96

وفاداری بشرط استواری

 خان اور اسکا میراثی اپنے گاو¿ں سے کہیں دوسرے علاقے کو جا رہے تھے۔ خان اپنے گاو¿ںسے باہر کہیں گیا ہوا نہیںتھاجبکہ میراثی سارے علاقے سے واقف تھا اور اس کو بہت سی اشیاءکا معلوم بھی تھا دونوںایک شہر میں جا نکلے ۔ شہر میں دکانیں ہر طرح کی اشیا ءسے سجی بھری تھیں ‘ایک سبزی کی دکان پرخان کو ایک ٹوکرے میں بینگن نظر آئے خوبصورتی سے سجے ہوئے ‘ اسے وہ بہت اچھے لگے ‘ وہ سمجھا کہ یہ کوئی اچھا پھل ہے‘اس نے میراثی سے کہا کہ یہ دیکھو کتنا اچھا پھل ہے ۔ میراثی نے بینگنوں کی بطور پھل تعریفیں شروع کر دیں کہ جناب یہ تو بہت ہی اچھا پھل ہے اور یہ صحت کےلئے بھی بڑا ہی مفید ہے۔ ذائقے میں بھی یہ اپنا ثانی نہیں رکھتا‘دکاندار کچھ دیر تک تو سنتا رہا مگر پھر اس سے صبر نہ ہوا ۔ وہ سمجھا کہ بندہ دوسرے شریف آدمی کو بنارہا ہے‘اس نے میراثی سے کہا یار کیوں اس شریف آدمی کو بنا رہے ہو ‘یہ کوئی پھل نہیں ہے یہ ایک سبزی ہے اور وہ بھی اتنی خاص نہیں ہے اسے بینگن کہتے ہیں اور اسکا سالن بناکر کھایا جاتا ہے‘میراثی نے کہا جناب میں خان کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں ‘میرے خان نے کہا ہے کہ یہ پھل ہے تو میرے نزدیک یہ پھل ہی ہے‘ اگر میرا خان کہے کہ یہ سبزی ہے تو میں بھی اسے سبزی ہی کہوں گا ۔ میں اپنے خان کا کھاتا ہوں کسی بینگن کا نہیں کھاتا‘اصل میں ہر بڑے آدمی کو اپنی تعریفیں کرنےوالے لوگ ہمیشہ پسند ہوتے ہیں ویسے بھی ہر انسان میں یہ حس توموجود ہوتی ہے کہ کوئی اسکی تعریف کرتا رہے‘ اور تعریف کروانے والے یہ نہیں دیکھتے کہ کہنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے وہ بات اس میں ہے بھی یا نہیں مگر تعریف کرنے والے کا یہ ہنر ہے کہ وہ اپنی بات کو اس طرح سے سناتا ہے کہ سننے والا اس پر اعتبار کر لیتا ہے‘ ۔

ہر بڑے آدمی کو یہ بیماری لا حق ہوتی ہے اور جب کسی بھی انسان کی تعریف کی جائے تو قدرتی امر ہے کہ وہ اسکی باتوں میں آجاتا ہے‘ ہمارے ایک دوست تھے کہ وہ چھٹیاں بہت کرتے تھے‘ہمارے پرنسپل کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور وہ بہت ہی شریف انسان تھے یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ایوب خان کےخلاف تحریک چلی تھی‘انہوںنے نظام حکومت یحےیٰ خان کے حوالے کر کے اپنے گھر کی راہ لے لی تھی اور ملک میں انتخابات کا اعلان کر دیا گیا تھا‘ہمارے دوست اکثر اوقات چھٹی پر ہی رہتے تھے اور پرنسپل صاحب بھی ان کو کچھ نہیں کہتے تھے دریں اثنا ءہمارے پرنسپل صاحب تبدیل ہو گئے اور ایک نئے پرنسپل آ گئے۔ جو ہمارے استاد بھی تھے ۔ انہوں نے آتے ہی اعلان کر دیا کہ کوئی بھی لےکچرار چھٹی نہیں کرے گا اور اگر بہت ضروری ہوا تو بھی پہلے سے چھٹی لے کر جائے گا۔ہمارے دوست کو اس کی بہت تکلیف ہوئی‘ اس دوران ہمارے کالج کا وزٹ ہمارے صوبے کے گورنر صاحب نے کیا شاےد وہ جنرل اعظم خان تھے( صحیح طرح نام یاد نہیں) صبح صبح پرنسپل صاحب اپنے دفتر میں بیٹھے اس وزٹ کی تصاویر دیکھ رہے تھے کہ ہمارے دوست دفتر میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئے تو انکے ہاتھ میں ایک ہفتے کی چھٹی کی منظور شدہ درخواست تھی جو وہ کلرک آفس میں جمع کروانے جا رہے تھے‘ ہم نے پوچھا یہ معجزہ کیسے ہو گیا‘ پرنسپل صاحب توایک دن کی بھی چھٹی دینے کے روادار نہیں ہیں‘آپ ایک ہفتے کی چھٹی کیسے لے آئے ہیں‘ ۔

تو انہوں نے بتایا کہ جب میں دفتر میں گیا تو پرنسپل صاحب گورنر صاحب کے وزٹ کی تصویریں دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھنے کو دیں تو میں نے دیکھتے ہی کہا کہ واہ سر آپ توگورنر کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت اور بارعب دکھائی دے رہے ہیں‘اس کےساتھ میں نے کچھ اور بھی تعریفی جملے کہے تو انہوں نے مجھ سے آنے کیوجہ پوچھی تومیں نے چھٹی کی عرضی دےدی‘انہوںنے فوراً ہی مجھے ایک ہفتے کی چھٹی دےدی در اصل یہ بڑے انسان کی وہ کمزوری ہے کہ جس سے ایسے لوگ فائدہ حاصل کر لیتے ہیں جن کو عوام کے ہاں کوئی پذیرائی بھی نہیں ملتی۔جیسے آج کل ہمارے بہت سے ایسے وزیر اور مشیر ہیں جن کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا مگر ان کی چاپلوسی کی خوبی ان کو اس بڑے عہدے پر لے آئی ہے‘ اور وہ اپنے اس عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑوں کا گریباں چاک کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔