68

کرکٹ:دی جنٹلمین گیم!

 ’ٹیم گرین‘ کے حوصلے بلند ہیں‘ عالمی مقابلوں سے زیادہ اہم بھارت کے خلاف میچ ہوگا‘ جو سولہ جون بروز اتوار کھیلا جائے گا‘ جس سے متعلق قومی ٹیم کی حکمت عملی کیا ہوگی‘ کیا ہونی چاہئے‘ اِس بارے میں فیصلہ سازوں کے علاوہ شائقین حلقے بھی مسلسل بحث و مباحثے اور غور کرنے میں اُلجھے ہوئے ہیں‘ قومی ٹیم کا ہر کھلاڑی جانتا ہے کہ وہ بھلے ہی ٹورنامنٹ ہار جائیں لیکن اُس کے ہاتھوں بھارت کی شکست ضروری ہے‘ وقت گزرنے کے ساتھ اہم ترین سوال یہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ بھارتی ٹیم جہاں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر باقی ٹیموں کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہے‘ وہیں اِس کو حاصل کمال کا اعتماد بھی مخالفوں کو پریشان کئے ہوئے ہے‘ کسی ایسی ٹیم کو ہرانے کے لئے کم سے کم اُس جیسا اعتماد درکار ہوتا ہے‘چیمپئنز ٹرافی کی جیت کو یاد رکھتے ہوئے پورے اِعتماد سے میدان میں اُترنا ہوگا کہ اگرچہ ’ورلڈ کپ‘ میں کبھی بھی بھارت کو شکست نہیں دی جاسکی ہے لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہونے جارہا ہے‘ اگر گھبراہٹ کی وجہ سے بلے بازوں نے سست آغاز لیا تو یہ دباو¿ تلے آ جائیں گے اور خدانخواستہ وہی نتیجہ آئے گا جو ہر ورلڈ کپ میں آتا ہے‘ لیکن کسی بُرے نتیجے سے بچنا ہے تو اس کا حل صرف یہی ہے کہ بھارتی ٹیم کا مقابلہ اُسی اعتماد سے کیا جائے‘ جس اعتماد سے بھارت باقی ٹیموں کا سامنا کررہی ہے کیونکہ مسئلہ صرف ہار اور جیت کا نہیں بلکہ مسئلہ تو لڑائی کا بھی ہے۔

ورلڈ کپ میں اب تک کھیلے گئے میچوں میں سے پاکستان بمقابلہ برطانیہ ہی ایسا واحد میچ رہا جو کرکٹ سے جڑی ”سنسنی خیزی“ کی تعریف پر پورا اُترتا ہے‘ ورنہ تو ہر میچ بغیر دلچسپی ہی ختم ہوا ہے‘ اِسی طرح بھارت اور آسٹریلیا کے مابین اہم میچ آسٹریلوی ٹیم کی انتہائی مایوس کن کی وجہ سے یک طرفہ رہا‘ بھارت نے آسٹریلیا کو بالکل ویسے ہی شکست دی‘ جیسے آسٹریلوی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے باقی ٹیموں کو دے رہی تھی یعنی صرف میچ نہیں ہرایا بلکہ پہلے ڈرایا‘ دھمکایا‘ خوفزدہ کیا اور پھر میچ ہرایا‘ وہ بھی مکمل گرفت کےساتھ! پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آج (12جون) کے ٹاکرے سے متعلق کسی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں اندازہ لگانے کےلئے بھارت آسٹریلیا میچ سے حاصل نتیجے پر غور کرنا ہوگا جب آسٹریلیوی ٹیم نے ابتدائی دس اوورز بالکل ٹھیک کروائے لیکن اس کے بعد ایسا لگا جیسے کپتان اور باو¿لرز مسلسل اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح بھارت کو زیادہ سے زیادہ رنز فراہم کئے جائیں‘ نہ کوئی فیلڈنگ نظر آئی اور نہ ہی باو¿لنگ‘ باو¿لنگ کی صورتحال تو یہ تھی کہ ہر بال ایک الگ جگہ پھینکی جارہی تھی‘ جس کا بھارتی بلے باز بھرپور فائدہ اٹھارہے تھے‘ میچ کے 43ویں اوور تک معاملہ یہ تھا کہ دونوں ہی ٹیموں کا اسکور 282 رنز تھا یعنی بھارتی ٹیم نے آخری 7اوور میں 70رنز بنائے اور آسٹریلوی ٹیم صرف34رنز بنا سکی‘ یہ بات ٹھیک ہے کہ دونوں ٹیموں میں یہ فرق ضرور تھا کہ بھارت کی 2وکٹیں گری تھیں اور آسٹریلیا کی چھ اور بھارت کو کم وکٹیں گرنے کا فائدہ حاصل ہوا۔

 مگر اس سے زیادہ فرق دونوں ٹیموں کی باو¿لنگ کے معیار کا بھی تھا‘ آسٹریلیا کے پرائم اور اہم ترین باو¿لر مچل اسٹارک نے ابتدائی سات اوورز میں صرف 36رنز دیئے لیکن انہوں نے اپنے آخری تین اوورز میں 38رنز دے کر ساری کسر ہی نکال دی‘ ورلڈ کپ مقابلوں کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ پہلے باو¿لنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے خلاف کسی بھی ٹیم نے تین سو یا اِس سے زیادہ رنز اسکور کئے‘ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی کس قدر خراب رہی‘ جب وکٹ پر باو¿لرز کے لئے کچھ نہ ہو تو ایک ہی صورت باقی تھی کہ ’یارکر‘ کروائے جاتے لیکن آسٹریلوی باو¿لرز شاید ایسا کرنا بھول گئے اور اِس غلطی کی اُنہیں بھرپور سزا ملی‘آسٹریلوی شکست کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس شکست کی ذمہ داری انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) پر بھی ڈالی جارہی ہے جس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ: چونکہ بڑی تعداد میں آسٹریلوی کھلاڑی ’آئی پی ایل‘ کا حصہ رہے‘ اسلئے بھارتی ٹیم ان کی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح واقف ہوگئی‘ لہٰذا انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے‘ دوسری وجہ: مفادات کا کھیل‘ اگرچہ یہ بات بہت عجیب محسوس ہورہی ہے لیکن بہرحال لوگوں کو کچھ بھی کہنے سے کون روک سکتا ہے! کہا یہی جارہا ہے کہ چونکہ اب ’آئی پی ایل‘ ایک بڑی منڈی بن چکی ہے‘ اسلئے آسٹریلوی کھلاڑی یہ ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بھی ’غلطی (اچھی کارکردگی)‘ کی وجہ سے وہ اگلی مرتبہ ’آئی پی ایل‘ کھیلنے سے محروم رہ جائیں‘کرکٹ اب کھیل نہیں رہا بلکہ کاروبار بن چکا ہے‘ اب ممالک کے درمیان مقابلے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے درمیان دوستیاں ہوتی ہیں اور چاہے کوئی مانی یا نہ مانے لیکن کرکٹ اب ’جنٹلمین گیم‘ نہیں رہا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔