39

نیا اور پرانا قبائلی نظام

 وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے دنوںگورنرہاﺅس پشاورمیں ایک قبائلی جرگے سے خطاب میں کہاہے کہ قبائلی اضلاع میں نیا نظام لایا جارہا ہے جو قبائلی عوام کے رہن سہن‘روایات اور رواج سے متصادم نہیں ہوگانئے نظام میں قبائلی علاقوں میں جرگہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی اور عوام کی مشاورت سے مسائل حل کئے جائینگے‘ کوشش ہے کہ نئے نظام سے قبائلی روایات‘طرز زندگی زیادہ متاثر نہ ہو‘نیااورپراناقبائلی نظام ایک ساتھ چلے گا‘ عمران خان کاکہنا تھاکہ قبائلی اضلاع میں پرانا جرگہ سسٹم فعال بنائیں گے تاکہ لوگوں کوفوری اورسستا انصاف ملے‘ہماری پہلی ترجیح نئے اضلاع کی ترقی ہے قبائلی اضلاع کا نیا نظام قبائلیوں کے رہن سہن‘روایات سے متصادم نہیں ہوگا ‘قبائلی علاقوں میں مشران اورعمائدین کی وجہ سے امن برقراررہا‘قبائلیوں کے مسائل قبائلی عوام کی مشاورت سے ہی حل ہوں گے۔ وزیر اعظم کی لے میں لے ملاتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کاکہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں انضمام کے نئے نظام سے مذکورہ علاقوں کی روایات‘ ثقافت اور طرز زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا گیا ہے۔

 جوقبائلی روایات و ثقافت سے متصادم ہو‘قبائلی عوام کےساتھ ماضی کے حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران کتنے مخلص ہیں اس کااندازہ وزیر اعظم عمران خان کے ان ارشادات عالیہ سے ہوتا ہے جن میں وہ کبھی انضمام کے عمل کو مکمل کر کے قبائلی اضلاع کو دیگر ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لانے کی خوشخبریاں دن رات سناتے نہیں تھکتے اور اب وہ ایک بار پھریوٹرن لیتے ہوئے انضمام کے ایک سال بعد قبائل کو نئے نظام کےساتھ ساتھ پرانے نظام کے تسلسل اور اس فرسودہ نظام کو جاری رکھنے کا سندیسہ سنا رہے ہیںبلکہ روایتی قبائلی نظام جسے جرگہ سسٹم کے خوشنما الفاظ کے تڑکے کے ساتھ قبائل بالخصوص پرانے فرسودہ نظام کے دلدادہ افراد پر نئے لیبل کےساتھ بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ منتخب ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں ملنے والی متوقع نمائندگی کی بجائے غیر منتخب بااثرسابق ملکان اور سفید ریش حضرات کو چور دروازے سے نوازنے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں جس سے عمومی تاثر یہی ابھر کرسامنے آ رہا ہے کہ موجودہ حکمران نہ تو انضمام کے عمل کی تکمیل میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی انہیں قبائل کی ترقی اور ان کے احساس محرومیوں کے خاتمے سے کوئی دلچسپی ہے۔

افسوس اس بات پر بھی ہے کہ گورنر کا کرپشن کی بیخ کنی کے حوالے سے بیان ایک ایسے موقع پرسامنے آیا ہے جب ابھی چند دن قبل ہی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات رپورٹ ہو چکی ہیں کہ پشاور اورضلع خیبر کے سنگم پر واقع باڑہ شیخان کا نوتعمیر شدہ پل کرپشن کی نذر ہوکر ناکارہ ہونے کے بعد انگریز دور کا زائدالمیعاد پل بھاری گاڑیوں کیلئے دوبارہ استعمال کیا جانے لگا ہے۔ یاد رہے کہ باڑہ شیخان پل انگریز دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی میعاد کئی سال قبل پوری ہو چکی ہے تاہم یہ پل اب بھی استعمال میں لایا جارہا ہے ‘اس تاریخی پل کے برعکس 2017میں اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونےوالی متنی جمرود شاہراہ اور باڑہ شیخان پل میں تعمیر کے کچھ عرصے بعد ہی کھڈے پڑ گئے ہیںجس کی کئی مرتبہ مرمت بھی کی گئی ہے لیکن بالآخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر یہ سڑک اور پل ناکارہ ہوچکے ہےں اور اب کئی ہفتوں سے چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کےلئے سو سال پہلے تعمیرکئے گئے انگریزدور کا پل دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے اور باڑہ شیخان پل دوبارہ مرمت کیلئے بند ہونے کے باعث ہر قسم کی گاڑیاں انگریز دور کے پرانے پل پر منتقل کردی گئی ہیں‘۔

رہاجاتاہے کہ 1990 میں ایک انگریز نے اس پل کا دورہ کیا تھا ریکارڈ میں جب اسکی میعاد چیک کی گئی تو انہوں نے اس پل کو ناکارہ قرار دیا تھا‘دوسری جانب متنی جمرود شاہراہ کے بارے میں کہا جا تاہے کہ یہ شاہراہ بین الاقوامی طرز پر تعمیر کی گئی ہے تاہم ناقص میٹریل کے استعما ل سے بھاری گاڑیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی ہے جسکے باعث کم ہی عرصے میں یہ شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‘ یہ امر قابل ذکر ہے کہ متنی جمرود تعمیر ہونے والی شاہراہ کے بارے میں باڑہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر حاجی مومن آفریدی نے سینٹ میں تحریک التوا بھی پیش کی تھی جس پر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے اور یہ معاملہ جوں کا توں لٹک رہا ہے جومتعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی پر یقیناایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔