103

سچی خوشی

 وہ بتانے لگا‘ دفتر والے چھٹی نہےں دے رہے تھے میں نے اعتکاف کا بہانہ کیا اور یوں مجھے آخری عشرہ اپنے گھر کے اے سی والے کمرے میں گزارنے کا موقع مل گیا‘میں نے اسکی باتیں سنیں تو کہا‘ اگر رمضان المبارک میں اعتکاف کےلئے چھٹی لی تھی تو اعتکاف میں بیٹھ جاتے وہ بولا! آپ درست کہتے ہےں مگر پچھلے برس کے تجربے نے مجھے مسجد کی طرف جانے نہ دیا میں نے دیکھا بیشتر اعتکاف والے عبادات کی بجائے اپنا زیادہ وقت لیپ ٹاپ یا موبائل پر گزارتے ہےں سو اس بار میں نے گھر میں مکمل ریسٹ کا پروگرام بنایا الحمدللہ روزے بڑے اچھے گزرے‘ سر سچی بات ہے ہم رمضان المبارک کا مکمل احترام نہےں کرسکتے دنےا دار جو ہوئے‘ یہ ساری باتیں ایک سرکاری نوجوان ملازم نے بتائیں جو اکثر مجھے حجام کے پاس ملتا ہے‘اتفاق کہہ لیں یا کچھ اور ہم ادھر اکٹھے ہی کٹنگ کرانے جاتے ہےں باتیں جاری تھےں کہ میری باری آگئی حجام نے قینچی کےساتھ اپنی زبان بھی چلانا شروع کردی بزرگو! بندوں سے کیا ڈرنا روزہ بندہ اللہ کےلئے رکھتا ہے ہم تومزدور پیشہ لوگ ہےں بعض اوقات سخت گرمی میں روزہ چھوٹ بھی جاتا ہے میں تو ایک شاگرد کے والد کو روزے رکھواتا ہوں جو روزے نہ رکھ سکوں اس کا دینی حل جو موجود ہے اصل میں اس مہینے اخراجات بھی بہت ہوجاتے ہےں افطاری کا خرچا ہے عید لینے والے بھی جان نہےں چھوڑتے سحری میں اس جدید دور میں جگانے کےلئے کسی ڈھول ٹین والے کی ضرورت نہےں ہے مگر بعض لوگ ڈھول بجا کر اب بھی جاگے ہوﺅں کو جگاتے نظر آتے ہےں۔

‘مگر ابھی عید ‘ایک دن پڑا ہے اور آگئے عیدی وصول کرنے‘ ایک زمانے میں عید کارڈ دےکر عید کی خوشی کا اظہار ہوتا تھا ان دنوں موبائل پر ہی مےسج سے ہر کام چل رہا ہے‘ غمی خوشی عید بقر عید پر وٹس اپ اور فیس بک پر ہی فرض ادا کرلیا جاتا ہے‘ کٹنگ مکمل ہوئی تو مجھے گوشت لینے کےلئے جانا تھا‘ قصائی مٹن گیارہ سو روپے کلو وصول کررہا تھا بولا!ڈاکٹر صاحب! عیدکی وجہ سے سو روپے زیادہ لے رہے ہےں منڈی سے 1050روپے فی کلو پڑا ہے‘بکرے مہنگے ہوگئے ہےں عید پر آپ کو پتہ ہی ہے ہر شے کو پر لگ جاتے ہےں‘عید کے بعدپرانا ریٹ بحال ہوجائے گا اور سرجی ہم تو بکریاں نہےں لاتے صرف دیسی بکرے لاتے ہےں آپ کو تو پتہ ہے؟ آپ چند منٹ انتظار فرمائیں میں باجی کو فارغ کرلوں پھر آپ کا قیمہ بناتا ہوں‘ میں نے مسکرا کر کہا میرا قیمہ نہ بناﺅ گوشت سے قیمہ بنانا اس پر دیگر گاہک بھی ہنسنے لگے۔افطاری کے بعد عید مانگنے والوں کی لائن لگ گئی پہلے مالی آیا پھر چوکیدار‘خاکروب ‘کارواش کرنےو الے سے لے کر الیکٹریشن تک نے عیدی کا مطالبہ کیا گھر کا کام کرنے والیوں کو صرف عید نہےں کپڑے بھی دینے پڑتے ہےں‘ مجھے اپنے بچپن اور گاﺅں کی عید یاد آگئی کس قدر خوشی سے بھرپور عید ہوا کرتی تھی اب تو عید پر سب کچھ ہوتا ہے خوشی نہےں ہوتی‘ یہ سالانہ اخراجات کا ایک بابرکت مہینہ ہوتا ہے رحمتوں کے اس مہینے میں ہر بندہ عید کمانے کی فکر کرتا ہے وہ روزہ رکھتا ہے نمازیں بھی پڑھتے ہےں اور اپنے کاروبار میں ساری چالاکیاں استعمال کرتے ہےں۔

 ملاوٹ کرنے ‘جعلی اور دونمبر اشیاءبھی فروخت کرنے سے باز نہےں آتے بیشتر مڈل کلاس کے مرد حضرات سوکر دن گزارتے ہےں‘ صبح عید پڑھ کر عزیزواقارب کو فون پر عید کی مبارک باددیتے ہےں فیس بک اور وٹس اےپ پر عید کی مبارک بادیں تو ایک دو روز قبل ہی شروع ہوجاتی ہےں صدقہ خیرات لینے والے عید کے روز بھی گھر سے نکل کر عیدی اکٹھے کرتے ہےں اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم جو فقط صرف اپنی عید کے لئے چوکس رہتے ہےں اور عید خوشی اور پرجوش انداز میں مناتے ہےں کیا ایسے میں وہ حقیقی ضرورت مند جومانگنے کےلئے اپنی زبان کسی کے آگے نہےں کھولتے کبھی ہمیں یاد آتے ہےں ؟ عید کی سچی خوشی حاصل کرنےو الوں کو مشورہ ہے کہ حقیقی اور سچی خوشی کےلئے آپ کسی چہرے پر خوشی بکھیرنے کی کوشش کریں اپنے ارد گرد ایسے خود دار ضرورت مند سفید پوش افراد کا کھوج لگا کر خاموشی کےساتھ ان کی مدد فرمائیں تب ہی ہماری عید سچی خوشی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔