202

گلابی نمک کے بھارت کو فروخت

نہ جانے یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا ہے کہ پاکستان میں پایا جانے والا نایاب گلابی نمک یہاں سے مٹی کے بھاﺅ بھارت خریدتا ہے اور خوبصورت پیکنگ اور ہمالیہ کا قدرتی نمک کا لیبل لگاکر کئی ہزار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرتا ہے قطع نظر اس بات کے کہ بھارت ہمیں ہر معاملے میں چونا لگاتا ہے اس بات پر داد دی جانی چاہئے کہ وہاں کے مخصوص سادھو اور ہندو پروہت بڑی چالاکی سے دنیا کو بے وقوف بناکر نہ صرف جڑی بوٹیاں بلکہ گائے کا پیشاب اورگوبر بھی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ‘ بھارت میں اپنے استعمال کیلئے معدنی نمک نہ ہونے کے برابر ہے صرف ہماچل کے صوبے میں ایک جگہ’ منڈی‘ میں نمک کی کان دریافت ہوئی ہے وہاں سے بھی کالا نمک ہی نکل رہا ہے پاکستان میں کھیوڑہ سے نکلنے والا گلابی نمک نایاب سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ بھی ہے اگرچہ بھارت سے پہلے برطانوی کمپنی آئی سی آئی یہاں سے سوڈاایش نکال کرلے جاتی ہے جو ایک مہنگا کیمیکل ہے اور ادویات سمیت مختلف چیزوں میں استعمال ہوتا ہے آئی سی آئی کےساتھ بھی ہم اسی قسم کے معاہدے میں بندھے ہوئے ہیں جیسا معاہدہ اینٹوں کے بھٹے کے مالک اور مزدوروں کے درمیان ہوتا ہے اور مزدور بے چارے سالہاسال خاندان سمیت بےگار سہتے رہتے ہیں‘ کھیوڑہ سالٹ مائنز میں بھی اصل فائدہ برطانوی کمپنی ہی حاصل کرتی ہے ہمارے لئے بس اس میں یہی فائدہ ہے کہ قریبی اضلاع کے سکولوں کے طلبہ یہاں آتے ہیں اور اس قومی اثاثے کو دیکھ کر مرعوب ہوتے ہیں‘ اب کھیوڑہ کے نمک کو سستے داموں خرید کر دنیا میں مہنگا فروخت کرنے کی بھارتی تجارت کے بارے میں ہمیں کیا پتہ چلنا تھا یہ بھی کسی سمندر پار پاکستانی نے دیکھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا اب تو حکومت نے بھی نوٹس لے لیا ہے‘۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری جو خود ضلع جہلم کے رہنے والے ہیں جہاں سے یہ نمک نکلتا ہے وہ رمضان میں تو چاند کے دیکھنے سے نجات دلانے اور ایک عید کرنے کی مہم پر تھے اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کھیوڑہ کے نمک کی بھارت کو فروخت کی انکوائری کرائےں گے‘ ممکن ہے کہ زرمبادلہ کی کمی کی شکار حکومت اس ذریعہ کو ریگولرائز کرنے کا کوئی فارمولا بنالے مگر گلابی نمک ہی واحد معدنی دولت نہیں ہے جو دوسرے یہاں سے لیکر جاتے ہیں اور کئی ہزار گنا منافع کماتے ہیں‘ یہاں سے سونا اور تانبہ بھی ہم خود نہیں نکال سکتے اور نہ اپنی مرضی کی قیمت پر فروخت کرسکتے ہیں‘ بلوچستان میں سینڈک اور ریکوڈیک منصوبے برائے نام معاوضے پر دوسروں کے حوالے کردیئے گئے اب ہم صرف تماشہ دیکھ سکتے ہیں ان کو روک نہیں سکتے اور جب تک یہاں سے سونا اور تانبہ نکالنے کی لیز ختم ہوگی ذخائر کا کثیر حصہ غیر ملکی کمپنیاں نکال کر لے جائینگی ایسی بین الاقوامی کمپنیاں عالمی مافیا کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کو عالمی عدالت انصاف کا تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے اگر ہماری حکومت ان سے معاہدہ ختم کرے تو بھاری جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے اب سونا مٹی کے بھاﺅ باہر جارہا ہے تو ہم نہیں روک سکتے نمک کے بارے میں کون پریشان ہوگا۔

 ہمیں اس بات کا افسوس نہیں کہ ہمارا نمک سستاجارہاہے بلکہ اس بات کا ہے کہ اس سے بھارت زیادہ منافع کیوں کما رہا ہے لیکن یہ افسوس اور غم وغصہ بھی صرف عوام کی حد تک ہی ہے حکمران طبقے کو اس کی زیادہ پرواہ نہیں اور نہ ہی وہ اس سے بے خبر ہیں جہاں تک ملک و قوم اور اس کے اثاثوں کی لوٹ مار کا درد ہے تو یہ صرف عوام میں ہی پایا جاتا ہے حکمران طبقہ تو اس لوٹ مار میں حصہ دار اور سہولت کار ہوتا ہے اتنی معمولی باتوں پر وہ زیادہ پریشان نہیں ہوتا ‘ابھی رینٹل پاور منصوبوں میں کرپشن کرنے والے کا ہمیں پتہ نہیں چل سکا مگر کار کے کمپنی نے ہم پر50 ارب ڈالر ہر جانے کا کیس جیت لیا ہے جبکہ یہ معاہدے کرنے اور ہرجانہ ادا کرنے کی شرط رکھنے والوں کو ہم ابھی تک گرفتار بھی نہیں کرسکے عالمی ادارے اور کمپنیاں جو دیدہ دلیری سے ڈاکہ ڈالتی ہیں تو یہ حکمرانوں کی چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں اب یہ حقیقت ہے کہ ہماری موٹر ویز اور ریڈیو پاکستان کے اثاثوں سمیت اہم قومی حساس اثاثے سابق حکومت نے قرضے کے بدلے گروی رکھے ہوئے ہیں کیا اس پرکسی کو شرمندگی کا احساس ہے؟نمک کی بھارت کو فروخت کا کون احساس کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔