98

دشمنی اور فائدہ

ویسے تو پاکستان بھر میں برادریوں میں اور آس پڑوس میں ایک دوسرے کےساتھ ان بن لگی ہی رہتی ہے‘ کچھ دشمنیاں تو عمروں تک چلتی ہیں‘ بات بہت چھوٹی سی ہوتی ہے کہ جس سے ایک دوسرے سے ان بن شروع ہوتی ہے اور پھر یہ بات بڑھتے بڑھتے دور تک نکل جاتی ہے اور معاملات تھانے کچہری تک جا پہنچتے ہےں اور پھر دشمنیاں بچوںاور اس کے بعد کی نسل تک بھی جا پہنچتی ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ اس دوران کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملتا کہ جو اس جلتی آگ پرپانی ڈال دے ‘ہر کوئی کوشش یہی کرتا ہے کہ اس آگ کوزیادہ سے زیادہ بھڑکایا جائے اور تماشا دیکھا جائے۔ اس دوران بہت سے ایسے کردار بھی درمیان مےںآ جاتے ہیں کہ جو اس لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالتے ہیں۔ایسے لوگ عام طور پر یا تو بہت کمزور ہوتے ہیں یا وہ اپنا نام درمیان میں لانا نہیں چاہتے‘ وہ دیکھتے ہیں کہ آگ بھڑک رہی ہے تو اس میں اپنا ’ لُچ‘ تلنے کی کوشش کرتے ہیں۔حملہ وہ کر جاتے ہیں اور اس کا الزام اس شخص پر آ جاتا ہے کہ جو اصل میں دشمنی رکھتا ہے۔ اور لُچ تلنے والے کا کام بھی ہو جاتا ہے اور اس کا نام بھی نہیں آتا۔ایسے بہت سے واقعات عموماً گاو¿ں میں دیکھے جاتے ہیں‘ دو خاندان اگر آپس میں چپقلش رکھتے ہیں تو اسکا فائدہ ایک دوسرا شخص جو بظاہر دونوں خاندانوں سے دوستی رکھتا ہے مگر وہ کسی نہ کسی وجہ سے ان کے ساتھ دشمنی بھی رکھتا ہے تو وہ اس دشمنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وار کر جاتا ہے مگر الزام ان دونوںخاندانوں کا آپس میں لگتا ہے اور تھانہ کچہری میں وہ دوڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وار کرنے والا شخص تماش بین بن کر کبھی ایک اور کبھی دوسرے کا ہمدر د بن کر ساتھ دے رہا ہوتا ہے‘ ایسے واقعات آج کل ہمارے ملکی سطح پر ہو رہے ہیں۔

 دو خاندان آج کل حکومت اور نیب کے نشانے پر ہیں‘ان کے بے نامی کھاتے جگہ جگہ سے نکل رہے ہیں جن کا فائدہ بہت سے دوسرے لوگ ا ٹھا رہے ہیں‘ان میں ایک ایسے لوگوںکے اکاو¿نٹ سے ٹرانزیکشنز ہیں کہ جن کا کوئی تعلق ہی کروڑوں اربوں کے پیسے سے نہیں ہے مگر انکے اکاو¿نٹ سے اربوں روپے ادھر ادھر ہو ئے ہیں‘ان میں کوئی تانگے والا ہے کوئی ڈرائیور ہے ‘کوئی مزدور ہے اور کوئی ریڑھی والا ہے‘ان لوگوں کے کھاتوں سے کیسے ٹرانزیکشن ہو رہی ہے ان کو معلوم ہی نہیں ہے ‘بہت سے تو ایسے ہیں کہ جن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا کسی بینک میں اکاو¿ عنٹ بھی ہے۔ مگر ان کے نام سے اکاو¿نٹ بھی ہیں اور ان سے پیسہ بھی ادھر ادھر ہو رہا ہے‘مزے کی بات یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی شخص لاہور یا لاہور سے شمال میں ہے تو یہ رقم شریف خاندان کے نام ہے اور اگر لاہور سے جنوب کی طرف ہے تو یہ دولت زرداری خاندان کی ہے‘اسلئے کہ یہ خاندان حکومت میں رہے ہیںاور موجودہ حکومت ان ہی کےخلاف اقتدار میں آئی ہے‘منی لانڈرنگ ایک ایسامسئلہ ہے کہ جو ہمارے ہاں اس لئے بھی تیزی سے آیا ہے کہ کچھ لوگ کسی وقت یہاںسے بھاگے ہیں اور جہاں وہ رہتے ہیں ۔

ان کو اس ملک سے پیسہ جاتا ہے اور یہ پیسہ صحیح طریقے سے نہیں جا سکتااسلئے یہ ایسے کھاتوں کے ذریعے جاتا ہے کہ جس میں کوئی ان کو پکڑ نہ سکے۔ لندن میں بیٹھے پاکستان مخالف لوگوں کو اگر پیسہ جاتا ہے تووہ اسی طرح سے جا سکتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ الزام دو خاندانوں پر آتا ہے‘ اور ہمارے ادارے ان ہی دو خاندانوںکے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور فائدہ اٹھانے والے اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں‘ اگر حکومتی ادارے صرف ان دو خاندانوںہی کے پیچھے نہ پڑےںاور ان تاجروں ‘ سرکاری افسروں ‘کار خانہ داروں اور ملک دشمن تنظیموںپر بھی نظر رکھیں تو ان بے نامی اکاو¿نٹس کا خود ہی پتہ چل جائے گا۔ جب بھی کسی ایسے کھاتے کا پتہ چلتا ہے کہ جس سے بہت سی رقم ادھر ادھر ہوئی ہے تو ہمارے ادارے دو خاندانوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں جبکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے بے غم اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوشش کریں تو یہ معلوم کر لیں کہ ہمارے بہت سے لوگ کراچی سے بھاگے ہیں اور آج کل وہ کوئی انگلینڈ میں ‘ کوئی دبئی میں ‘کوئی جنوبی افریقہ میں اور کوئی ملائشیا میں رہ رہا ہے۔ اور ان سب کو باقاعدہ وظیفہ مل رہا ہے۔ کیاحکومت نے کبھی کوشش کی ہے کہ پتہ چلائے کہ یہ لوگ کیسے وہاں گزر بسر کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔