50

ایک نیام میں کئی تلواریں

انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ جس کا قریب ترین ترجمہ کچھ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ باورچی مل کر کوئی کھانا تیار کریں گے تو وہ اس کا حشر نشر کر دیں گے‘ کچھ اس قسم کی کیفیت اور حال اس ملک میں مرکزی اورصوبائی حکومتوں کابھی ہے کہ جن کی بعض وزارتوں میں وزیراعظم صاحب اوروزرائے اعلیٰ صاحبان نے ایک ہی کام کے لئے کئی کئی مشیر باتدبیر لگا رکھے ہیں‘ فواد چوہدری اوروفاقی وزراءکے درمیان حالیہ نوک جونک سے اس بات کی ایک ہلکی سی جھلک ضرور ملتی ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کے اندر منتخب اور نامزد رہنماﺅں کے درمیان سیاسی چپقلش ضرور موجود ہے‘ جمہوری نظام میں ہر سیاسی پارٹی کے اندر مختلف آراءرکھنے والے اراکین کے درمیان کئی امور پر اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے لیکن عقلمند اور دور اندیش پارٹی لیڈراپنے میلے کپڑے عوام کے سامنے دھونے نہیں دیتے‘ایک دورتھاکہ جب مرکزی اور صوبائی حکومت کا ایک ہی ترجمان ہوتا جو ہر مسئلے پر حکومت کے موقف کا عوام کے سامنے اظہار کر دیا کرتا جس طرح کہ فارن آفس کے کانفرنس روم میں وزارت خارجہ کا ترجمان میڈیا کے نمائندوں کو طلب کرکے ہر اس خارجہ امور کے مسئلے پر حکومت کا موقف بیان کر دیتا ہے کہ جس پر عوام کواعتماد میں لیناضروری ہوتا ہے۔

یہی حال افواج پاکستان کا بھی ہے وہاں بھی آئی ایس پی آر کا سینئر ترین فوجی افسر ضرورت کے وقت کسی بھی اہم مسئلے پر افواج پاکستان کا موقف ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بتا دیتا ہے ‘سیاسی حکومتیں البتہ اس معاملے میں بدنظمی اور انتشار کا شکار رہی ہیں ‘کئی وزارتوں میںایک ہی کام کے لئے وزیراعظم صاحب اور وزرائے اعلی نے ایک سے زیادہ افراد رکھے ہوئے ہیں‘اس لئے عوام کو بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہےں‘ یہ بھی دیکھا گےا ہے کہ یہ مشیر آپس میں بھی کئی امور پر متضاد خیالات رکھتے ہیں‘ تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ان مشیروں میں بعض شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں ان کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ وزیراعظم صاحب اور وزرائے اعلیٰ صاحبان کے ساتھ ان کے فوٹوز بھی اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنیں‘ سیاست دان کیا ہر دوسرا شخص ذاتی پبلسٹی کا بھوکا ہوتا ہے اخبارات کے صفحات پر اپنا فوٹو دیکھ کر اس کا خون کئی من زیادہ ہوجاتاہے سیاسی مخالفین کواگر حکمرانوں سے زیادہ فوٹو کوریج ملے تو وزراءکا خون کھولتا ہے‘ یوسف خٹک مسلم لیگ سے تعلق رکھتے تھے وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے رکن تھے ایک مرتبہ کسی اخبارنے صفحہ اول پریوسف خٹک کی تصویر کہیں اوپر لگا دی اوربھٹو کی نیچے‘ اس پربھٹو صاحب کا فی سیخ پا ہوئے اور انہوںنے اس وقت کے پی آئی او کی خوب کچھائی کی اوراپنا سارا غصہ اس پر نکالا‘ الیکٹرانک میڈیا کے آ جانے سے تو اب سیاسی لوگ اس معاملے میں مزید حساس ہوگئے ہیں۔

 آج کل ایک دوسری سیاسی مخلوق نے بھی جنم لیاہے جسے عرف میں پولےٹیکل سیکرٹری کانام دیاگیاہے‘اکثر حکمرانوں نے اپنے ساتھ ایک پولےٹیکل سیکرٹری بھی لگا رکھا ہے جو ان کے سیاسی معاملات دیکھتا ہے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ صدر مملکت ‘ وزیر تعلیم اورگورنروں کے ساتھ یہ جودائیں بائیں ملٹری سیکرٹری اور اے ڈی سی تعینات ہیں ایک جمہوری معاشرے اور نظام میں بھلا ان کی کیاضرورت ہے ‘ہاں اگر ملک کا سربراہ کوئی فوجی جرنیل ہو تو پھرتوان عہدوں پر تعینات پروٹوکول افسران کی تعیناتی سمجھ میں آتی ہے کیا یہ بہتر بات نہیں کہ صدر مملکت ‘ وزیراعظم اور گورنر اپنا کام پرائیویٹ سیکرٹری سول سرونٹ کے ذریعے چلائیں‘ اب یہاں تو کوئی لارڈ ماﺅنٹ بیٹن موجود نہیں کہ جس کے دائیں بائیں کسی ایم ایس یا اے ڈی سی کی ضرورت ہو‘ان نمائشی قسم کی آسامیوں کو اگر ختم کر دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں جہاں تک امن عامہ کا تعلق ہے اس بارے میں بہتر تویہ ہو گاکہ اس بارے میں ہر صوبے کے ہوم سیکرٹری کو یہ ٹاسک دے دیا جائے کہ وہ صوبائی حکومت کے ترجمان کے طورپر کام کرے‘ مرکز میں یہ ذمہ داری وزارت داخلہ کے سیکرٹری کے حوالے کی جا سکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔