک د ینے کو جی چاہتا ہے اس لئے کہ بہت سے والدین تو کپڑے کی دکان پر ہی بے ہوش ہوتے دیکھے گئے ہیں‘ اسی طرح جو لوگ بچوں کے جوتے لینے کے لئے سروس ، باٹا یا کسی دیگر بوٹ چپلوں کی دکان پر پہنچے تو اُن کو بچوںکے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی اس لئے کہ بچوں نے جو جوتا اپنے پاو¿ں میں یہ دیکھنے کے لئے پہنا کہ وہ اُن کو پورا ہے یا نہیں تو جوتا اُن کو پورا بھی نکلا اور پسند بھی آیا مگر جب دکاندارنے قیمت سنائی تو باپ کے پاو¿ں کے نیچے سے زمین نے سرکنا شروع کر دیا ‘ اب صورت حال یہ بنی ہوئی ہے کہ بچے پاو¿ں سے جوتا اتارنے کو تیا ر نہیں ہیں او ر باپ کے جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ جوتاخرید سکے‘ اس صورت حال کا اندازہ وہی کر سکتا ہے کہ جسے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو‘ حکمران کیا جانے کہ ان دنوں عوام کا کیا حال ہے‘ پٹرول پر تو ہر ماہ اضافہ کر دیا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ جونہی پٹرول میں اضافہ ہوتا ہے ساتھ ہی ہر ضرورت کی چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اس لئے تنخواہ داروں کا تو بیڑا غرق ہی ہو جاتا ہے۔

 اس کےلئے اگر تنخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو حکومت کے پیٹ میںمروڑ اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں کہ خزانہ خالی ے اس لئے تنخواہوں میں اضافہ ممکن نہیں ہے مگر اپنے لئے اگر چالیس مشیربھی رکھنے ہوں کہ جن کا درجہ وزیر مملکت کے برابر ہو تا ہے تو خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا ، اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں تین سو فی صد اضافہ کرنا ہو تو بھی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا ‘ اسی طرح اگر ہر رکن اسمبلی کے لئے بلٹ پروف گاڑی مہیا کرنی ہو تو بھی خزانے پر کوئی بوجھ نہیںپڑتا‘ لیکن اگر کوئی غریب مستحق بندے کی تقرری کا سوال آ جائے تو محکمے کے پیٹ میں اور وزیروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں‘جب تک عمران خان اقتدار میں نہیں آئے تھے تو ہر چیز پر تنقید ہوتی تھی ‘ کہا جاتا تھا کہ اگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو سمجھو کہ وزیر اعظم چور ہے ‘اور اس چوری کی آوازیں اسمبلی میں اٹھائی جاتی تھیں کہ وزیر اعظم چور ہے مگر اب ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو عمران خان کے فارمولے کے مطابق وزیر اعظم چور ہے‘یا اگر وہ چور نہیں ہے تو چوروں میں گھرا ہوا ہے ‘ اب یہ فیصلہ خود ہی کر لیں کہ ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لئے کس کو چورسمجھا جائے‘ جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں‘ادھر سنتے ہیں کہ ملک کے بیس کروڑ عوام میں صرف ایک فی صد ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔

مگر دراصل ہماری نظر یں اس ملک کا ہر آدمی چاہے وہ امیر ہے غریب ہے اس ملک کے لئے ٹیکس ادا کر رہا ہے اور بے تحاشا ٹیکس ادا کر رہا ہے‘ مثال کے طور پر ایک خاندان اگر چار ہر ماہ اگر چار کلو دال استعمال کر رہا ہے جس کی قیمت آج تقریباً سات سو روپے بنتی ہے تو وہ 19 فی صد کے حساب سے 133 روپے ٹیکس دے رہا ہے‘ آٹے پر تقریباً دو سو روپے ٹیکس دے رہا ہے‘ گھی پر بھی تقریباً 200 روپے ٹیکس دے رہا ہے‘ چینی پر بھی تقریباً 150 روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے‘ اسی طرح سبزی تیل‘ گیس اور بجلی پر تقریباً600روپے ماہوار ٹیکس ادا کر ہا ہے‘ اس کے علاوہ دیگر ضروریات پر بھی د و تین سو روپیہ ٹیکس ادا کرتا ہے‘ یوں ایک خاندان جس میں پانچ چھ افراد ہیں وہ مہینے میں کم از کم دو ہزار ماہوارٹیکس ادا کرتا ہے ‘ اور جس خاندان میں آٹھ یا دس افراد ہیںاسی حساب سے وہ چار ہزار سے زائد ٹیکس ادا کر ہا ہے‘ اگر ہم بائیس کروڑ لوگوں کو خاندانوں میں تقسیم کریں تو یہ تقریباً چوالیس لاکھ خاندان بنتے ہیں( اگر ایک خاندان میں پانچ افراد گنے جائیں) یوں ٹیکس کی مد میں یہ لوگ آٹھ ارب اسی کروڑ روپیہ ماہوار ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ اس ٹیکس میںصرف اشائے ضروریہ کو شامل کیا گیا ہے‘ اس کے علاوہ بھی چار چھ کرور ٹیکس تو یہ غریب عوام ادا کر ہی رہے ہیں‘ ہاں یہ بڑے لوگ جن کی اپروچ ہے اور جو ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ڈرا دھمکا یا رشوت دے کوٹیکس بچاتے ہیں اُن کی با ت الگ ہے ، مگر وہ بھی اشیائے صرف میں ٹیکس ادا کر رہے ہیں‘ اگر ٹیکس کا عملہ دیانت دار ہو جائے تو ٹیکس میں اور بھی اضافہ ہوسکتا ہے مگر یہ کہنا قطعاً درست نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔