115

غیر روایتی میدان جنگ

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے دنوں نیشنل سکےورٹی ورکشاپ کے شرکا ءسے خطاب میں کہاتھا کہ ہم ہائبرڈ وار سے نبرد آزما ہیں لوگوں اور نوجوانوں کو اس پروپیگنڈے سے دور رکھنا ہماری بڑی ذمہ داری ہے‘ ہائبرڈ وار مذہبی‘ مسلکی اور لسانی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے‘ قوم بالخصوص نوجوان ہائبرڈوار میں پروپیگنڈے کےخلاف اپنا کردار ادا کریں‘ ہائبرڈ جنگ کے مقابلے کےلئے قومی رسپانس کی ضرورت ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کوگزشتہ2 دہائیوں سے کئی خطرات کا سامنا رہاہے‘ ان کا کہنا تھا کہ ان گنت قربانیوں کے صلے میں حاصل ہونےوالے فوائد سے ہمیں ہر صورت فائدہ اٹھانا چاہئے‘اب وقت آگیا ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں‘ہمیں جنرل قمرجاوید باجوہ کے اس خطاب کا حوالہ گزشتہ دنوں قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں وقوع پذیرہونے والے بدامنی کے بعض پے درپے واقعات کے تناظر میں دینا پڑاہے جن میں جہاں ایک طرف پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو بعض بے چہرہ دشمنوں کے ہاتھوں شہادتوں کے تازہ جام نوش کرناپڑے ہیں وہاںدہشت گردی کےخلاف ایک طویل اور صبرآزما جنگ سے دوچار ہونا پڑاکے بعد اب ایک ایسی جنگ جسے ففتھ جنریشن یاپھر ہائبرڈ وار کانام دیا جارہا ہے سے واسطہ درپیش ہے جس کا نشانہ قومیت‘زبان اور مسلک کی بنیاد پر ہمارے نوجوان ہیں۔

 وہاں ان واقعات کی آڑ میں بعض عناصر پاک فوج اور اسکی قربانیوں کےخلاف سوشل میڈیا پر جونفرت انگیزپروپیگنڈا کررہے ہیں اس کو دیکھ کر جنرل باجوہ کی ہائبرڈ وار کی تھیوری پر اعتراضات کی گنجائش کے باوجود یقین کرنے کے سوا اور کوئی آپشن نظر نہیں آتا‘ افسوس اس بات پر ہے کہ پاک فوج کواگرایک جانب بھارت سمیت کئی دیگر دشمن قوتوں کی کھلی اور ننگی جارحیت کا سامنا کرناپڑرہا ہے وہاں اندرونی محاذوں پر بھی ان ہی دشمن قوتوں کی سازشوں جن میں بدقسمتی سے انہیں ہماری اندرونی صفوں سے بھی بعض عناصر کی پشت پناہی اور ہمدردی حاصل ہے کا مقابلہ درپیش ہے ‘دراصل یہی وہ بظاہرباریک لیکن حقیقتاً ایک واضح نظر آنے والا نقطہ ہے جس کو نہ صرف سنجیدگی سے سمجھنے بلکہ بحیثیت قوم تمام ریاستی اداروں کو اس کاادراک کرنے اور اس صورتحال سے نمٹنے کےلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی بھی ضرورت ہے‘اس لائحہ عمل کی تیاری کےلئے سب سے پہلے تو تمام مقتدر اداروں کو اس لائحہ عمل کی تیاری کی ضرورت پر وسیع تر قومی مفاد میں متفق ہوناہوگا ۔

ثانیاًاس روڈ میپ کی تیاری کے عمل میں کسی بھی فریق کولاگ لپیٹ رکھے بغیر قوم کے اجتماعی مفاد سے وابستہ ہر ایشو کے تمام پہلوﺅں کو کھل کر ایک دوسرے کے سامنے نہ صرف رکھنا ہوگا بلکہ اس پر ایک دوسرے کو دل سے مطمئن بھی کرنا ہوگا۔مثلاً عام تصور کے مطابق مسلح افواج کاکام اگر محض ملکی سرحدوں کا تحفظ ہے اور بس توپھرہمارے سول اداروں کو نہ صرف اپنے اندر ملک کے اندرونی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کاجذبہ اور صلاحیت پیدا کرنا ہوگی بلکہ روزمرہ معمولات کےساتھ ساتھ غیر معمولی حالات میں بھی اپنے عمل وکردار سے ہر طرح کے حالات سے نبردآزما ہونے میں خود کو اہل ثابت کرناہوگا‘ ہمارے ہاں اس تصورکے پروان چڑھنے یاچڑھائے جانے کہ فوج ہی ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہے یہ سوچ اور نقطہ نظر سو فیصد غلط ہے کیونکہ ہم جب بھی اپنے اداروںکا موازنہ امریکہ‘ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک حتیٰ کی بھارت سے کرتے ہیں۔

 تو اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان قوموں نے یہ مقام جہاں کئی صدیوں اور عشروں کی جہد مسلسل سے حاصل کیا ہے وہاں ان ممالک میں دیگر ریاستی اداروں نے اگر ایک طرف اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے ان کا حق ادا کرنے میں کسی بخل ‘تساہل اور نااہلی سے کام نہیں لیا ہے تودوسری جانب ان قوموں نے باہمی اعتماد اور ایک واضح دستورالعمل کے ذریعے اپنے اپنے معین دائرہ ہائے کار پرتمام تر نامساعد حالات کے باوجود کاربند رہنے کا جو عملی مظاہرہ کیا ہے یہ اسی سوچ اور عمل کا نتیجہ ہے کہ آج یہ معاشرے نہ صرف مادی تعمیرو ترقی کی بنیاد پر دنیا کی قیادت کررہے ہیں بلکہ سماجی بہبوداور رفاہ عامہ کے لحاظ سے بھی دنیا بھر کےلئے مثال بنے ہوئے ہیں لہٰذا ہم بھی اگر اپنامستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں توہمیں اپنے ریاستی اداروں پر اعتماد کے کلچر کوفروغ دینا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔