213

عید مبارک!

عید الفطر کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے خوشی اور کیوں نہ ہو‘مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے‘ رحمتوں اور برکتوں والے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد عید کی صورت میں جو خوشیوں کی سوغات ملتی ہے اس کی اہمیت ایک مسلمان روزہ دار ہی سمجھ سکتا ہے‘اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سر فہرست ہے‘اس دن ایک ناقابل بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے‘ اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے‘ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں اور یہ پورے ایک ماہ کی روحانی تربیت کا اثر ہی ہوتا ہے کہ فرزاندان توحید کو اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیںحاصل کی جاسکتی‘ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ پوسٹ مین موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی‘کیا بچے‘بوڑھے‘عورتیں سب کارڈکو چھو کر دیکھتے تھے‘ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرارہا ہوتا تھا یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوںکولگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔

بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے اور یکم رمضان سے ہی عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے‘شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے‘کارڈ تو رہا ایک طرف کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے‘البتہ سائنس ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی جو کارڈ20روپے میں مل جاتا تھا وہ 10پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے‘اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خرید نے مارکیٹ میں جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے‘عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو پوری دنیا کے مسلمان مناتے ہیں‘اور سب خوشی کا اظہار اپنے علاقائی کلچر کے مطابق کرتے ہیں‘پاکستان میںبھی لوگ ہر تہوار کو بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں اور ان مذہبی تہواروں میں بھی اپنی علاقائی رسمیں شامل کرکے اس کے لطف کو مزید بڑھا دیتے ہیں‘ضرورت اس امر کی ہے کہ عید جیسے تہواروں کی رنگینیوں میںاضافہ کرنے کےلئے حکومت ایک قدم آگے بڑھائے اور مہنگائی کو قابو میں کرکے کم از اکم ان خاص دنوں کو تو عوام کو کھل کر منانے کا موقع فراہم کرے‘عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔

،اور یہ اس اعتبار سے سچ بھی ہے کہ عید سے منسلک سرگرمیوں سے جو خوشی اور طمانیت بچوں کو ملتی ہے،وہ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا‘بچوں کوعید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی عیدی کا بھی ہوتا ہے‘نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لئے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے‘عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے‘ اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں‘ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی ،پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے،جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے‘لیکن اب ان کی قدر اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے،اسلئے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔