623

محکمہ سیاحت اور معدنیا ت نئے ٹورازم ایکٹ پر متفق

پشاور۔محکمہ سیاحت اور محکمہ معدنیات نے نئے ٹورازم ایکٹ بنانے اور سیاحتی ترقی کے لئے  باہمی مشاورت سے کام کرنے پر اتفاق کیاہے.اس حوالے سے سینئر وزیر برائے سیاحت  عاطف خان اور وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری معدنیات عصمت اللہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری سیاحت بابر خان،ڈپٹی ڈائریکٹر معدنیات حیات رحمان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں نئے سیاحتی زونز،لیز اور قانونی پیچیدگیوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ محکمہ سیاحت اور معدنیات دونوں محکمے اربوں روپے ریونیو دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اسلئے قانونی پیچیدگیوں سے بچنا اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دونوں محکمے صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

اجلاس میں ایک ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی ہوا جو ٹورازم ایکٹ بنانے کے لئے محکمہ معدنیات،سیاحت اور جنگلات کے درمیان کوآرڈینیشن کرے گی۔سب کمیٹی تینوں محکموں کے اعلی افسران پر مشتمل ہو گی۔وزیر معدنیات نے نئے ٹورازم ایکٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہ جن مقامات پر قیمتی معدنیات کے لئے کان کنی ہورہی ہے ان جگہوں کو سیاحتی زون کے لئے مختص نہ کی کیا جائے اور جو مقامات سیاحت کے حوالے سے زیادہ اہم ہیں وہاں پر مستقبل میں کان کنی نہیں کی جائیگی۔سینئر وزیر نے وزیر معدنیات کی تجاویز غور سے سنیں اور کہا کہ صوبے کی ترقی کے لئے دونوں محکموں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ نیا ٹورازم ایکٹ باہمی مشاورت سے بنایا جائیگا جس میں ہر قسم کی قانونی پیچیدگیوں کا ازالہ کیا جائیگا۔وزیر معدنیات نے اس موقع پر سینئر وزیر کو یقین دلایا کہ محکمہ معدنیات سیاحت کے زونز مختص کرنے میں پورا تعاون کرے گا تاکہ صوبہ کو ریونیو حاصل کرنے کے لئے مواقع دستیاب ہو سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔