88

عوام کہاں جائیں

ایک نہ ایک مسئلہ سر ابھارے ہی رکھتا ہے۔شہباز شریف بیماری کی وجہ سے باہر گئے تو قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اب وہ دوسرے لوگوں کی طرح واپس نہیں آئیں گے۔جہاں تک اسحاق ڈار کے واپس نہ آنے کی بات ہے تو وہ ایک ایسا وقت دیکھ چکے ہیں کہ جو ہمیشہ ایک برے خواب کی طرح ان کا پیچھا کر رہا ہے۔جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاءنے ان جیسے بہت سے لوگوں پر دہشت کے دروازے کھولے تھے جن میں خواجہ آصف‘ خواجہ سعد رفیق وغیر ہ شامل تھے‘ خواجہ سعدرفیق اور خواجہ آصف مار کھا بھی گئے اور سہہ بھی گئے مگر اسحاق ڈار چونکہ ایسے حالات سے پہلے کبھی گزرے نہ تھے اس لئے وہ یہ مار نہ سہہ سکے اور نواز شریف وغیرہ کے خلاف بیان دے کر اپنی جان چھڑائی مگر جو دن انہوں نے عقوبت خانے میں گزارے وہ ایسا ڈراو¿نا خواب ہے کہ جو ابھی تک ان کا پیچھا کر رہا ہے‘او ر مرحوم اسد منیر کی خود کشی نے اسے اور بھی بھیانک بنا دیا ہے کہ اگر ان کو اس عقوبت خانے میںدوبارہ لایا گیا تو ان کا کیا بنے گا‘ اس لئے اگر ان کو ہزار امیدیںبھی دلائی جائیں کہ ان کے ساتھ پرویز مشرف والا سلوک نہیں کیا جائے گا ۔

پھر بھی وہ واپس نہیں آئیں گے۔مسلم لےگ کے سےنئر لےڈروں کا کہنا ہے کہ جہاں تک اس وقت میں نواز شریف وغیرہ کا ڈیل کر کے جانے کا تعلق ہے تواس سے پہلے ایک سربراہ مملکت کی بہادری کا تماشا وہ دیکھ چکے تھے اور عدالت نے ان کو سزائے موت کا حکم سنا دیا تھا اس لئے ان کو ذوالفقار علی بھٹو نہیں بننا تھا تو بہتر یہی تھا کہ اپنی جان بچائی جائے بعد کی بعد مےںدیکھی جائے گی۔مگر شہباز شریف کا معاملہ اور ہے وہ اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزےراعلیٰ رہے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیںکی۔یہ اور بات ہے کہ جہاں ایک وزیر اعظم پر یہ الزام بھی لگ رہا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہاو¿س کی گاڑیوں کو اپنے زیر استعمال کیوں لایا ہے تواس کے بعد کوئی کیا کہہ سکتا ہے اور یہ کہ عدالت خود اپنے فیصلے میں لکھ رہی ہے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کوئی ثبوت نہیںمل سکا اور اس کو سزا اس بات پر دی گئی ہے کہ اس کے اثاثے اس کی آمدن سے زیادہ ہیں‘ ان لوگوں پر کیا کیاالزام نہیں لگیں گے بعض دفعہ تو ہنسی آتی ہے کہ نیب کے پاس کیا کیا طریقے ہیں کسی کو مجرم بنانے کے۔

اب شریف فیملی پر جو بھی الزام ہیں وہ یہی ہیں کہ ان کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں اور ثابت بھی انہوں نے ہی کرنے ہیں۔ نیب صرف الزام لگا سکتا ہے کہ ان کے اثاثے زیادہ ہیں اور ان کی آمدن کم ہے۔ یہ الزام تو ہر کسی پر لگ سکتا ہے اور ثابت نیب نے نہیں کرنا ثابت ملزم نے کرنا ہے ‘ واہ واہ‘شہباز شریف چونکہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیںکی اس لئے وہ واپس اپنے ملک میں آ گئے ہیں ‘ادھر ہمارے شیخ رشید صاحب ہیں کہ ان کو یہ گلہ ہے کہ شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کیوں بنایا گیا ہے۔حیرت ہے کہ کوئی شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اسے یہ بھی پتہ نہ لگ سکے کہ شہباز شریف اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر ہے اس لئے اپوزیشن لیڈر بننے کا اس کا حق ہے۔

 لیگی حلقے کہتے ہیںاگر شیخ صاحب کو شریف خاندان کا نمک یاد نہیں ہے تودوسری بات ہے مگر عمران خان کے جو خیالات شیخ صاحب کے لئے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ شیخ صاحب کی صرف ایک کوالٹی ہے کہ جس کو خان صاحب پسند کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جو زبان وہ شریف اور زرداری خاندان کےلئے استعمال کرتے ہیں‘ اگر آج وہ اس زبان کا استعمال چھوڑ دیں تو کل کو وہ وزیر ریلوے نہیں ہوں گے‘مرےم اورنگزےب کہتی ہیںجہاں تک شہباز شریف کا دس سال تک پنجاب کی خدمات کا تعلق ہے تو وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں‘جس طرح اس نے لاہور کو ٹریفک جام سے بچایا ہے اور جس طرح اس نے غریبوں کے لئے لاہور شہر میں سفر کی سہولیات مہیا کی ہیں وہ صرف دیکھنے اور محسوس کرنے کی بات ہے‘ جہاں تک اس حکومت کا تعلق ہے توجس طرح کی مہنگائی کی چکی میں عوام پس رہے ہیں وہ صرف وہی جان سکتا ہے کہ جو سارا دن مزدوری کر کے واپس گھر آتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے‘ اس لئے کہ اس کی مزدوری اس قابل نہیں کہ اسکے بچوں کا پیٹ پال سکے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ لوگوں نے یہ رمضان کس طرح گزارا ہے۔ ہزاروں کے حساب سے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے پانی سے روزے کھولے اور رکھے ہیں اور آنے والے وقت میں بھی امید نہیں ہے کہ ان کے دن پھر سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔