56

بچپن کا ساون اور کاغذ کی کشتی

میرا گزشتہ کالج ”بچپن کا ساون....“ پشاور کی گرمیوں اور گرمیوں کے روزوں کے بارے میں تھا جس میں ‘میں نے اپنے بچپنے اور لڑکپن کے روزوں کی تفصیل بیان کی تھی ‘ کالم کے چھپنے کے بعد بہت سارے دوستوں نے کالم پر تبصرہ کیا بلکہ اس موضوع پر اپنے مشاہدات کا ذکر بھی کیا ‘رمضان آیا اور پھر رخصت بھی ہوگیا لیکن اس کی خوشگوار یادیں اب بھی باقی ہیں ‘ چاہتا ہوں کہ دوستوں کے کامنٹ آپ کے ساتھ شیئر کروں۔
کینیڈا صوبے برٹش کولمبیا سے پروفیسر عاشق علی شاہ لکھتے ہیں کہ ہمیں رمضان کا کچالو پیڑہ اور لال چٹنی (میوے اور خوبانی والی) کیسے بھول سکتی ہے وہ مغرب کی آذان سے پہلے گلی میں بچوں کے شور کا ذکر بھی کرتے ہیں اور ساتھ یہ مشہور ہندکو متل بھی کہ ہانڈی وچ کواب‘ روزے داروں نوں ثواب اور ہانڈی وچ نوالہ‘ تے خوجے خوراں دا مونہہ کالا‘ وہ سحری کے وقت ڈھول کی تھاپ اور مداخوانوں کی خوبصورت مداخوانی کا بھی ذکرکرتے ہیں ‘عاشق صاحب کے دل و دماغ پر اب بھی پشاور شہر کی گہری چھاپ لگی ہوئی ہے ۔

پشاور شہر کی ایک نامور شخصیت ڈاکٹر نسیم اشرف کو اب بھی افطار اور سحری کے وقت بجنے والا کگھو نہیں بھولتا گلی کے کونے والی مسجد سے مغرب کی آذان سنائی دے یا نہ دے ‘ کگھو کی آواز تو سارے شہر پر چھاجاتی تھی۔میرے دوست ڈاکٹر ساجد مقبول نے لاہور سے پیغام بھیجا ہے کہ آپ کے کالم سے پرانی یادیں تازہ ہوگئیں‘ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کئی جگہوں پر اب بھی وہی سماں دیکھنے میں آتا ہے جسکا ذکر کالم میں ہوا تھا‘ساجد صاحب کا تعلق لاہور سے ہے لیکن رمضان کے حوالے سے ہماری بہت سی رسمیںمشترک ہیں۔
ہمارے ایک اور جید ‘اور ٹھیٹ پشاوری دوست ارشاد احمد صدیقی نے نیو میکسےکو ریاست کے ابا کر کی شہر سے پیغام بھیجا کہ آپ کا کالم پڑھتے پڑھتے میں پشاور پہنچ گیا ‘ انہوں نے بھی سحری کے پراٹھوں اور دودھ کا ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ سحری کے وقت والدہ زیادہ پانی پینے پر اصرار کرتی تھیں ‘بہرحال ارشاد ایک مشاق اور چابکدس لکھاری اور افسانہ نگار ہیں چاہیں تو وہ اس موضوع پر ایک خوبصورت ست رنگی تحریر لکھ سکتے ہیں۔
میرے عزیز اور بزرگ دوست ستیہ پال آنند صاحب نے کالم پڑھنے کے بعد لکھا کہ مجھے شدت سے گھر یاد آرہا ہے۔ آنند صاحب اپنے آپ کو پشاوری کہتے ہیں ۔ ان کا ننہال اور سسرال اندر شہر کے علاقے میں تھا۔

ہر محلے میں کوئی نہ کوئی سحری کے لئے لوگوں کو جگانے کا ذمہ لے لیتا تھا ہمارے محلے (مسلم مینا بازار) میں ہمار امحلہ دار غازی عبدالجلیل نے اپنے آپ پر ڈیوٹی لگا رکھی تھی ۔ آپ میں سے بہت لوگ اس کے نام اور شخصیت سے واقف ہوں گے ‘ سن تیس کی گولی چلتے وقت عبدالجلیل بھی قصہ خوانی بازار میں موجود تھا ایک گولی اس کی ٹانگ میں لگی جس کی وجہ سے اس کی ٹانگ کاٹنی پڑی‘ اس کے بعد وہ دو بیساکھیوں پر گشت کیا کرتا تھا۔ سحری کے وقت وہ بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اپنی بیساکھیوں پر چکر لگاتا اور بار بار چکر لگاتا اور باآ واز بلند کہتا کہ روزے دارو‘ اٹھو سرگی دا ٹیم اے ۔ حق مغفرت کرے کیا مخلص انسان ہوا کرتے تھے۔
رمضان کے آخری دو ہفتوں میں رات کے وقت قصہ خوانی بازار چمک اٹھتا تھا‘ کتابوں کی دکانیں کھلی ہوتی تھیں ‘ اس کے علاوہ بند دکانوں کے تختوں اور تھلوں پر عید کارڈ بیچنے والوں کی دکانیں لگتی تھیں‘ قسم قسم اور ہر نوعیت کے عید کارڈ بکتے تھے ‘ساتھ کےلنڈر‘ جنترےوں اور بچوں کے کھلونوں کاکاروبار بھی ہوتا تھا‘ یہ جگ مگ سحری تک رہتی تھی۔

رمضان کی آخری شام‘ مغرب کے بعد لوگ بازار بزازاںاور بازار بٹیربازاں کے سنگم پر واقع مسجد قاسم علی خان کے باہر جمع ہوجاتے تھے ‘شہر کے قرب وجوار سے وہ لوگ جنہوں نے چاند دیکھا ہوتا تھا گواہی دینے کےلئے مسجد کے اندر جاکر مولانا پوپلزئی کے سامنے گواہی دیتے تھے ‘ جب مولانا صاحب کو یقین ہوجاتا تھا کہ واقعی چاند دیکھا گیاہے تو وہ جبہ اور عمامہ پہنے مسجد کو جانے والی سیڑھیوں کی سب سے اوپر سیڑھی پر کھڑے ہو کر اعلان کرتے تھے کہ کل عید ہوگی‘ یہ سنتے ہی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑجاتی تھی۔ ہوائی فائرنگ شروع ہوجاتی تھی اور تمام شہر کو پتہ لگ جاتا تھا کہ عید کا اعلان ہوگیا ہے۔
اور اگر عید کا چاند نہ دیکھا گیا ہو تو مرد ناامید ہو کر گھر کی راہ لیتے تھے اور گھر پہنچتے ہی بیوی سے کہتے تھے کہ نیک بخت چاند نہیں دیکھا گیا اب سحری کا بندوبست کرو۔ایک اور روزہ گلے پڑ گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔