36

تین محرکات

تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ہنگامہ آرائی کی نذر کرنے کی کوشش میں حزب اختلاف کے اراکین اس بات کو بھی بھول گئے کہ انکے اس اقدام سے کس قدر ابہام پیدا ہوتا ہے‘ گیارہ جون رات گئے تک نجی ٹیلی ویژن چینل بجٹ کو کھول کھول کر بیان کرتے رہے لیکن سیاسی طور پر مختلف النظریات اقتصادی ماہرین کسی ایک نکتے پر متفق دکھائی نہیں دےئے۔ عجیب صورتحال ہے کہ پاکستان کے تجزیہ کار بھی سیاسی ہوتے ہیں حالانکہ دنیا میں تجزیہ کاروں کا جھکاو¿ کسی ایک جماعت کے سیاسی نظریئے کا دفاع کرنے کےلئے نہیں ہوتا‘ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے‘ماضی میں بھی بجٹ تقاریر کے موقع قومی اسمبلی ایوان میں اسی قسم کا شور شرابا دیکھنے میں آتا رہا ہے‘ تاہم اس مرتبہ شدت کچھ زیادہ بلکہ ضرورت سے زیادہ تھی‘اگر حزب اختلاف کو کسی بات سے اختلاف ہے تو انہیں اپنا اعتراض بجٹ تقریر سن کر اور بجٹ دستاویزات پڑھنے کے بعد اسکا اظہار کرنا چاہئے‘۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ابھی بجٹ پیش نہیں ہوا لیکن اس کی اچھائیوں اور برائیوں کو ایک ہی پلڑے میں تول دیا جاتا ہے‘اس لمحہ فکریہ پر حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ آئندہ بجٹ تقریر براہ راست نشر کرنے کی بجائے اسے ریکارڈ کر کے نشر کرے تاکہ عوام کو کچھ پلے تو پڑ سکے۔ علاوہ ازیں طباعت پر اخراجات کرنے اور سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل بجٹ دستاویزات اراکین میں تقسیم کرنے کی بجائے انہیں یو ایس بی ڈرائیو یا ڈی وی ڈی میں دینے سے مالی وسائل کی بچت کی جا سکتی ہے ویسے بھی ہر رکن اسمبلی بجٹ دستاویزات سے استفادہ کرنے کی باوجود خواہش بھی قابلیت نہیں رکھتا تو اس قدر اخراجات کی کیا ضرورت ہے!؟قوم تماشائی تھی جب بجٹ پیش کرنے کے موقع پر قومی اسمبلی میں اس قدر ہنگامہ آرائی کی گئی کہ تقریر تو دور کی بات‘ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی اور خود تحریک انصاف کا تخلیق کردہ نعرہ ”گو نواز گو“ کا نیا ورژن ”گو نیازی گو“ کی صورت ایوان میں گونجتا رہا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں جہاں کم از کم قابل ٹیکس آمدن کی حد بارہ لاکھ سے کم کر کے تنخواہ دار طبقے کےلئے چھ لاکھ اور دیگر غیر تنخواہ دار طبقے کےلئے چار لاکھ مقرر کی ہے وہیں انکم ٹیکس کا تعین کرنے کےلئے موجود سلیبز کی تعداد بڑھا کر بارہ کر دی گئی ہے‘بارہ لاکھ کی حد گزشتہ برس مسلم لیگ نواز حکومت نے اپنے چھٹے اور آخری بجٹ میں مقرر کی تھی تاہم منگل کو بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر محصولات حماد اظہر نے کہا کہ اس اقدام سے 80ارب روپے کا نقصان ہوا‘ بجٹ پر سب سے زیادہ نظریں تنخواہ دار طبقے اور پنشن وصول کرنے والوں کی ہوتی ہیں۔

 دوہزار انیس بیس کے فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کے لئے جو سلیبز مقرر کئے گئے ان میں کم از کم ٹیکس کی شرح پانچ جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح پینتیس فیصد تجویز کی گئی ہے‘سلیبز میں کی جانےوالی تبدیلیوں کے بعد پہلے سلیب میں ایسے افراد آئیں گے جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے کم یعنی پچاس ہزار روپے ماہانہ ہے تاہم ان افراد کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔ دوسرے سلیب میں ایسے تنخواہ دار افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی آمدن چھ لاکھ سے بارہ لاکھ روپے سالانہ تک ہے اور انہیں چھ لاکھ سے زائد رقم پر پانچ فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔ مثال کے طور پر وہ شخص جس کی آمدن دس لاکھ روپے سالانہ یا ماہانہ 83ہزار تین سو تینتیس روپے ہو وہ اب تک صرف ایک ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے رہا تھا تاہم اسے نئے قوانین کے تحت چھ لاکھ کی آمدن پر چھوٹ حاصل ہوگی اور بقیہ چار لاکھ روپے پر وہ پانچ فیصد کی شرح سے بیس ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے گا یعنی اس کا ٹیکس 666روپے بڑھ جائے گا۔

 اس برس زیادہ آمدن والے تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹیکس کو مزید کئی سلیبزمیں تقسیم کیا گیا ہے اور آٹھویں سلیب میں 80لاکھ سے ایک کروڑ 20لاکھ آمدن والے افراد کو 13لاکھ 45ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس کے علاوہ 80لاکھ سے زیادہ آمدن کا 25فیصد بطور انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا‘نواں سلیب ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سے تین کروڑ روپے سالانہ آمدن والے افراد کےلئے ہے جو 23لاکھ 45ہزار روپے مستقل انکم ٹیکس کے علاوہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سے زیادہ آمدن پر ساڑھے ستائیس فیصد انکم ٹیکس دیں گے۔ دسواں سلیب تین کروڑ سے پانچ کروڑ آمدنی والوں کےلئے ہے جن سے بہتر لاکھ پچانوے ہزار روپے فکس ٹیکس کے علاوہ تین کروڑ سے زیادہ آمدن پر تیس فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔گیارہویں سلیب میں پانچ سے ساڑھے سات کروڑ روپے سالانہ آمدن والے افراد آتے ہیں جو ایک کروڑ بتیس لاکھ پچانوے ہزار روپے فکسڈ اور پانچ کروڑ سے زیادہ رقم پر ساڑھے بتیس فیصد ٹیکس دیں گے‘آخری اور بارہواں سلیب ایسے افراد کےلئے ہے جن کی سالانہ آمدن ساڑھے سات کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ افراد دو کروڑ چودہ لاکھ بیس ہزار روپے فکس اور ساڑھے سات کروڑ سے زیادہ آمدن پر پینتیس فیصد ٹیکس دیں گے۔ تحریک انصاف کا بجٹ نئے ٹیکس عائد کرنے‘ ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور ٹیکس وصولی سے متعلق اصلاحات و طریقہ¿ کار میں تبدیلی جیسے تین بنیادی محرکات کا مجموعہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔