198

پاکستان اور پختون

برصغیر پرانگریزوں کے قبضہ کے بعدسے لے کر قیام پاکستان تک یہ پختون ہی تھے جنہوں نے انگریز سامراج کےخلاف مسلسل مسلح مزاحمت جاری رکھی اوراسی لیے ان کو انگریزوں نے تین حصوں میں تقسیم کردیاتھا جب انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلی تو اسی خطے سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبدالغفار خان نے پختونوں کی پہلی کامیاب اصلاحی تحریک کی بنیادرکھی تحریک اصلاح افاغنہ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے پختونوں کو سیاسی و تعلیمی شعوردلانے کی جوکوشش کی اس میں ان کی سرپرستی حاجی صاحب ترنگزئی نے بھی کی اس تحریک نے اس پورے خطے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے اورخود انگریز کو اس قدر خوفزدہ کردیاکہ وہ سرخپوشوں کے تانے بانے کمیونسٹ روس سے ملانے کی سازش پر مجبور ہوگئے تحریک پاکستان میں بھی پختونوں کاکردار اہم رہاہے باچاخان نے تمام تر سیاسی مخاصمتوں کے باوجودبھی قیام پاکستان کے بعدپاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کی رکنیت کاحلف اٹھاکر پاکستان کےساتھ وفاداری کااعلان کرکے باقی تمام آپشنز کاعملاً خاتمہ کردیا بدقسمتی سے ان کی وفاداری اس کے باوجود بھی مشکوک ٹھہرائی گئی اور ان کو مسلسل پریشان کیاگیا مگر انہوں نے کبھی بھی پاکستان کے خلاف بات کی نہ ریاست کےخلاف ہتھیار اٹھانے کااعلان کیا قیام پاکستان کے فوراً بعد جب بھارت نے طاقت کے بل پر ریاست کشمیرپر قبضہ کرلیا تو اس کے خلاف حکومت پاکستان کے اعلان مزاحمت پر پہلی جہاد کی پہلی صف میں غیور پختون ہی شامل تھے اور کے آزاد کشمیر کا وجودانہی کے جذبہ جہاد کے مرہون منت ہے۔

 ان سب کے باوجود پختونوں کےساتھ حکمرانوں کارویہ ناانصافی پرمبنی رہا اسی دوران سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا تب پاکستان پوری طرح سے دباﺅ میں تھا اور مشکلات کاشکارتھا مگر قوم پرست پختون قیاد ت نے اس ناز ک صورت حال سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی وگرنہ بیرونی عناصر آزاد پختونستان کاشوشہ پھر سے گرم کرنے کے خواہشمند تھے الٹا جب بچے کھچے پاکستان کے پہلے متفقہ دستور کی تشکیل کامرحلہ سر پر آیا تو پختون قوم پرست قیادت نے ہی سب سے زیاد ہ قربانی دی اس وقت حزب اختلاف کی سب سے بڑی اور پختونوں اور بلوچوں کی واحد نمائندہ جماعت نیشنل عوامی پارٹی تھی ولی خان اس کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے انہوں نے دستور کی متفقہ تشکیل کے لیے صوبائی خودمختاری کے اپنے دیرینہ مطالبہ کو پس پشت ڈال دیا بصور ت دیگر قوم کو کسی بھی صورت موجودہ آئین نہ مل سکتا اور اگر اس مرحلہ پر متفقہ آئین کی راہیں مسدودہوجاتیں تو ایک ایسے مرحلے پر کہ جب ہمارے ایک لاکھ سے زائد فوجی جوان بھارت کی قیدمیں تھے۔

،صورت حال کی سنگینی کااندازہ لگایا جاسکتاہے مگر پختونوں نے پاکستان کے لیے دیرینہ مﺅقف کی قربانی دے دی بعدازاں افغانستان پر روسی اور پھر امریکی حملے نے سب سے زیادہ پاکستان کی پختون آباد ی کو ہی متاثر کیاپہلے تو لاکھوں افغان مہاجرین نے پختونوں کی معیشت اور معاشرت کابیڑہ غرق کردیا پھر دہشتگردی کی لہر نے ا س خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو بھی سب سے زیادہ خون پختونوں کابہا خودکش حملوں نے تو جنازوں ،مساجد اور جرگوں کو بھی نہ چھوڑا مگر تب بھی پختون کی ریاست کے ساتھ وفاداری متزلزل نہ ہوسکی دہشتگردوںکے خلاف فوجی کاروائیوںمیں لاکھوں پختونوں کوبے گھر ہوناپڑا مگر حرف شکایت پھربھی زیان پر نہ لائے مرکز کی طرف سے پختونوں کے حقوق مسلسل سلب کیے جاتے رہے مگر مجال ہے کہ کبھی ریاست کے خلاف بات بھی لبوں پر آئی ہو پختون سب سے بڑا اور سب سے مخلص پاکستانی ہے ۔

اسے کسی سے حب الوطنی کی سند لینے کی ضرورت نہیں پختون من حیث القوم پکے پاکستانی تھے اور رہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ماضی کی غلطیوں اورکوتاہیوںکاکفارہ بھی اداکرنا ضرروی ہے خوش قسمتی سے عسکری اور سیاسی قیادت دونوںماضی کی غلطیوں کااعتراف باربار کرچکے ہیں اور ان کی طرف سے کفارہ کی ادائیگی کی یقین دہانی بھی ہوتی چلی آئی ہے تو پھراب وقت آگیا ہے کہ سب سے زیادہ محب وطن باشندوں کامزید امتحان نہ لیا جائے کیونکہ پختون ان حالات میں بھی غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے لیے تیار نہیں نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت پختونوں کو گمراہ کرسکتی ہے پختون اورپاکستاان لازم و ملزوم تھے اوررہیں گے مگر اب صرف لفاظی نہیں چلے گی دعوے نہیں چلیں گے زبانی کلامی حکمت عملی نہیں چلے گی پختون سرزمین پرسے غربت ،بیروزگاری ،پسماندگی و جہالت کے خاتمہ کے لیے تیز رفتار اور نظر آنے والے اقدامات ہی چلیں گے اور اس سلسلہ میں مزید تاخیر کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔