71

عیدکی چھٹیاں

 اس بار عیدکی چھٹیاں سرکاری سطح پر بھی طویل ہوگئیں حالانکہ سرکاری ملازمین کی اکثریت ویسے بھی چھٹیوں میں ازخود اضافہ کرنے کے کئی طریقے جانتی ہے مگر اپنی اتنی چھٹیوں میں بھی قلمی مزدور‘ یعنی صحافیوں کی محرومیوں کا کسی کو خیال نہیں آیا ہوگا اس بار تو خیبرپختونخوا کے صحافیوں کی یہ قربانی قابل تحسین ہے کہ صوبائی سطح پر عید ہونے کے باوجود دفتروں میں حاضر ہوئے اورقائین تک اخبار پہنچانے کیلئے کام کیا‘ صحافیوں کا کام ایسا ہوتا ہے کہ اس میں کام چوری کی کوئی صورت نہیں ہوتی رپورٹر نے خبر فائل کرنی ہوتی ہے سب ایڈیٹر نے خبر کو خبریت کے مطابق مقام دےنا ہوتا ہے‘ ڈیزائنر نے صفحات کو ترتیب دینی ہوتی ہے‘ کالم نویس نے لکھناہوتاہے‘ایڈیٹوریل عملے نے ترتیب دینی ہوتی ہے تب جاکر پریس میں سے اخبار بن کر نکلتا ہے‘ اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں اور پھر عید کے دن اخبار فروش نماز عیدسے پہلے گھر گھر اخبار پہنچاتاہے یہ کوئی آسان کام نہیں مگر اخباری کارکنوں اور قلمی مزدوروں کی کسی کو قدر ہے نہ ہی ان کی محنت کا احساس‘ بہرحال یہ ہمارا المیہ ہے ہم اکثر آپس میں اس بات پر بھی خوش ہو لیتے ہیں کہ صحافی وہ مزدور ہیں جن کی یوم مزدور پر بھی چھٹی نہیں ہوتی لیکن ذمہ داری اتنی سخت اور حساس ہے کہ اس سے کسی طور بھی راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی‘یہ میں اپنا دکھڑا لے کر بیٹھ گیا حالانکہ اس وقت شاید ہی کوئی طبقہ ایسا ہو جو خوش یا مطمئن ہو حتیٰ کہ پہلی بار حکمران طبقہ بھی پریشان ہے موجودہ حکمرانوں کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت کیسے چلائیں۔

 وزراءکو اور کوئی کھابہ نہیں مل رہا ظاہر ہے کوئی کام ہو تو کسی کو کھانے کا موقع ملے ‘لے دے کے اپنے کسی رشتہ دار کو کوئی نوکری یا عہدہ دلوانے کی کوشش کریں تو بھی ناتجربہ کاری کے باعث پکڑے جاتے ہیں‘ سابقہ حکمرانوں کو اپنی حکمرانی کے دور کی چالاکیوں کا حساب کتاب دیناپڑرہا ہے اسلئے اقتدار کے دونوں احزاب‘ حزب اقتدار و حزب اختلاف بھی اس بار عوام کے برابر ہیں کہ سب کی مستقبل کے ہولناکی سے نیندیں اڑی ہوئی ہیں‘حکومت کو اسوقت جو مسئلہ درپیش ہے وہ بجٹ پیش کرنے سے زیادہ بجٹ منظور کرانے کا ہے‘ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر تو کہیں نہ کہیں تیار ہو چکی ہوگی پاکستانی حکام نے صرف اس کا اردو ترجمہ ہی کرنا ہوگا شاید اعدادوشمار میں کسی ترمیم یاردوبدل کا اختیار نہیں ہے اور عوام اس میں کسی طور مزاحم نہیں ہو سکتے البتہ ایک آئینی طریقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے اور اس وقت قومی اسمبلی میں حکومت اکثریت کھوچکی ہے‘ ہوسکتا ہے کہ منظوری سے پہلے نئے وعدے اور دعوے کرکے حکومت ناراض اتحادیوں کو منانے میں کامیاب ہو جائے لیکن تادم تحریر مشکل برقرار ہے اور بجٹ پر اپوزیشن یا حکومت کے بعض حلیفوں کی ناراضگی کی وجہ عوام سے ہمدردی یا عوام کیلئے ریلیف نہ ہونا نہیں ہے بلکہ یہ انکے اپنے مسائل اور مطالبات ہیں جن کو منوانے کیلئے دباﺅ بڑھایا جارہا ہے اگر حکومت نے انکے مطالبات مان لئے تو عوام دشمن بجٹ منظور ہو جائے گا اس بار فوج نے قبل از بجٹ ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کی پیشکش کرکے حکومت کو ترغیب دی ہے کہ وہ بھی بچت کے راستے تلاش کرے ‘فوج نے اپنی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہ کرنے کی پیشکش کرکے قوم کی معاشی مشکلات میں اپنا حصہ ڈال کر احساس ہمدردی ظاہر کیا ہے۔

 اس سے قبل2009ءمیں فوج نے اسلام آباد میں جی ایچ کیو کی تعمیر موخر کرنے کا اعلان کرکے حکومت کی مالی مشکلات میں یکجہتی کا اظہار کیا تھا اب پھر ایسا کیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوج کی قیادت ملکی معاشی حالات سے باخبر ہے‘حکومت بجٹ میں عام شہریوں کیلئے توکوئی ریلیف نہیں دیتی البتہ آبادی کا بمشکل 3فیصد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کچھ اضافہ کرکے اپنی عوام دوستی کا ثبوت دیتی ہے ‘اس بار یہ بھی مشکل نظر آرہا ہے اور جو محدود لوگ کسی حد تک فائدہ اٹھاتے تھے وہ بھی مایوس نظر آتے ہیں‘پرائیویٹ کام کرنے والے اور دیہاڑی دار تو بس حالات کے رحم و کرم پرہی رہتے ہیں‘انکے تحفظ کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں ہے انسانی بہبود اور سماجی ترقی کی الگ وزارت تو قائم ہوگئی ہے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام و بیت المال جیسے اداروں کے ذریعے نادار لوگوں کی امداد کے طریقے اپنائے جارہے ہیں مگر اسکے تحت پہلی حکومتوں نے ہی اتنے مستحقین بنا رکھے ہیں اس قسم کی امداد نہیں لے سکتے جس طرح صحافیوں کی چھانٹیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باوجود یہ سفید پوش طبقہ کسی سرکاری ادارے سے امداد نہیں لے سکتا یاد رہے کہ صحافیوں میں 95 فیصد ایسے ہیں جنکا محدود تنخواہ پر ہی گزارہ ہوتا ہے صرف5 فیصد ایسے ہیں جو خوشحال ہیں بلکہ عام صحافی تو یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وسائل سے زیادہ اثاثے اور آسائش رکھنے والے صحافیوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے اب اگر جج اور جرنیل بھی کٹہرے میں کھڑے کردیئے گئے ہیں تو جرنلسٹ بھی قانون سے بالا نہیں ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہئے مگر عجیب بات ہے کہ یہ مطالبہ بھی صحافیوں کی طرف سے ہی آتا ہے کسی سیاستدان نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا حالانکہ صحافیوں سے زیادہ شکایات سیاستدانوں کو ہی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔