56

یوم الجائزہ

 دن تو گزرنا تھے کہ انہیں روکا نہیں جاسکتا لیکن تلخ و شریں یادیں رہ جاتی ہیں‘ ماہ رمضان المبارک سے پہلے اور دوران اشیائے خوردونوش سمیت ہر جنس کی مصنوعی گرانی نے جہاں آمدنی کے لحاظ سے متوسط اور غریب طبقات کو متاثر کئے رکھا تو عید الفطر بھی زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوئی۔ یوں تو عید کا تہوار ماہ رمضان کے بعد آتا ہے لیکن منافع خوروں کی عید آخری عشرے کیساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے‘اس مرتبہ جوش و خروش بھی دیدنی رہا کہ پاکستان کے مسلمانوں کو عید پر خوشیاں منانے کا جنون اس قدر زیادہ تھا کہ انہوں نے ایک دن کی بجائے 2 الگ الگ روز عید کا پہلا دن پورے جذبہ ایمانی سے منایا۔ ہوائی فائرنگ پر پابندی کا اطلاق کی پرواہ بھی نہیں کی! لمحہ¿ فکریہ ہے کہ عید کا چاند نظر آنے یا نہ آنے سے مطلع کرنا مرکزی رویے ہلال کمیٹی کا کام ہے اور صد شکر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآءہو رہی ہے‘ اگر اس کمیٹی کے اراکین چاند دیکھنے کی بجائے ڈیم کی تعمیر کےلئے چندہ جمع کرنے نکل کھڑے ہوتے تو بھی قوم کیا کر سکتی تھی؟چاند نظر آنے یا نہ آنے کے اعلان میں تاخیر کے باعث بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ گویا یہ فریضہ الیکشن کمیشن ادا کر رہا ہے‘ ایسا بالکل نہیں‘ اگر الیکشن کمیشن یہ ذمہ داری ادا کر رہا ہوتا تو رویت ہلال کا اعلان عید کے دو روز بعد ہوتا اور پورا ملک عید منا چکا ہوتا! عید سے پہلے چاند رات آئی‘ جس پر حسب معمول خواتین کی بڑی تعداد مہندی لگوانے اور فیشن کروانے بیوٹی پارلر پہنچیں‘ وہ سمجھتی ہیں کہ انکے ہاتھوں پیروں پر کتھے جیسی منہدی لگائی گئی ہے لیکن دراصل انہیں چونا لگا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے‘ یہ چونا کیونکہ شوہروں ہی کو لگتا ہے اس لئے صرف وہی دیکھ پاتے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ بعض دل جلے شوہرچاند رات کو چونا رات کہتے ہیں۔ پاکستانی بہادر قوم ہے۔ وہ رمضان کی منافع خوری اور عیدی جیسی روایات سے نہیں ڈرتی! عید کا لازمی جز عیدی ہوتی ہے‘ اسی لئے پولیس والے عید سے ہفتہ قبل اور مہینے بعد تک اپنا حصہ وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں‘ درحقیقت عیدی کمال شے ہے۔ یہ بہت سے کھوئے ہوو¿ں حتیٰ کہ اجنبیوں سے بھی ملوانے کا باعث بنتی ہے جن کی دید کو آپ ترس چکے ہوتے ہیں یا دید کرناہی نہیں چاہتے‘ جیسے محلے کا خاکروب‘ جو سارا سال نظر نہ آئے لیکن عید کے موقع پر آ دھمکتا ہے جسے دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے کہ ’جانے کتنے دنوں کے بعد .... گلی میں آج چاند نکلا‘اسی طرح محلے کے وہ بچے جو عموماً سلام تک نہیں کرتے اور اگر کبھی انہیں کسی چھوٹے موٹے کام کا بولا جائے تو خود کو بالکل اسی طرح ناسمجھ اور نااہل ثابت کرتے ہیں‘ جس طرح آج کی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ بعض سیاستدانوں کی کارکردگی سے مایوس دکھائی دے رہی ہے لیکن عید کے روز یہی بچے اتنی عقیدت و سلیقے سے سلام کرتے ہیں‘ جیسے آپ آدمی نہ ہوں مزار ہوں اور یوں عید ملتے ہیں جیسے انہیں آپ ہی میں مامتا نظر آئی ہو‘ پھر آپکے سامنے یوں کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں ’حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے ’بچہ‘ ہوں اگرچہ میں ذرا سا۔‘ دراصل یہ عیدی کی خاموش فرمائشیں ہوتی ہیں‘ جنہیں بادل نخواستہ پورا کرنا پڑتا ہے۔ کم بچے خوش حال گھرانہ اور بچے دو ہی اچھے کے نعروں پر عمل کرنےوالے اس وقت پچھتا رہے ہوتے ہیں جب عزیز و اقارب چھ سے آٹھ بچوں کےساتھ عید ملنے نہیں بلکہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ عیدی صرف نقد ادائیگی ہی کا نام نہیں ہوتا۔

 اس تصور کےساتھ کئی ایسی باریکیاں بھی جڑی ہیں‘ جن پر غوروفکر کی ضرورت ہے‘ الحمد للہ پاکستان میں وہ طبقہ بھی پایا جاتا ہے جسکے پاس مالی وسائل کی فراوانی ہے۔ ایسے گھروں میں چھوٹوں کو پانچ ہزار کے ایک سے زیادہ نوٹوں سے عیدی دینا بالکل ایسے ہی بے معنی خوشی کا باعث بنتا ہے کہ جیسے قطب جنوبی کے کسی باسی کو ڈیپ فریزر یا ائرکنڈیشنر کا تحفہ دیا جائے! سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ دیر اب بھی نہیں ہوئی‘ پاکستان کے سیاستدان ایک دوسرے کوحسب توقع عیدی دے سکتے ہیں‘ جس سے انکے باہمی اور ملک کے حالات میں گھل جانےوالی تلخیوں کا اثر بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے‘مثال کے طور پر عمران خان‘ مریم نواز کو بطور عیدی لفافے میں ڈال کر جیل کی چابی دے سکتے ہیں۔

 جس سے نوازشریف کی رہائی ممکن ہو جائے۔ بلاول بھٹو کو نئے چیئرمین نیب کا تقرر نامہ دیا جاسکتا ہے جس پر انہیں صرف کسی من پسند فرد کا نام لکھنا ہو‘ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے کو خارجہ کمیٹی کی قیادت لفافے میں رکھ کر دی جا سکتی ہے جس پر ’تاخیر سے عید مبارک‘ کےساتھ لکھا ہو کہ ’جاو¿ کھیلو یہ لو جھنجھنا۔‘ اس مرتبہ بھی سیاستدانوں کی عید کیسے گزری‘ کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے احترام و ادب کو زیادہ ملحوظ رکھا۔ عید پر خبروں کی کمی دور کرنے کےلئے فلمی و ٹیلی ویژن ستاروں کی عملی زندگی میں اداکاری پر روشنی ڈالی گئی‘ صحافیوں کی نجی زندگی کے معمولات اس حد تک بیان کئے گئے اور موضوعات کی کمی اس قدر حاوی تھی کہ ایک نجی ٹیلی ویژن اینکر نے صحافیوں اور سینئر تجزیہ کاروں سے انکی پہلی اور موجودہ تنخواہوں کے بارے میں پوچھ پوچھ کر نیا پن پیش کرنے کی کوشش کی لیکن مجال ہے کہ حسب توقع کسی ایک نے بھی سچ بولا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ماہ¿ رمضان جھوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ ملاوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گناہوں سے اجتناب کی درسگاہ تھی‘ جو معاشرے میں اجتماعی طور پر خرابی کا باعث بنتے ہیں‘عید ایک ماہ کی تربیت مکمل کرنےوالوں کے لئے بطور انعام یوم الجائزہ تھا اور وقت ہے کہ رمضان اور عید الفطر مکمل کرنے کےلئے ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے قول و فعل کا جائزہ لے کہ اس نے کیا کمایا اور کیا گنوایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔