54

تلخ سیاحت

میدانی علاقوں میں موسم گرما کی شدت‘ عید الفطر کا تہوار اور اس موقع پر ایک ہفتے سے زائد دفتری تعطیلات جیسے تین بنیادی محرکات کے سبب‘ اس سال ماضی کے مقابلے زیادہ لوگوں نے خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں کا رخ کیا‘جہاں سیاحوں کو درپیش مشکلات و مسائل سے متعلق کہانیاں‘ واٹس ایپ پیغامات اور سوشل میڈیا پر تبصروںکی زد میں ہیں‘ جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ متعلقہ حکومتی اداروں نے خاطرخواہ انتظامات تو دور کی بات‘ اس مرتبہ اپنی موجودگی کو بھی ضروری نہیں سمجھا! سیاحتی مقامات کا ذکر ہوتے ہوئے ذہن میں جو نقشہ ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ بے ہنگم ٹریفک جس کی وجہ سے میلوں تک گاڑیوں کی قطاریں لگ جائیں‘ ہوٹلوں میں قیام و طعام کی غیرمعیاری اور انتہائی مہنگی سہولیات‘ گاڑیوں کی پارکنگ کا نہ ہونا‘ اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں اہل خانہ کے ہمراہ سیاحتی مقامات پہنچنے والوں کی پریشانی۔ عجیب صورتحال یہ ہے کہ سیاحتی علاقوں سے منتخب ہونےوالے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور مقامی بلدیاتی نمائندے بھی اس موقع پر غائب رہتے ہیں حالانکہ یہ ان کےلئے اعزاز کی بات ہے کہ پورے پاکستان سے سیاح بطور مہمان ان کے علاقوں کا رخ کرتے ہیں لیکن اعزاز کےساتھ انہیں اس بات کے افسوسناک پہلو پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ یہ مہمان اپنے ساتھ خوشگوار یادیں لیکر نہیں جاتے۔ اصولی طور پر عوام کے منتخب نمائندوں کی جانب سے سیاحتی مقامات پر اعلانات آویزاں ہونے چاہئےں‘ جن پر خوش آمدید کےساتھ کسی بھی طرح کی صورتحال میں رابطہ کرنے کےلئے موبائل و دیگر فون نمبرز درج ہونے چاہئےں۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ رواں سیزن خیبرپحتونخوا حکومت نے سیاحوں کی سہولت کےلئے خصوصی انتظامات کا دعویٰ کیا اور خود حکومتی ادارے کے جاری کردہ اعدادوشمار ہیں کہ اس مرتبہ عیدالفطر کے موقع پر بیس لاکھ افراد نے مختلف پرفضا مقامات کا رخ کیا۔ سوات اس برس سیر و تفریح کے شوقین افراد میں اسلئے نسبتاً زیادہ مقبول رہا کیونکہ وہاں تک رسائی کےلئے موٹر وے کو عید الفطر سے قبل آمدورفت کےلئے کھول دیا گیا لیکن ہزارہ ڈویژن کی موٹروے کا باقی ماندہ حصہ حسب وعدہ اور اعلانات بروقت مکمل نہ ہو سکا!ملاکنڈ انتظامیہ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں اور دس لاکھ افراد نے سوات کے مختلف تفریحی سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق چار لاکھ سیاح بالائی ایبٹ آباد آئے۔ سوات اور گلیات کے بعد خیبرپختونخوا کا تیسرا معروف و معلوم سیاحتی مقام کاغان کی وادیاں ہیں‘ جہاں اس مرتبہ دو لاکھ کے لگ بھگ سیاح پہنچے لیکن وہاں قیام وطعام کی سہولیات اس تعداد کی ایک چوتھائی کےلئے بھی کافی نہیںسرکاری اعدادوشمار کے مطابق عید الفطر کے ایام میں روزانہ قریب ایک لاکھ گاڑیاں ایبٹ آباد کی حدود میں داخل ہوئیں‘ جن میں سے بیس ہزار کے قریب نے گلیات کا رخ کیا جبکہ بقیہ میں سے اکثریت کی منزل شمالی علاقہ جات تھی‘چند گھنٹوں کا سفر جہاں دن بھر سفر کی صورت مکمل ہو تو سفری صعوبتیں برداشت کرنے والوں کا حق بنتا تھا کہ انہیں آرام دہ بستر میسر ہوتا لیکن گلیات ہوں یا ناران کاغان ہوٹلوں کا کرایہ پانچ ہزار سے پچیس ہزار روپے فی رات اوسط سیاح کی مالی سکت سے کئی گنا اور ضرورت سے زیادہ تھا! عیدالفطر کے بعد بھی ان کرایوں میں کمی نہیں آئی ہے!

 لمحہ فکریہ ہے کہ اپنے ساتھ خیمے اور بستر لانے والوں کو بھی اس مرتبہ مایوسی ہوئی‘ کیونکہ ان سے مقامی افراد نے کرائے کی مد مےں تین سے دس ہزار روپے فی رات کرایہ وصول کیا! وادی کاغان اور بالاکوٹ کے تمام ہوٹل عید کے روز ہی سے مکمل بک تھے ‘جسکے باعث وہاں پہنچنے والی اکثریت نے راتیں اپنی گاڑیوں میں بسر کیں اور خوشیوں بھرے تہوار کے موقع پر تلخ سیاحت کی یادیں لئے واپس ہوئے‘سوشل میڈیا کے زمانے میں حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو بوجھ دوسروں اور تیسروں پر نہیں ڈال سکتے‘سارا سال سیاحتی سیزن کی تیاریاں کرنےوالوں کے انتظامات کا پول ایک ہی دن کھل جاتا ہے‘ تحریک انصاف گلیات سے کس قدر انصاف کر رہی ہے؟یہ سوال جب نتھیاگلی میں گذشتہ چار دہائیوں سے ہوٹلنگ سے منسلک خاندان اور وہاں کی اہم سیاسی شخصیت سردار خالد خان کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے ایک ہی سانس میں کئی ترقیاتی کام گنوائے جن کی ماضی میں نذیر نہیں ملتی تاہم وہ یہ بات کرتے ہوئے کچھ افسردہ سنائی دیئے کہ حکومت نے چند برس قبل تجاوزات کےخلاف جو مہم شروع کی تھی‘ اس کو انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔ کئی مقامات پر تجاوزات پھر سے قائم ہوئیں ہیں جبکہ نتھیاگلی کی ضرورت کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ ہے۔سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر میں اس تیزی سے بہتری نہیں لائی جا سکی‘ جسکی بہرحال ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔