80

ڈبڈبائی آنکھیں

 عید کا تہوارجب زندگی کے کسی خوشگوار یا دلخراش سانحے کے بعد پہلی بار آتا ہے تو اسکی موجودگی و اہمیت دو چند محسوس ہوتی ہے جیسے منگنی‘ نکاح یا شادی کے بعد نئے جوڑے یا پیدائش کے بعد کسی بچے کی پہلی عید وغیرہ‘ ایسی صورت میں عید کا اہتمام معمول سے کچھ زیادہ اور پورے اہتمام سے کیا جاتا ہے‘عجیب و غریب یعنی ناقابل یقین حقیقت ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں خیرات و صدقات کی ادائیگی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے‘اسلئے یہاں غریب لوگ بھی کسی نہ کسی طور عید کی خوشیوں میں اپنا حصہ تلاش کر ہی لیتے ہیں‘ہسپتالوں‘ یتیم خانوں‘ خیراتی اداروں حتیٰ کہ جیل خانہ جات میں بھی عید کے پھول کھلتے ہیں اور ہم وطنوں کے محبت بھرے بادلوں سے موسلادھار برسات برستی ہے! لیکن اگر غور کیا جائے تو ہمارے گردوپیش میں کچھ گھر ایسے بھی ملیں گے جہاں عید سعید پر خوشیوں کی بجائے سوگ منایا جا رہا ہوتا ہے بلکہ عید کے روز ان کے غم کی شدت میں اضافہ ایک فطری عمل ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ عید اپنے بے قصور پیاروں کے جسم بارود سے چھلنی ہونے کے بعد پہلی بار آتی ہے جسے اپنوں کی جدائی میں گزارنے کا کرب صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس تلخ تجربے سے عملاً گزرتے ہیں!بیس جنوری دوہزار انیس کے روز ساہیوال میں گولیوں سے بھون دیئے جانےوالے ذیشان کی معذور ماں اور ان کی معصوم بیٹی نے نیا جوڑاپہنا ہوگا؟ رواں برس ہی کی بات ہے کہ ماہ¿ فروری کے اواخر میں سیالکوٹ کے شاکر کو بھارتی جیل میں تشدد کر کے شہید کر دیا گیا اور اسے تھوڑی ہی دیر میں قید زنداں اور قیدحیات دونوں سے بیک وقت رہائی مل گئی۔

 یقینا تین مارچ کی صبح قومی پرچم میں لپٹے اسکے جسد خاکی کو دفنانے والے اہل خانہ کی آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہوئے ہوں گے! آٹھ مئی کے روز لاہور کے داتا دربار پر خود کش حملہ آور نے پانچ پولیس اہلکاروں سے انتقام لیتے ہوئے آٹھ دیگر لوگوں کے بھی پرخچے اڑا دیئے‘ یہ بات زیادہ پرانی تو نہیں لیکن ذرائع ابلاغ نے ایسے دکھوں کا شمار نہیں کیا‘ جن کی موجودگی میں پاکستان کس طرح پرمسرت عیدمنا سکتا ہے!؟ گیارہ مئی کو جب دہشت گردوں نے گوادر کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں گھسنے کی کوشش کی تو انہیں سب سے پہلی مزاحمت دینے والے محافظ ظہور کو اپنے سینے میں کئی گولیاں ٹھنڈی کرنا پڑیں!پاکستان بھول گیا کہ فرض کی خاطر جان دینے والے کے لواحقین و پسماندگان کےلئے اس مرتبہ عیدالفطر کیا پیغام لائی ہوگی اور وہ عید پر کیسے غم کی تصویر بنے بیٹھے ہوں گے! کیا ہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ننھی فرشتہ کے گھر صف ماتم بچھی ہو گی! کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سانحہ مکران اور سانحہ ہزار گنجی کو یاد تو کر رہی ہو گی؟ لمحہ فکریہ ہے کہ گنج شہیداں قبرستان میں فاتحہ خوانی کےلئے جمع کرنے والوں کا ہجوم ہر سال بڑھ رہا ہے! لورالائی کے ڈی آئی جی آفس پر حملے اور بلوچستان کے ضلع پنجگور میں جان دینے والے بارہ پولیس و سکیورٹی اہلکاروں کے گھروں میں اس مرتبہ عید الفطر کا چاند نکلا ہوگا؟ خفیہ ایجنسیوں کے گمنام شہید ہیرو‘ جن کا ذکر کہیں سننے کو بھی نہیں ملتا‘ آج ان کی جدائی محسوس تو ہو رہی ہے لیکن یہ قومی سوگ و غم کا محل نہیں! قرآن کریم کہتا ہے کہ شہداکو مردہ نہ کہا جائے بلکہ وہ تو زندہ ہوتے ہیں اور اپنے خالق سے رزق بھی پاتے ہیں تاہم اس کا شعور نہیں کیا جاتا۔

 وقت ہے کہ جنہوں نے پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کےلئے اپنی جانیں‘ انکی قربانیوں کو اعزازات دے کر فراموش نہ کیا جائے بلکہ عمل سے ثابت کیا جائے کہ ہم نہیں بھولے اور نہ ہی کبھی بھولیں گے! پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے لاشیں نہیں بلکہ یہاں صدمے جمع کرنا قومی معمول بن چکا ہے لیکن قوم کا درد سے تعلق معطل خاطرخواہ مسلسل نہیں‘تاریخ میں بے حس اقوام کبھی بھی مضبوط نہیں سمجھی جاتیں‘اب بھی دیر نہیں ہوئی‘ پنجاب کا ایک خوشحال گھرانہ بلوچستان میں اٹھنے والے کسی شہیدوں کے لاشوں پر نوحہ کر سکتا ہے۔ لاہور میں جامِ شہادت نوش کرنےوالوں کےلئے کراچی میں دعائے مغفرت ہو سکتی ہے۔ پشاور میں خون کی ہولی کھیلی جائے تو سندھ تڑپ سکتا ہے۔ سندھ میں گولی چلے تو پورا پاکستان خود کو چھلنی ہوتا محسوس کر سکتا ہے‘ پاکستان تو ایک جسم کی مانند ہونا چاہئے‘ کہ جس کے کسی ایک حصے میں درد ہو تو سارا جسم اس درد کی کیفیت کو یکساں محسوس کرتا دکھائی دے‘ ایبٹ آباد کے آفیسرز کالونی میں حضرت ابوایوب انصاری رحمة اللہ علیہ کے نام نامی سے منسوب مسجد میں تعمیر نو کے بعد پہلی عیدالفطر کا خطبہ سننے والوں کی کثیر تعداد اپنی خوشیوں میں دوسروں سے غم سے بے خبر تھی!اسی لئے ان کےلئے مسکراہٹوں اور قہقہوو¿ں کا تبادلہ آسان ہو گیا تھا!امید تھی کہ خطبے سے قبل تقریر میں مفتی وقار احمد تنولی صاحب پاکستان کی نذر ہونے والوں کو فرداً فرداً نہ سہی لیکن اجتماعی طور پر تو ضرور یاد کریں گے‘ انکا تذکرہ کر کے اجتماعی فاتحہ خوانی کی جائے گی‘ قرآن کی آیات اور درود شریف سے ان کا بھی ایصال ثواب کیا جائے گا‘ جنکے نام ہمارے حافظوں میں محفوظ نہیں رہے! اے کاش‘ ماضی کی غلطیوں‘ حملوں اور امتیازی روئیوں کی اصلاح کرنے کےلئے احساس و محسوسات کو ایک درجہ بلند کیا جائے! ڈبڈبائی آنکھوں کےساتھ قومی شعور تجدید چاہتا ہے‘ یقینا عید کا وہ دن ابھی نہیں آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔