73

تاریک موٹروے کا سفر

عید کی خوشیاں گرمی کی حدت میں بھی عروج پر رہیں‘ عید کا پہلا دن تو اپنے رشتہ داروں‘ بہن بھائیوں کیساتھ ہی اچھا لگتا ہے‘ جہاں دلوں کے جہان کئی گنا وسیع تر ہو جاتے ہیں‘ نہ کوئی شور برا لگتا ہے اور نہ ہی چیخ پکار اور نہ بے تحاشا کام کاج بد مزاج بناتا ہے‘ دل چاہتا ہے کچھ اور شور ہو‘ کچھ اور قہقہے ہوں‘ ایسے میں اپنے وہ دل کے قریب پیارے بہت زیادہ یاد آتے ہیں جو مٹی کی ڈھیریاں بسائے ہم سے چھپ گئے ہیں‘ رمضان سے ہی ان کی یادیں ان کی آوازیں‘ ان کی باتیں جیسے آس پاس ہونا شروع ہوجاتی ہیں اورپھر چاند رات‘ عید کے دن تو ہماری ہر خوشی کیساتھ ہی وہ بھی موجود ہوتے ہیں‘ اللہ پاک ان سب کے درجات بلند کرے (آمین)‘ ایبٹ آباد کی موٹر وے پر گاڑی نے موڑ مڑا تو خوشی دوبالا ہوگئی‘ ایک خوبصورت سڑک نے ہمیں خوش آمدید کہا‘ یہ صحیح ہے کہ ملک وقوم کی ترقی میں سڑکیں اہم بنیاد ہوتی ہیں اور پھر یہ سڑکیں کھلی کشادہ اور پکی ہوں تو شہر نہ صرف دوسرے شہروں سے رابطے آسان رکھتے ہیں بلکہ تجارت ‘ آمدورفت کی بے پناہ سہولتیں بھی ملتی ہیں‘ ترقی یافتہ قومیں انہی سہولتوں کے باعث زندگی کی آسائشیں حاصل کرتے ہیں‘ مجھے بڑا تجسس تھا کہ ایبٹ آباد کی یہ بہت خوبصورت موٹر وے کون کون سے شہروں تک جاتی ہے اور ان کے فاصلے کتنے ہیں‘ لیکن افسوس نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے ایسی کوئی معلومات سڑک کے دونوں اطراف کہیں بھی درج نہیں تھیں‘ اس طرح کے بل بورڈز اور بینرز سیاحوں کی معلومات میں بے انتہا اضافہ کرتے ہیں۔

ا یبٹ آباد میں ایک عرصے کے بعد ایک لنچ دعوت پر جارہی تھی‘ اس سے پہلے میں نے ایک انتہائی چھوٹی سڑک پر یہ سفر کیاتھا جس پر دونوں طرف سے ٹریفک رواں دواں تھی اور ایسا گاڑیوں کا اژدھام تھا کہ کئی بار میں نے ا پنے عوام کے صبر‘ حوصلے اور استقامت کی تعریف کی تھی‘ شاید اس کا صلہ ایبٹ آباد کے اس خوبصورت حسین نظاروں سے بھرپور موٹروے کی صورت میں ملا تھا لیکن شاہ مقصود انٹرچینج پر یہ حسین سفر یکدم اختتام پذیر ہوا اور ہماری گاڑی دوبارہ ٹریفک کے ایسے طوفان میں گھر گئی جہاں ایک طوفان بدتمیزی تھا‘ تین تین لائنوں میں لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش میں ساری ٹریفک کا نظام برباد کرنے میں پوری طرح کامیاب رہے تھے‘ ایک تو چڑھائی‘ دوسرے ٹریفک جام اور بارش کے فوراً بعد نالوں‘ کھائیوں سے پھیلتا بدبودار ہوا‘ لوگوں نے سب سے آسان کام یہ کر رکھا تھا کہ گھروں‘ دکانوں کا کوڑا ان حسین وجمیل نظاروں کی نذر کردیا ہوا تھا‘ جو اب مہینوں بعد بدبو اور بھبوکوں کی صورت میں ان ہی کے مزاج کو آزما رہا تھا‘ ایک کھائی دور سے ا یسی بھی نظر آئی جو کوڑے کا بہت ہی بڑا پہاڑ دکھائی دے رہا تھا۔

 اس کے اوپر ربڑ کے ٹائر رکھ کراپنی طرف سے اس کو جل کر راکھ کیاجارہا تھا کہ ربڑکے دھوئیں اور گند کے پہاڑوں کی بساند نے ایبٹ آباد کے اس حسن کو ایسا گہن لگا دیا کہ سوائے ناک بند کردینے سے بات نہیں بن رہی تھی‘ اگر ہم نے اپنے ٹورازم کو فروغ دینا ہے تو پھر سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور حکومت اور عوام کو مل کر اس کا سدباب کرنے کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا‘ ایبٹ آباد کا ڈھائی تین گھنٹوں کا سفر سات گھنٹوں میں طے ہوا اور ہم اپنے میزبانوں کی بے پناہ مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے‘ واپسی پر بھی آدھا سفر اسی تنگ راستے پر سفر کی مشقت میں گزرا‘ میرے بھانجے نے ایک ماہر ڈرائیور کے طورپر جب گاڑی کو یکدم آدھے راستے سے موڑ لیا تو گہری اندھیری سڑک پر میں نے پوچھا‘ گاڑی کیوں موڑلی‘ کہنے لگا موٹروے آگئی ہے‘ مجھے حیرت ہوئی‘ سڑک پر موٹروے پر مڑنے کیلئے کوئی لائٹ‘ کوئی بورڈ حتیٰ کہ ایک اچھا اور برابر موڑ بھی موجود نہیں تھا‘ شاید وہ سیاح جو پہلی دفعہ ایبٹ آباد دیکھنے آئے ہوں گے وہ یقینا اس موڑ کو بغیر دیکھے سیدھا ہی چلے گئے ہوں گے‘ ان باتوں کا خیال رکھنے والے این ایچ اے کے حکام ذمہ دار ہیں۔

 موٹروے اتنی اندھیری ہے جیسے کسی غریب کے گھر میں دیئے کے پیسے بھی نہ ہوں‘ ٹول پلازہ ہر کوئی گاڑی بھی 300-250 روپے نذرانہ دیئے بغیر نہیں گزر رہی اور شاید ایک دن کی آمدنی لاکھوں روپوں تک پہنچ جاتی ہو‘ اگر ایک یا دو کلو میٹر کے فاصلے پر بھی سٹریٹ لائٹیں لگادی جائیں تو یہ ترقی ہمیں زیادہ خوش کرے گی اور راستوں کو آسان بنائے گی‘ یہی حال برہان سے پشاور تک ہے‘ دور دور تک تاریک اور اندھیری موٹروے اداس نظر آتی ہے‘ کتنی جگہوں پر میں نے کچھ مسافروں کو دیکھا جو گاڑیاں کھڑی کرکے ہاتھوں پرکھانا رکھ کر کھا رہے تھے‘ ہوسکتا ہے ان کی ازحد مجبوری ہو اور اس طرح وہ سڑک پر بزرگوں یا بچوں کو کھانا کھلا رہے تھے‘ چھوٹے چھوٹے ریسٹ روم بھی بنائے جاسکتے ہیں تاکہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا ہوں‘ اس کے باوجود بھی سڑکیں بنانے والوں کیلئے میرا خراج تحسین ہے‘ پشاور کی عید کا اپنا ہی لطف ہے‘ جی ٹی روڈ پر آئی تو اپنے بچپن کی عید یاد آگئی‘ آج کے دن کی نسبت بظاہر وہ پھیکی اور بے رنگ ہوگی لیکن ہمیں تو اپنی وہ عید بھی کس قدر حسین لگتی تھی‘ چاند رات کو ہماری واحد خوشی برتن میں گلی ہوئی مہندی ہوتی تھی جو ماں ہم تینوں بہنوں کو ہاتھوں پاﺅں پر لگا کر کپڑے سے ہاتھ پاﺅں لپیٹ دیتی تھی اور ہم اسی حالت میں سو جاتے تھے۔

 صبح بندھے ہوئے کپڑے ڈھیلے ہوئے ہوتے تھے‘ ہم لنگڑا لنگڑا کر حمام کے نلکے کے نیچے پیڑھی پر بیٹھ کر کپڑا کھولتے تھے اور پاﺅں ہاتھ دھوتے تھے‘ سرخ لال رنگ ہماری سادہ سی خوشیوں کو دوبالا کردیتا تھا‘ مہندی کی خوشبو ہمیں سویوں کی یاد دلاتی تھی‘ ایک بڑے لگن میںا بلی ہوئی مزیدار سویاں بان کی چارپائی پر پڑی ہوتیں ہمارا انتظار کررہی ہوتی تھیں‘ سویوں کے اوپر ہم شکر ڈالتے تھے‘ جنہیں ڈالنے کا رواج تو بہت بعد میں زندگیوں میں داخل ہوا تھا‘ اس شکر کا مزا اور مٹھاس اب تک نہیں بھولتی‘شاید ہماری مائیں اپنے ہاتھوں میں ایسی لذت ‘ ذائقہ اور مٹھاس لئے رکھتی تھیں کہ بچپن آج تک ذہن کی یادوں میں موجود ہے‘ زیادہ سے زیادہ عیدی بھی 10روپے ہوتی تھی ورنہ ایک روپیہ‘ دو روپیہ ہی ہماری خوشیوں کو بام عروج تک پہنچا دیتے تھے‘ نمک منڈی میں لگے ہوئے جھولے شاید ہمیشہ ہی یاد رہیں گے‘ وہ بے رنگ اور عارضی جھولے ہمیں اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی سے بھرپور لگا کرتے تھے اور اپنی وہ قیمتی عیدی ہم جھولے کے مالک کی نذر کرکے زندگی کی بھرپور خوشی ملتی تھی‘ واپسی پر تیلوں اور لکڑی سے بنی ہوئی پھمبھیریاں اور گڈیاں لے کر خوشی خوشی گھر واپس لوٹتے تھے‘ جہاں شفیق ماں باپ ہمیں کھانا کھلانے گلے لگانے کیلئے ہماری راہ تک رہے ہوتے تھے‘ ہم لوگ بار بارہاتھوں پر مہندی کی بنی ہوئی مچھلیوں کو دیکھ کر عید کے دن کا احساس لئے خوش ہوتے تھے‘ آج کئی برس بیت گئے ہیں‘ میں پشاور میں ہوں‘ عید کا دن ہے‘ ماں باپ کی قبروں پر کھڑی ہو کر بہت سی پرانی یادیں آنکھوں میں آنسوﺅں کی زبانی اپنے آپ کو خود ہی سنا رہی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔