109

حکومت پر مشکل وقت

حکومتی ایوانوں میں اس امید پر خوشگوار فضا غالب تھی کہ دو ہفتے کیلئے لندن جانےوالے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف‘دو ماہ بعدبھی واپس نہیں آئینگے یہ بات تو اپنوں بیگانوں سب کو معلوم تھی کہ شہباز شریف کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں جس کیلئے اتنا لمبا عرصہ صرف ٹےسٹ کرانے میں ہی گزر جائے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وہ ایک دن بھی کسی ہسپتال میں نہیں رہے وہ اپنے مخصوص تیز رفتار انداز میں لندن میں گھومتے رہے‘ بہرحال اب وہ واپس آگئے ہیں اور وطن پہنچتے ہی سیاسی رابطے شروع کردیئے ہیں اس وقت حکومت اور اپوزیشن کیلئے پارلیمنٹ میں بجٹ سیشن ہی سب سے اہم ترجیح ہے حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ خوش اسلوبی کےساتھ پارلیمنٹ سے بجٹ منظور کروالے جبکہ اپوزیشن اس موقع پر صرف بجٹ ہی نہیں کئی دوسرے حساب بھی چکانا چاہتی ہے‘یہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے وہ عوام بھی اپوزیشن کا ساتھ دینے پر تیار ہوچکے ہیں جنہوں نے ان سے نجات کیلئے عمران خان کو ووٹ دیا تھا اگرچہ ان دنوں شدید گرمی کے باعث اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ عام آدمی باہر نکل سکے اسی لئے اپوزیشن بھی زیادہ زور پارلیمنٹ کے اندر لگانے پر تیار ہے‘ جہاں یخ بستہ ماحول میں عوام سے ہمدردی کا اچھا تاثر دیا جا سکتا ہے باہر عوام کو نکالنے کیلئے خود بھی نکلنا پڑتا ہے خیبرپختونخوا میں اے این پی نے مختلف اضلاع میں مہنگائی کیخلاف اپنے ورکرز کو باہر نکال کر ایک کامیاب تجربہ کیا ہے مگر یہ ایک نظریاتی پارٹی ہے اور کم از کم اس کے کارکن پارٹی نظم وضبط کی پابندی کرتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اب کوئی نظریہ یا اصول باقی نہیں رہا عام کارکن بھی بے زار ہیں۔

اگرچہ ضرورت کے وقت پارٹی قیادت مختلف رہنماﺅں اور سابق وزراءکی ڈیوٹی لگاتی ہے کہ وہ کارکن ہائر کریں اس طرح وقت گزارا جاتا ہے‘اسی لئے سابق حکمران اور احتساب کے شکنجے میں جکڑی یہ دونوں پارٹیاں عوامی طاقت کی بجائے پارلیمنٹ میں زبانی طاقت کے زور پر اپوزیشن کرنے کو ترجیح دیتی ہیں اسوقت حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے کسی اچھائی یا تعاون کی تو امید نہیں مگر اتحادیوں کو بھی ساتھ رکھنے پر مشکلات پیش آرہی ہیں‘ ق لیگ‘ ایم کیو ایم‘ بلوچستان نےشنل پارٹی(مینگل گروپ) اور آزاد ارکان بھی اس موقع پر حکومت کو عہدوپیمان یاد دلا رہے ہیں اگرچہ ان سے زیادہ وعدے عوام کےساتھ کئے گئے تھے جو ایفا نہیں ہو سکے مگر عوام اپنی تمام مجبوریوں سمیت حکومت کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وعدے پورے کئے جائیں جبکہ پارلیمنٹ میں ایک ایک ممبر کی اہمیت ہوتی ہے اور حکومت انکے نخرے اٹھانے پر مجبور‘ اسی لئے صرف انکے مطالبے پورے کرکے حکومت اپنا کام چلا لیتی ہے اب اگر ان اتحادیوں کے مطالبات دیکھیں تو یہ بھی سیاسی یا ذاتی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں کسی پارلیمانی گروپ کی طرف سے عوام کے مسائل کے حل کا کوئی مطالبہ نہیں ہے یہ بیانات کی حد تک مہنگائی کا شور صرف اپنے مطالبات کا وزن بڑھانے اور حکومت کے کمزور پہلو کو اجاگر کرنے کیلئے ہوتا ہے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو یا اپوزیشن کا اجتماع‘ یا پھر قومی اسمبلی یا سینٹ کے اجلاس عوام اور انکو درپیش مشکلات کا کہیں ذکر نہیں ہوتا‘کہیں استحقاق کا رونا ہے تو کہیں مراعات کا شور اور سب سے زیادہ احتساب سے چھوٹ کا مطالبہ اور ان ہی معاملات پر سودا بازی کرکے حکومت بل منظور کروا لیتی ہے۔

اب ایک اور احتجاج بھی حکومت کیلئے چیلنج بن رہاہے اور وہ ہے سپریم کورٹ کے جج‘ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس‘ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ ریفرنس واپس لے اگرچہ پنجاب بار کونسل اور ایک وکلاءایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس احتجاج کا حصہ نہیں بنیںگے کیونکہ ریفرنس قانونی ہے اور امید ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس پر انصاف کرے گی‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت وکلاءکے درمیان تقسیم کی لکیر کھینچنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ویسے بھی جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار چوہدری کےخلاف کاروائی اور ایمرجنسی نافذ کرنے جیسے فیصلے اور موجودہ ریفرنس میں بہت فرق ہے ‘اپوزیشن بھی پہلے یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ پانامہ لیکس میں آنےوالے ججز کےخلاف بھی کاروائی ہو یہ بھی معلوم ہے کہ اس ریفرنس کی سماعت اور فیصلہ کسی حکومتی ادارے نے نہیں بلکہ اعلیٰ عدالتی ججزنے ہی کرنا ہے‘ چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ اس ریفرنس پر وکلاءکو ہم پر اعتماد کرنا چاہئے ہم انصاف کرینگے اس وقت بظاہر تو یہ نظر آرہا ہے کہ حکومت کےخلاف احتجاج کا سونامی آرہاہے جس میں یہ بہہ جائے گی لیکن جس طرح اپوزیشن کے احتجاج میں ذاتی مفاد غالب ہے اسی طرح وکلاءکی تحریک میں بھی سیاست غالب ہے اسلئے کسی سیاستدان یا جج کے غیر ملکی اثاثوں کے دفاع کیلئے عوام باہر نکلنے کو تیار نہیں ہونگے اوریہ چائے کی پیالی میں طوفان ہی ثابت ہونگے‘البتہ زرداری کے دکھ میں مبتلا پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ میں شورشرابا کرینگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔