56

عمل کاوقت

ایف بی آر کے چیئرمین نے یہ توفرما دیا کہ ٹیکس نظام ملکی معیشت کےلئے خطرہ ہے اور یہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد ٹیکسےشن سسٹم میں شامل ہونے سے گریزاں ہے اور اس ضمن میں مسئلے کو کیسے حل کریں گے یہ تو وہی بات ہوئی ناں کہ بقول مارک ٹوین ہر کوئی انگلینڈ کے خراب موسم کا رونا روتا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں بتاتا کہ اسے ٹھیک کیسے کیا جائے‘ ایف بی آر کے چیئرمین کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کوئی نئی بات ہمیں تو نظر نہیں آئی ‘ یہ بھلا کس کو نہیں پتہ کہ 22 کروڑ آبادی میں صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں یایہ کہ بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31 لاکھ تاجروں میں سے 90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں یا یہ کہ ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ٹیکس شدہ دولت جمع ہو چکی‘ خالی خولی خط لکھنے سے کیا فائدہ ہوگا؟کچھ بھی نہیں‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم صاحب اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ فوراً سے پیشتر ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کا حکم دےکراس پر من و عن عملدرآمد کروائیں؟ انکے ارد گرد جو ان کے رفقائے کار بیٹھے ہوئے ہیں انکی اکثریت تو کبھی بھی ایسا نہ چاہے گی اب تک تو وزیراعظم صاحب ٹیکس چوروں کی منت زاری کر رہے ہیں کہ خدا را ٹیکس دیجئے گا اور ایڈمنسٹریشن منت زراری سے کبھی بھی نہیں چلا کرتی ہے ‘اس کےلئے آپ کو بولڈ فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں جو اکثر عرف عام میں غیر مقبول فیصلے قرار دئیے جاتے ہیں لیکن ان کو لئے بغیر ملک کی معیشت کاپہیہ چل ہی نہیں سکتا‘ بعض چیزیں تو اتنی عیاں ہیں کہ ان پر تو فوراً بیک جنبش قلم کاروائی کی جا سکتی ہے ۔

کیونکہ ریکارڈ پر ہر چیزموجود ہے کہ کون ہیں وہ لوگ جو محل نما بنگلوں میں رہائش پذیر ہیں جو کئی کئی کنالوں پرمحیط ہیں ؟ کون ہیں وہ لوگ جن کی اولاد ملک کے اندر یا باہر مہنگے ترین تعلیمی اداروںمیں سبق حاصل کر رہی ہے ؟ کون ہیں وہ لوگ جو ہر سال کئی کئی مرتبہ عرب امارات ‘یورپ اور امریکہ کے چکر لگاتے ہیں اور وہ بھی بزنس کلاس میں وہ ہوائی جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر اس لئے نہیں کرتے کہ وہ نہیںچاہتے کہ ان کے شانے عام آدمیوں کے شانوں کےساتھ ٹکرائیں‘ کون ہیں وہ لوگ جن کے بچوں کی شادیوں کے دعوت نامے دبئی سے چھپتے ہیں اورجوشادی کے سامان کی خریداری کیلئے عرب امارات جاتے ہیں‘ اس کیٹگری کے لوگوں میں ملک کے ہرطبقے کے افراد شامل ہیں‘لگائیے ان پر بھاری ٹیکس جو حصہ بقدر جثہ کے فارمولے پر ہو‘ بے شک اگر اس ضمن میں آپ صدارتی آرڈی نینس کابھی سہارا لیں تو اس ملک کاعا م آدمی اس کابرا نہیںمنائے گا لیکن اسکے لئے وزیراعظم صاحب پہلے عوام سے خطاب کرکے انکو اعتماد میں لیں ۔ جہاں تک یہ بات کہ لوگ ٹیکس دینے سے کیوں الرجک ہیں تو وہ اس لئے کہ ان کو یقین نہیں آ رہا کہ جو پیسہ ان سے ریکور کیاجائے گا ۔

وہ واقعی سوشل ویلفیئر کے کاموں پر خرچ ہو گا‘اس سے سکول ہسپتالوں ‘ سڑکوں اور پینے کے پانی کی سکیموں کا معیار بلند ہو گا‘سانپ کا ڈسارسی سے بھی ڈرتا ہے ماضی میں حکمرانوں نے اسے مال مفت دل بے رحم سمجھ کر اسے اپنے اللوں تللوں پر خرچ کیا اس لئے اس ضمن میں بھی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کےلئے گڈ گورننس کو یقینی بنانا ہو گا‘ اب دروغ بیانی اور جھوٹی پبلسٹی اور اشتہار بازی کا زمانہ نہیں رہا لوگ اب زبانی جمع خرچی کے بجائے عملی کاروائی دیکھنے کے منتظر ہیں جو سردست انہیں بالکل دکھائی نہیں دے رہی‘ امیر اور غریب کے درمیان خلیج ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے یہ جو ملک میں جگہ جگہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہورہا ہے اس حقیقت کی غمازی کر رہا ہے کہ لوگ بھوکے اور ننگے ہو رہے ہیں نوجوان بے روزگار ہیں‘ یادرہے کہ بھوکا پیٹ خطرناک ہوتا ہے اور اشرافیہ کو بھوکے اورننگے انسانوںسے ڈرنا چاہئے کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد ‘یہ نہ ہو کہ وہ خود تو ڈوبے ہوئے ہیں ہی وہ اپنے ساتھ اشرافیہ کوبھی کہیں نہ ڈبو دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔