90

اہلِ محفل پہ کب احوال کھلاہے اپنا

عید بے شک ختم ہو گئی مگر اسکی دی ہوئی مہربانیوں اور سرشاریوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے ،ہر چند موسم کی حدت نے یار لوگوں کو عید ملن کی تقاریب کا حوصلہ نہ بخشا مگر پھر بھی مل بیٹھنے کے بہانے ملتے رہے، پھر چھوٹی سکرین نے بھی کئی عمدہ پروگراموں کی وجہ سے مصروف رکھا،عید کے موقع پر عموماََ مزاحیہ مشاعرے مختلف چینلز پر چلتے رہتے ہیں لیکن اس عید پر ان کی تعداد بہت کم رہی، ایک ایسا ہی مشاعرہ پی ٹی وی ہوم کی سکرین پر بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ کل پاکستان مزاحیہ مشاعرہ تھا، اور عید کے تینوں دن یوں نشر ہوا کہ کچھ شاعروں نے پہلے دن کچھ نے دوسرے اور کچھ نے تیسرے دن کلام سنایا مگر حرام ہو جو کوئی ایک شعر بھی معیاری مزاح کا حامل رہا ہو۔ مشاعرے کے میزبان سے لے کر ہر دن کے الگ الگ میر محفل سمیت کوئی ایک بھی ناظرین کو متاثر نہ کر سکا، حالانکہ مزاح کی دنیا کے کئی معروف نام ان میں شامل تھے، مگر سب نے اپنا ایک ہی کلام گزشتہ دس پندرہ برسوں میں اتنی بار سنایا ہے کہ کند اور غبی ناظرین کو حرف حرف ازبر ہو گیا ہے، کچھ سنجیدہ شعرا کو بھی پی ٹی وی نے مزاح کی بھٹی میں جھونک دیا تھا ان کا تو خیر وہی حشر ہوا جو ہونا چاہیے تھااور جن کا کلام چیخ چیخ کرپی ٹی وی کی انتظامیہ سے بزبان حال کہہ رہا تھا ” آپ بھی شرم سار ہومجھ کو بھی شرمسار کر“ اور ناظرین میں سے ان کے بیشتر خیر خوا ہ یہی کہتے رہ گئے۔ ” جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں “ اس مشاعرہ کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس بہت معتبر اور اہم ادارہ کو نہ جانے کس کی نظرلگ گئی ہے۔

 جب یہ اکیلا دوڑ کر فرسٹ آ رہا تھا تو یہ بات برائے بات نہ تھی واقعی اس ادارے کے پروفیشنلز نے اسے سرخیل بنایا ہوا تھا اور پڑوس کے چینلز نہ صرف اسے رشک کی نظر سے دیکھتے بلکہ اس کی تقلید بھی کرتے رہے ہیں دنیا کی چند بڑی فلمی صنعتوں میں سے ایک بڑی صنعت پڑوس کی تھی اور اب بھی ہے مگر اس سے جڑے ہوئے قد آور فنکار نصیر الدین شاہ کو ایک انٹرویو میں کہنا پڑا،” جب پاکستان ٹیلیویژن کے کسی نئے ڈرامہ سیریل کی کیسٹ انڈیا پہنچتی ہے تو وہ ہمارے لئے ایک بھرپور ٹریٹ ہوتی ہے اور ہم دوست مل کر اسے انجوائے کرتے ہیں “ مگر جب سے چھوٹی سکرین پر مختلف کھڑکیاں کھل گئیں ہیں،پی ٹی وی کے تمام مراکز کی رونقیں سمٹ گئیں ہیں، کبھی کا کماو¿ پوت خسارے کی کہانیاں سنانے لگا، مجھے یاد ہے کہ پشاور جیسے چھوٹے سنٹر کے پروگرام پروڈیسرز کے کمروں پر مشتمل کاریڈور میںسے گزرنا محال ہوتا تھا، کمرے بھرے ہوئے کاریڈور فنکاروں سے اٹے ہوئے اور ریہرسال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہو تی تھی۔ اب تو خیر بہت دنوں سے اس گلی کی طرف جانا نہیں ہوا مگر سال بھر پہلے جب گیا تھا تو بلا مبالغہ سنٹر کی ویرانی نے رلا دیا تھا۔ اب بھی وہی حال ہو گا،ان دنوں ویسے بھی پشاور کی حد تک انتظامیہ ان سبکدوش ہونے والے پروڈیوسرز کو نوازنے میں لگی ہوئی ہے۔ جو کبھی باد شاہ تھے اب ڈراموں میں کسی بھی حیثیت میں کام کرنے کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہیں، ایک بہت ہی سینئر پروڈیوسر کو کچھ عرصہ قبل مزاحیہ خاکوں میں دیکھ کر دل کی عجب حالت ہوئی۔

” کیا بلندی تھی کیسی پستی ہے “ کچھ اپنی تمام تر کرو فر بھلا کر ان نئے پروڈیوسرکے ساتھ نتھی ہو گئے جن کی مسیں بھی ابھی نہیں بھیگیں۔ ” روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر“ کی پھبتی بھی یار لوگ کستے رہے حتیٰ کہ اس کل پاکستان مزاحیہ مشاعرے کے لئے پی ٹی وی کے مختلف مراکز سے بھیجے گئے سارے شاعر مزاحیہ شاعری کے کوچے سے کوسوں دور کھڑے تھے، بلکہ ایک آدھ کو تو عزت سادات بھی داو¿ پر لگانا پڑی۔ سو اس مشاعرے کو دیکھ کر اور سن کربھی ہنسی تو بہت آئی مگر آنکھوں میں دھواں بھی بھرتا گیا کہ یہ ہنسی کسی شعر پر نہیں آئی تھی۔ بہر طور چھوٹی سکرین پر پی ٹی وی کا ایک آدھ موسیقی کا شو بہت عمدہ رہا، موسیقی کے شوز بھی عید کے دنوں میں خوب ہوتے ہیں،اے وی ٹی خیبر کی غزل نائٹ ” ژوند غزل غزل “ کی بات تو نہیں کروں گا کہ اس کی میزبانی میرے ذمے تھی مگر ” ژوند خکلے دے“ کے ٹائٹل تلے ہونے والا طویل دورانیہ کا خاکوں،ایوارڈز اور موسیقی کا ملا جلا شو بہت پسندکیا گیا، سکرین سے ہٹ کر بھی مل بیٹھنے کے کچھ اور بہانے بھی ملے، احباب ایک دوسرے سے ملنے آتے جاتے رہے، سوشل میڈیا کے عروج کے اس دور میں بھی عید کے موقع پر آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔

دوست ِ مہرباں سینیٹر کمانڈر خلیل( سابقہ گورنر کے پی) کے ہاں عید پر فیملی ڈنر تو اب کئی برسوں سے ایک روایت بن چکاہے اب کے بھی ایسا ہوا ایک طرف خواتین کے آپس میں ہنسنے کھیلنے کا مقابلہ تھا دوسری طرف جواں سال رامش،اسد اور ابتسام کے قہقہے تھے اور ایک جانب ہماری منڈلی جمی اور خوب جمی کہ ادب و سیاست پر طویل گفتگو کے پس منظر میں ولایت حسین خان کی ستار اور استاد بسم اللہ خان کی شہنائی نے سرشار کیا اور پھر کملا جھریا کی مدھر آواز میں اردو غزلوں نے سماعتوں میں عجب گل کھلائے، بات

کرنی مشکل ہو گئی تھی فرید جاوید نے کہا تھا
گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

ادب اور سیات دونوں پر موسیقی حاوی ہوتی رہی، البتہ جب روٹریرین نعیم جی کے گھر احباب کا ایک خوبصورت اکٹھ ہواتو ان کی بیسمنٹ کے ٹھنڈے ٹھنڈے ماحول میں ٹی وی سکرین پر ان کی ہمیشہ سے لا جواب کلیکشن پلے ہوتی رہی تو اس رت جگے میں احباب کا ناسٹلجیا بھی نہ صرف جاگ اٹھا بلکہ دھمال بھی ڈالنے لگا ۔ اس نشست کا آغاز احمد فراز کی غزل سے ہوا جس نے بہت لطف دیا لطیفہ یہ ہوا کہ جونہی غزل ختم ہوئی تو احباب کی واہ واہ کے دوران وٹس ایپ پر معروف افسانہ نگار ارم ہاشمی کا ویڈیو میسج ملا۔ کھولا تو احمد فراز کی وہی غزل اس نے بھیجی تھی ،سینکڑوں میل دور سے موصول ہونے والی ویڈیو میں احباب کو دکھائی اور ارم ہاشمی کو فون کر کے اس اتفاق کا بتا تو کہنے لگی گویا ہم ایک ہی وقت میں اپنے محبوب شاعر کو سن رہے تھے۔ خیر پھر نعیم جی نے گزشتہ کل کی موسیقی کے وہ شہ پارے پلے کئے کہ مت پوچھئے،فراز سے شروع ہونے والی یہ نشست گلزار کی آواز میں اس کی نظم۔”کتابیں جھانکتی ہیں۔بند الماری کے شیشوں سے۔بڑی حسرت سے تکتی ہیں۔ مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔ “ پر ختم ہوئیں جس نے سب کو افسردہ کر دیا ، واپسی پر فراز کا شعر ہونٹوں پر تھا۔
اہل ِمحفل پہ کب ا حوال کھلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پرشش نہیں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔