66

نام میں کیا رکھا ہے ؟

عید کے دوسرے ہی دن بیگم نے پر سمیٹے اور کینیڈا کا عزم کیا تو ائرپورٹ کے مختلف فارم بھرنے کو میری ڈیوٹی لگادی اور ساتھ ہی ساتھ تائیدلگادی کہ فرسٹ نیم کی جگہ ایف این یو(First Name Unavailable) لگانا نہ بھولوں۔ فلائٹ صبح سویرے اسلام آباد سے تھی‘ چنانچہ گھپ اندھیرے میں ڈرائیونگ کرکے ان کو ہوائی مستقر پر رخصت کیا۔ میں نے تاکید کی تھی کہ چیک اِن ہونے کے بعد مجھے ایک فون کردیں تاکہ میری تسلی ہوجائے۔ ایک گھنٹے بعد کہیں ان کا فون آیا۔ ہنس کر کہنے لگیں کہ وہی نام کا چکر اتنی دیر لگواگیا۔ اس نام کے بین الاقوامی ہونے کا چکر نوے کی دہائی میں ائرپورٹ سے جو شروع ہوا تھا تو وہ اب تک ہمارے ناموں کےساتھ چپک کررہ گیا ہے۔میرے والد مرحوم عبیداللہ سندھی سے بہت متاثر تھے۔چنانچہ میری پیدائش پر مجھے انہی سے منسوب کردیا۔تاہم میری والدہ نے اپنی طرف سے ’جان‘کا اضافہ کرکے مجھے عبیداللہ جان بنادیا۔ تاہم جان مجھے اچھا نہیں لگتا تھا اس لئے میٹرک کا فارم بھرتے وقت میں نے اس سے جان چھڑالی۔ یوں میرے نام کا ایک ہی حصہ رہ گیایعنی صرف عبیداللہ۔ شادی ہوئی۔ بیگم کا نام نہیں بدلا۔ بچے ہوئے تو ان کےساتھ سابقہ کے طور پر عبید لگادیا۔ یہ تو جب ولاےت جانا ہوا تو وہاں معلوم ہوا کہ نام کے کتنے حصے ہوتے ہیں‘ سر نیم‘ فسٹ نیم‘ لاسٹ نیم‘ فیملی نیم‘ مڈل نیم اور نک نیم کیا ہوتے ہیں۔ بینک میں اکاﺅنٹ کھلوانا ہوا۔ فارم پر تین خانے تھے۔ میں نے ایک میں عبیداللہ لکھ دیا۔

مجھ سے پوچھاگےا سر نیم کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ وہ تو نہیں۔ آگے سے حیرت زدہ چہرہ دکھائی دیا۔ پانچ منٹ وضاحت میں لگے۔ اس دن کے بعد اپنے نام کےساتھ عبید کا سابقہ لگا کر فارم بھرتا رہا ہوں۔ مغربی ممالک میں سرنیم‘لاسٹ نیم یا فیملی نیم کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے‘یہ آپکے نام کاآخری حصہ ہوتا ہے جو باپ دادا سے چلتا آرہاہوتا ہے۔ والد کا نام جمال احمد ہو تو آپ کے نام کے آخر میں احمد کا آنا ضروری ہے‘ ہاں اگر آپ کا نام امجد جمال لکھا گیا ہو تو مغربی تہذیب کے مطابق جمال احمد آپ کے حقیقی والد نہ ہوئے۔ اس معاشرے میں فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ ایک ہی والدہ سے کئی بھائی بہن مختلف والدین سے ہوسکتے ہیں۔ ایک ہی خاتون کے تین بچے تین مختلف سرنیمز کے ساتھ ہونا حقارت کا باعث نہیں بنتا‘اور اس معاشرت میں تکلف کےساتھ یا سرکاری طور پر نام لیا جاتا ہے تو وہی سرنیم سے پکارا جاتا ہے۔ ہاں یار دوست بے تکلفی سے فسٹ نیم سے پکارا کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا مڈل نیم بھی ہوتا ہے یا نک نیم جو اکثر پیار اور اختصار سے بولا جاتا ہے۔ سر نیم کا دوسرا استعمال معاشرے میں حیثیت کے تعین کےلئے ہوتا ہے۔ مرد کیلئے مسٹر (یا ڈاکٹر‘ جسٹس‘مولانا وغیرہ) کےساتھ سرنیم بولنا ضروری ہوتا ہے۔ مسٹر شوکت حیات‘ یامسٹر عبدالمجید کہا جائے گا مثال کے طور پر۔ ان کو مسٹر شوکت یا مسٹر عبدل نہیں کہاجاسکتا۔ ان کے قریبی دوست ان کو شوکت اور عبدل ہی کہیں گے۔ شوکت حیات کے بیٹے کو ماسٹر سمیر حیات (اگر نابالغ ہوں) یا مسٹر سمیر حیات کا نام دیا جائےگا۔ بیٹی مس سمیرہ حیات کہلائے گی (ہمارے ہاں غلط العام میں مس سمیرہ شوکت کہا جاتا ہے)۔ ان کی بیگم کو مسز شبانہ حیات کہیں گے نہ کہ مسز شبانہ شوکت۔ مسٹر اور مسز یا مس کے لاحقے کےساتھ صرف سرنیم بھی استعمال ہوسکتا ہے ۔

جیسے شوکت حیات اور سمیر حیات دونوں مسٹر حیات کہلائے جاسکتے ہیں۔ سمیرہ کو مس حیات اور شبانہ کو مسز حیات لکھا جاسکتا ہے‘ سمیرہ کی شادی جمیل احمد سے ہو اور وہ اپنا نام بدلے تو وہ مسز سمیرہ احمد میں بدل جائیں گی (مسز سمیرہ جمیل غلط ہوگا) ہاں کچھ خواتین شادی کے بعد اپنا آبائی نام نہیں بدلنا چاہتیں تو وہ مسز کی بجائے مِز(Ms.) کہلائیں گی جیسے کہ مس بے نظیر بھٹو شادی کے بعد مسز بے نظیر زرداری نہ بنیں، مِز بے نظیر بھٹو ہی رہیں۔ مس سے مِز میں بدلنے سے شادی شدہ ہونے کا اشارہ ہے۔ میرے ایک قریبی رشتہ دار کا نام محمد راشد تھا اور ان کی بیگم کا نام رضیہ بیگم ۔ مسز رضیہ بیگم ہسپتال گئی تھیں۔ ڈاکٹر کے پاس بیٹھیں تو شوہر سے مشورے کی ضرورت پڑی۔ نرس نے باہر نکل کر آواز لگائی ’مسٹر بیگم‘۔ ہم بڑے عرصے تک راشد کو مسٹر بیگم کہہ کہہ کر چھیڑتے رہے۔ جب سے ہمارے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جدید اور مشین ریڈایبل بنے ہیں‘ ناموں کے بارے میں یہ معلومات بہت اہمیت رکھتی ہیں‘ جب بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں تو بھلے سے ان پڑھ خاندان میں ہوں‘ ضروری ہے کہ نام بین الاقوامی طرز سے رکھے جائیں۔ کون جانتا ہے ان میں سے کتنوں کو زندگی اور پاسپورٹ کہاں کہاں لے کر جائے۔ اب تو شناختی کارڈ میں بھی سرنیم یا فیملی نیم کا خانہ ہوتا ہے اور نہ چونکہ نادرا کے اکثر ملازمین کو علم ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کو یہ شعور دیا گیا ہے‘ اس لئے اکثر ناموں میں گڑ بڑ ہوجاتی ہے۔ عربوں میں تو سیدھا سادھا اپنا نام اور والد کا نام دونوں لکھ کر ایک لمبی سطر چھاپ دی جاتی ہے۔ جن لوگوں کے میری طرح صرف ایک نام ہوتے ہیں‘ ان کے پاسپورٹ عموماً کمپیوٹر سے نہیں پڑھے جاتے‘ اس لئے میں نے یہ عرضداشت لکھ دی کہ سند رہے۔ مجھے یقین ہے کہ کئی قارئین میرے اس کالم کا مذاق اڑائیں گے کہ اتنی چھوٹی سی بات بھلا کسے معلوم نہیں ہوگی۔

 تاہم میں نے نوجوان ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں‘ انجینئروں اور افسروں تک کو اپنے بچوں کے نام اس بین الاقوامی فارمولے کے خلاف رکھتے دیکھا ہے۔ نام رکھنا ویسے بھی دلچسپ اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ کئی بار گھروں میں مختلف رشتہ دارایک ہی بچے پر اپنے اپنے نام رکھ لیتے ہیں‘مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب پاسپورٹ بننے دیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ میٹرک کے سرٹیفیکیٹ میں ماموں نے اختر نام لکھوایا تھا‘ کالج میں ابو نے شریف کا اندراج کیا تھا اور یونیورسٹی کی ڈگری میں خان بھی لکھا ہوا ہے۔ تب ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کی ابتدا اخبار میں نام کی تصحیح سے ہوتی ہے اور ایف آئی آر تک نکل جاتی ہے۔ پچھلے ہی ماہ میرے ایک قریبی دوست کو اپنی بیٹی کی یونیورسٹی کی ڈگری اور میٹرک سرٹیفیکیٹ میں ناموں میں مطابقت پیدا کرنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔

 اس لئے اب ضروری ہے کہ نہ صرف بچوں کے نام طریقے سے رکھے جائیں بلکہ ان کے ہجے بھی انگریزی طرز پرلکھے جائیں۔ انگریزی میں کیو(Q) کبھی بھی یو(U)کے بغیر نہیں آتا اور نہ ہی وہ قلمی ق کی آواز دیتا ہے۔ اسی طرح ڈبلیو اور وی کے تلفظ میں کافی فرق ہے۔ آج تو کوئی خوبصورت سا نام رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا لیکن کل کو جب کسی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس نام کو بگاڑ کے بولا جائے تو آپ کے آج کے بچے کل کے جوان احساسِ کمتری میں مبتلا ہوں گے۔میرے بچے ہوئے تو میں نے عہد کیا کہ نام اتنے مختصر ہوں کہ کوئی اسے اس سے بھی زیادہ مختصر نہ کرسکے۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں امجد ہمیشہ جیدا ہی رہتا ہے۔ تاہم جس بات کا میں ادراک نہ کرسکا تھا وہ تلفظ تھا۔ نام ایسے ہونے چاہئیں کہ دنیا کی کسی زبان میں بھی وہ بولے جاسکیں۔ پ اور چ والے الفاظ مشرق وسطیٰ میں ب اور ج رہ جائیں گے۔ہمارے ایک بزرگ تھے جلیل صاحب۔ ابتدائی تعلیم ڈھاکہ میں پائی۔ وہاں وہ جلیل بھائی سے ذلیل بھائی ہوکر رہ گئے کہ بنگالی ج نہیں بول سکتے!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔