187

کریک ڈاﺅن کا عندیہ

وزیراعظم عمران خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس وصولیاں بڑھانے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کردی ہے‘ وفاقی حکومت کی جانب سے 30جون کے بعد ٹیکس چوروں کیخلاف کریک ڈاﺅن کا عندیہ بھی دیدیا گیا ہے‘حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم اور ٹیکس ریٹرنز کی تاریخ میں توسیع سے جو بھی فائدہ نہ اٹھاسکے اسے کوئی رعایت نہیں دی جائیگی‘ دریں اثناءمعلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات ملنے کیساتھ ایف بی آر نے فوری کاروائی شروع کردی ہے‘ معلوم یہ بھی ہوا ہے کہ ملک میں فیلڈفارمیشنز سے معلومات بھی مانگ لی گئی ہیں‘ اس مقصد کیلئے 11جون کی ڈیڈلائن دی گئی ہے‘ 11جون ہی کو حکومت نئے مالی سال کیلئے قومی بجٹ پیش کرنے کااعلان کرچکی ہے‘ جس میں اربوں روپے کے نئے ٹیکس بھی عائد کئے جانے کا خدشہ ہے‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات قومی بجٹ کے بغیر ہی ہر ماہ مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں‘ یہ بات بھی جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ متعدد مرتبہ قومی بجٹ میں نئے ٹیکس عائد ہونے کیساتھ مصنوعات کی ریٹیل پرائس میں ان کا اندراج ہوجاتا ہے جبکہ غریب صارفین سے وصولی ہوجانے کے بعد حکومتی اداروں کو ادائیگی مشکلات کا شکار ہی رہتی ہے‘ انگریزی روزنامے کی خصوصی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ عالمی بینک اور ایف بی آر نے شوگر‘ سٹیل اور سیمنٹ کے شعبوں میں ایک بڑا ٹیکس گیپ بتایا ہے۔

 تجزیاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ٹیکس وصولی میں سالانہ 100 سے لیکر 150ارب روپے کا اضافہ صرف ان سیکٹرز پر توجہ مرکوز کرکے کیاجاسکتا ہے‘ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 89میں سے 15شوگر ملیں سالانہ جنرل سیلز ٹیکس کا 59.3فیصد حصہ ادا کرتی ہیں جبکہ 80فیصد شوگر ملیں جی ایس ٹی کی مد میں سالانہ صرف 250ملین روپے دیتی ہیں‘ یہ اعداد وشمار 2017-18کے مالی سال سے اخذ کئے گئے‘ عالمی بینک اور ایف بی آر کی تجزیاتی رپورٹ میں اصلاح احوال کیلئے متعدد تجاویز بھی دی گئی ہیں‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاہم اس سارے عمل میں یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ غریب اور متوسط شہریوں پر بوجھ کم سے کم پڑے‘ یقینی یہ بھی بنانا ہوگا کہ اس شہری کو کم ازکم مارکیٹ کنٹرول کرکے مہنگائی اور ملاوٹ کے حوالے سے ریلیف دیاجائے‘ یقینی یہ بھی بنایاجائے کہ دوائی سمیت ہرچیز پر ٹیکس ادا کرنے والے شہری کو سروسز کی فراہمی کا معیار بھی بہتر ہو‘ اس تلخ حقیقت سے چشم پوشی نہیں ہونی چاہئے کہ موجودہ معاشی منظرنامے میں غریب‘ متوسط شہری اور تنخواہ دار طبقے کے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

آتشزدگی کے واقعات

صوبائی دارالحکومت کے علاقے نوتھیہ میں گزشتہ روز لگنے والی آگ میں 60 کیبن راکھ ہو گئے‘ آگ سے بعض مکانات کو بھی نقصان پہنچا‘ آگ پر قابو پانے کی کوشش میں پانچ اہلکار بھی جھلس گئے‘آگ لگنے کی وجہ تو انکوائری رپورٹ میں ہی سامنے آئے گی‘ ذمہ دار اداروں کو آتشزدگی کی وجوہات خصوصاً شارٹ سرکٹ کے حوالے سے اقدامات یقینی بنانا ہوںگے‘ عوام میں آگہی کے حوالے سے مہم بھی ضروری ہے‘ اس سب کیساتھ آتشزدگی یا کسی بھی قسم کی ایمرجنسی میں ریسکیو آپریشن کیلئے ٹریفک نظام میں بہتری لانا ہوگی‘ اندرون شہر کی ٹریفک میں فائر فائٹرز اور ریسکیو سٹاف کی موومنٹ سوالیہ نشان ہے‘ اس مقصد کیلئے مین سڑکوں پر ٹریک بنانے یا پھر بی آرٹی کے استعمال پر غور کا آپشن بھی موجود ہے۔