73

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

اس ملک میں کئی لکھاری حق کی بات کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ ہچکچاتے ہیں اور دو مرتبہ سوچتے ہیں کہ کہیں ان کو لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ‘ یہ او آئی سی(OIC) کا ادارہ بھلا ہمارے کس کام کا کہ جس کے کرتا دھرتا سعودی عرب میں ہونےوالے حالیہ اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے (مکہ ڈکلریشن) میں کشمیر میں ہونے والی بھارتی زیادتیوں کی مذمت میں ایک لفظ تک شامل نہ کرواسکے ‘ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا کھلا ثبوت نہ تھا تو پھر کیا تھا ؟ کیا او آئی سی ممبران کواس بات کا پتہ نہیں کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندﺅ بنیا وہاں کے مسلمانوں سے کیا سلوک کر رہا ہے بھارتی فوج کس بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور وہاں کے مسلمان باسیوں خصوصاً کشمیری جوانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے تو صرف سعودی عرب کے حکمرانوں سے ہی نہیں پورے عالم اسلام سے گلا ہے کہ جن کے نمائندے او آئی سی کے رکن ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر ان کی قومی غیرت کیوں نہیں جاگتی‘او آئی سی کے منہ میں دانت نہیں ہیں اس کی حیثیت ایک نمائشی کلب سے زیادہ بالکل نہیں ہے۔

 اب تو اس میںاتنی سکت بھی نہیں کہ یہ کشمیری مسلمانوں پر ہونےوالے مظالم کے خلاف کوئی قرار دا د ہی پاس کرے‘ کجا یہ کہ اس سے کسی بڑے اقدام کی توقع کی جائے‘او آئی سی اگر فسلطینیوں اور کشمیریوں پر ہونےوالے مظالم کے حوالے سے آواز نہ اٹھا سکے تو پھر اور اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے‘کشمیر میں بھارتی مظالم اور زور و جبرکا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اب تو یہ اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اس سے پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں‘دو ایٹمی طاقتوںٍکے درمیان جو کشیدگی اور تناﺅ کی صورتحال ہے اس کی بڑی وجہ کشمیر کا تنازعہ ہے ‘اقوام متحدہ سے توکوئی گلا نہیں مگر او آئی سی تو مسلمان ممالک کا ہی ادارہ ہے اگر یہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حوالے سے اقدامات نہیں اٹھائیں گے تو پھر کون اٹھائے گا‘ ہماری کمزور اور ناقص پالیسی کی اس سے بڑی مثال بھلا کیا ہو گی کہ ہم نے پیسے کے ملک میں آنے اور باہر جانے کیلئے کوئی مربوط نظام نہیں بنایا‘ جس سے ایسی قوتوں نے فائدہ اٹھایا جو پاکستان میں بے چینی پھیلانے میں ملوث ہیں ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کی معاشی کمزوری ہی اس کی وہ بڑی کمزوری ہے۔

 جس کا عکس ملک کے تمام شعبوں میں نظر آتا ہے‘ ملک کو معاشی استحکام سے ہمکنار کرنے اور قومی خزانے کو بھرنے کے حوالے سے اب موثر اقدامات کرنے ہونگے‘ حقیقت یہ ہے کہ ہم مالی طور پر اتنے خراب کبھی بھی نہ ہوتے اور دیگر ممالک کے آگے مالی امداد کیلئے اپنے ہاتھ کبھی نہ پھیلاتے اگر ہم میں سے ہر شخص حکومت کو اتنا ٹیکس دیتا جو اس پر واجب ہے‘ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ ہم معاشرتی اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمزوری دکھاتے ہیں‘ خاص کر حکومت کو ٹیکسوں اپنے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کی ادائیگی میں‘سچ تویہ ہے کہ حکومت کے خزانے میں روپے ہونگے تو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کیا جا سکے گا کہ جس سے غربت و افلاس جیسی بیماریوں کا علاج کرنے میں مدد ملے گی اور عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن ہوگی‘ پیسے درخت پر نہیں اگتے انہیں حکومت مالدار طبقوں سے وصول کرکے عوام پر خرچ کرتی ہے اگر وہ لوگ جو اربوں میں کھیل رہے ہیں وہ ٹیکس نہیں دیں گے اور ملکی خزانے میں اپنا حصہ بقدر جثہ نہیں ڈالیں گے تو معمولات زندگی کیسے چلیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔