289

وفاقی کابینہ کاایجنڈا

وفاقی کابینہ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میںدائر کئے گئے ریفرنسز پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کومسترد کردیا ہے،حکومت کاکہنا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی مقدس گائے نہےں اطلاعات ونشریات کےلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ قانون سے کوئی بالا تر نہےں ججوں کےخلاف ریفرنس کے معاملے پر یقین ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل بھی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریگی اور یہ کہ حکومت ہر فیصلہ تسلیم کریگی کابینہ نے حج کا اضافی کوٹہ سرکاری اور نجی شعبے میں تقسیم کیا عید کے موقع پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت جاری کی کاروبار حکومت چلانے کےلئے یقینا وفاقی کابینہ کی سطح پر ہونے والے فیصلے ہی بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہےں کیبنٹ کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا اپنی جگہ اہمیت کا حامل ضرور تھا تاہم وطن عزیز میں جاری معاشی بحران اور اس کے نتیجے میں شدید ترین مہنگائی سے پیدا شدہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ وفاقی کابینہ سمیت ہر نمائندہ فورم کے اجلاسوں میں اسے سرفہرست رکھتے ہوئے اہم فیصلے کئے جائیں حکومت قومی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جس روز کابینہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے اس دن بجلی کی قیمت میں55 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی جاتی ہے دریں اثناءوطن عزیز کا اہم ادارہ پاکستان شماریات بیورو مہنگائی کے حوالے سے اعداد وشمار میں بتاتا ہے کہ ملک میں گرانی کی شرح 9.1فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔

اس حوالے سے موجود اعداد وشمار پر نظر ڈالی جائے تو ماہ مئی کے دوران گرانی گزشتہ مہینے کی نسبت1.3 فیصد بڑھی ہے جبکہ گزشتہ سال مئی میں مہنگائی کا اس سال سے تقابل کیا جائے تو مجموعی طور پر اضافہ تشویشناک ہے صرف پیاز کی قیمتوں سے متعلق مہیا اعداد وشمار کے مطابق ملک میں یہ اہم سبزی ایک سال کے دوران 78فیصد کے حساب سے مہنگی ہوئی یہی صورت دیگر اشیاءکے نرخوں میں بھی نوٹ کی گئی گرانی کے ساتھ ملاوٹ انسانی صحت اور زندگی کےلئے خطرہ بن گئی ہے بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے‘اس سب کےساتھ ملک میں عرصے سے جاری سیاسی تناﺅ میںالفاظ کی گولہ باری کاسلسلہ جاری ہے، اس تناﺅ میں بھی ضرورت کم از کم عوام کی مشکل سے جڑے اہم مسائل پر یکجا ہو کر حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے، یہ سب اس صورت ممکن ہے جب عوامی مشکلات کے حل کوعملی طور پر اولین ترجیح قرار دیا جائے۔


موثر ٹریفک پلان کی ضرورت

صوبائی دارلحکومت میں ٹریفک کامسئلہ وقت کےساتھ شدت اختیار کرتا چلا جارہاہے‘ عید الفطر کے قریب صورتحال تشویشناک صورت اختیار کر گئی اور شہر کی سڑکوں پر لوگوں کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا‘ ناقص منصوبہ بندی، پلاننگ کے عمل میں برسرزمین حقائق سے چشم پوشی اور سٹیک ہولڈرز کو مشاور ت میں شریک نہ کرنے کی روایت برقرار ہے‘ اس حقیقت سے چشم پوشی کی جار ہی ہے کہ اتنا بڑا مسئلہ تکنیکی مہارت کی حامل پلاننگ کا متقاضی ہے‘ ہمارے ہاں ٹریفک انجینئرنگ کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جاتی، تجاوزات کا خاتمہ ، تہہ بازاری پر پابندی اور فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کیلئے کلیئر رکھنا بھی ضروری ہے‘ صرف ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی مسئلہ کاحل نہیں ان اہلکاروں کو ایسی ٹریننگ دی جائے جو ایک قاعدے میں ہو اور اس قاعدے پر عمل کرنے کی ذمہ داری پھر یہ اہلکار نبھائیں۔