41

سیاسی سورج‘غروب؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میٹرو پولیٹن (سکاٹ لینڈ یارڈ) پولیس نے کہا ہے کہ ”گیار جون کی صبح 60سالہ شخص کو پاکستان مخالف تقاریر سے متعلق کیس میں حراست میں لیا گیا ہے۔“ شمال مغربی لندن میں ہوئی یہ گرفتاری برطانیہ کے ”سنگین جرائم ایکٹ 2007“ کی دفعہ 44کے تحت عمل میں لائی گئی ہے‘ جس میں دانستہ طور پر جرائم پر اُکسانے یا جرائم میں معاونت جیسے جرائم شامل ہیں۔ برطانوی ”پولیس اینڈ کریمنل ایویڈنس ایکٹ“ کے تحت زیرحراست الطاف حسین سے پوچھ گچھ کرے گی۔ الطاف حسین کی ’22 اگست 2016ئ‘ کے روز کی گئی تقریر سے متعلق کیس میں تفتیش رواں برس اپریل میں مکمل کی گئی ہے۔ مذکورہ تقریر میں الطاف حسین نے کارکنوں کو کراچی پریس کلب اور اُسکے قریب میڈیا ہاو¿سز پر حملوں کےلئے اُکسایا تھا اور اُن کی تقریر کے بعد پرتشدد کاروائیاں میں جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ برطانیہ میں الطاف حسین کو اپنے خلاف نہ صرف نفرت انگیز تقریر بلکہ دیگر کئی مقدمات کا بھی سامنا ہے‘ سال 2013ءمیں لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے‘ جس میں الطاف حسین کے گھر سے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نقدی برآمد ہوئی تھی جسے ”پروسیڈ آف کرائم ایکٹ“ کے تحت قبضے میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کیں اور اِس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کیا۔

جون 2014ءمیں الطاف حسین کو حراست میں لیا گیا‘ تاہم انہیں چند روز بعد رہا کردیا گیا اور تحقیقات کے دوران ان کی ضمانت میں کئی بار توسیع بھی کی گئی تاہم 13اکتوبر 2016ءکو ’سکاٹ لینڈ یارڈ‘ (پولیس) نے الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ختم کر دیا تھا۔ ’ایم کیو ایم‘ کے لئے ’یاد ماضی‘ کسی عذاب سے کم نہیں اور وہ اگرچہ اِس سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے لیکن شاید اب ممکن نہیں رہا۔ خود کو پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت کہنے والی ’ایم کیو ایم‘ کے حالات کا تجزیہ اگر 3مارچ 2016ءسے پہلے کے حالات سے کریں تو بہت کچھ مختلف نظر آئےگا‘ دریں اثناءمصطفی کمال نے 23مارچ 2016ء’یوم پاکستان‘ کے دن کا انتخاب کرتے ہوئے اپنی ایک نئی جماعت ”پاک سر زمین پارٹی“ کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم سے الگ ہونے کے بعد مصطفی کمال زیادہ محب وطن بن گئے اور یوں انہوں نے نہ صرف قومی ترانے کے الفاظ ’پاک سرزمین ‘ کو پارٹی کا نام دیا بلکہ چاند اور ستارے کے بغیر قومی جھنڈے کو بھی اپنا سیاسی پرچم بنالیا اور کھلم کھلا الطاف حسین کے خلاف مہم چلانے لگے۔

 مصطفیٰ کمال اب بھی یہ چاہتے ہیں کہ پرانی ایم کیو ایم کو لندن اور کراچی سے چلانے سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ تمام لوگ ’پاک سرزمین پارٹی‘ میں شامل ہوجائیں! سردست ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی دونوں ہی مہاجروں کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں اور ان دونوں کی گمشدہ افراد سے متعلق رائے ایک ہی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں‘ آزاد کشمیر اور وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں الطاف حسین کے خلاف غداری کے کم از کم ڈیڑھ سو مقدمات درج ہیں‘ جن کا ذکر خود الطاف حسین اپنی تقاریر میں بھی کرتے رہے ہیں‘ اس میں شک نہیں کہ آج فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر گزشتہ ایک سال سے مسلسل سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے فیصلوں میں الطاف حسین یا لندن کی قیادت کا عمل دخل نظر نہیں آتا لیکن عوام‘ ریاست اور حکومت کو یقین دلانے کے لئے فاروق ستار اور ان کی ٹیم کو مزید خود مختار ہوکر ایک بالکل الگ اور مضبوط پارٹی بن کر سامنے آنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔