114

کرکٹ کا بخار

دنیا کے جن ممالک میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے وہ سب آج کل کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہیں اور یہ بخار اسوقت ٹوٹے گا جب 2019ءکا ورلڈ کپ جوآج کل انگلستان میں ہو رہا ہے آئندہ چند دنوں میں اپنے اختتام کو پہنچے گا ‘1975ءسے کرکٹ ورلڈ کپ تواتر سے ہر چار سال بعد ہو رہا ہے اسکا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میچز اب زندہ درگور ہو گئے ہیںٹیسٹ میچز کی ایک اپنی علیحدہ کشش اور مقام ہے اور سچ پوچھئے تو پرانے کرکٹ کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کو ہی خالص کرکٹ قرار دیتے ہیں انکے نزدیک ففٹی ففٹی اور ٹی ٹوےنٹی میچز تو بس ایک تماشا ہیں‘ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اعجاز ہے کہ اسکی وجہ سے اب امپائرنگ کا معیار بہت بلند ہو چکا ہے اب کوئی کرکٹ امپائر کسی بلے بازکو آﺅٹ قرار دینے میں ڈنڈی مارنے کاسوچ ہی نہیںسکتا ورنہ ایک دور تھاکہ امپائروں کے اکثر فیصلے خصوصاً جن کا تعلق ایل بی ڈبلیو سے ہوتا تھا متنازعہ ہوتے تھے پاکستان کے ایک امپائرادریس بیگ صاحب اکثر ایل بی ڈبلیوکے فیصلے دینے کی وجہ سے بدنام تھے‘ بھارتی ٹیم کے ایک سابق کپتان لالہ امرناتھ نے ان پرالزام لگایا تھا کہ وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالحفیظ کاردار سے پیشگی پوچھ لیا کرتے تھے کہ کس کس بھارتی بلے باز کو ایل بی ڈبلیو قرار دینا ہے موصوف کی انہی حرکات کی وجہ سے پشاور میں انہیں ایم سی سی کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں نے رات کے وقت ان کے ہوٹل کے کمرے میں گھس کر پیٹا تھا۔

 جس کی وجہ سے انکے ایک بازو میںفریکچر آیا تھا اور معاملہ اتنا گھمبیر ہو گیاتھا کہ اگرپاکستان اور انگلستان کے سفیرفوری مداخلت کرکے اسے رفع دفع نہ کرتے تو اس سے عالمی سطح پر ایک بہت بڑاسکینڈل بن سکتا تھا‘ نیوٹرل امپائرز کی تعیناتی سے بھی اب امپائروں کے فیصلوں کا معیار کافی اچھا ہو گیاہے یعنی جن دو ممالک کے درمیان میچ کھیلا جا رہا ہو تو ان سے تعلق رکھنے والے امپائروں کواس میچ میں امپائرکھڑا نہیں کیا جاتا امپائرنگ کے معاملے میں کسی زمانے میں ویسٹ انڈیز کے امپائرز بھی اس وجہ سے کافی بدنام تھے کہ وہ کرکٹ گراﺅنڈ میں موجود پبلک کے دباﺅ سے اکثر ایل بی ڈبلیو کے فیصلے ویسٹ انڈیز کے مدمقابل کھیلنے والے بلے بازوں کےخلاف دے دیتے تھے کیونکہ ان کو پبلک نے پہلے ہی سے دھمکی دی ہوتی تھی کہ اگرانہوں نے ایسا نہ کیا تومیچ کے بعد ان کی خیر نہیں‘جب سے نیوٹرل امپائر کا چلن عام ہوا اس قسم کے دھونس اور دھمکی کا سلسلہ بھی ختم ہو گیاہے۔

 ایک دور تھا کہ جب کرکٹ کا مطلب صرف اور صرف ٹیسٹ کرکٹ ہوا کرتا اور ہر ٹےسٹ میچ چھ دنوں پر اس طرح محیط ہوتا کہ پہلے تین دنوں کے کھیل کے بعد چوتھا دن آرام کا ہوتا اور پھر آرام کے بعد کھلاڑی مزید دو دن یعنی پانچویں اور چھٹے دن کھیلتے‘ بعد میں آرام کا دن ختم کر دیا گیا‘ ایک زمانے میں آسٹریلیا میں ہراوور چھ گیندوں کے بجائے 8 گیندوں پر محیط ہوتا یعنی ہر اوور میں چھ کے بجائے آٹھ مرتبہ گیند پھینکی جاتی‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح انگلستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم میں ایک روایتی دشمنی ہے اور ہر دوبرس بعدیہ دو ٹیمیں ایشز کرکٹ ٹورنامنٹ کے نام پر ہونے والے مقابلے میں تواتر سے کئی عرصے سے میدان میں اتر رہی ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جب کبھی میچ ہوتا ہے تو پوراپاکستان اور بھارت ذہنی طور پر اس میں ملوث ہوتا ہے اور لگتا یہ ہے کہ جیسے کرکٹ میچ نہیں ہو رہاکوئی جنگ ہو رہی ہے پاکستان میں سرکاری سرپرستی اور میڈیا کوریج کی وجہ سے جتنی تیزی سے کرکٹ کا کھیل مقبول ہو کر پھیلا اسی تیزی سے پاکستان کا قومی کھیل جو کہ ہاکی ہے زوال پذیر ہو ا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔