60

کھیل کھلاڑی اور تمباکو نوشی

عمران خان سے زیادہ کھیلوں کی اہمیت سے کون آشنا ہو سکتا ہے‘ تاہم تحریک انصاف کے پیش کردہ پہلے وفاقی بجٹ میں کھیل اور کھلاڑی نظرانداز ہونے کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آ رہی بلکہ توقع تو یہ تھی کہ تحریک انصاف ماضی کی حکومت سے بڑھ چڑھ کر کھیل اور کھلاڑیوں کو توجہ دے گی۔ تاحال کھیل کےلئے مختص بجٹ کا بڑا حصہ ملازمین کی تنخواہوں‘ مراعات اور پنشن کی نذر ہو رہا ہے جبکہ یکساں حیران کن بات یہ ہے کہ بجٹ میں کھیلوں کےلئے نئی ترقیاتی منصوبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور جو مالی وسائل مختص کئے بھی گئے ہیں تو وہ پہلے سے جاری یا پہلے سے تجویز کردہ منصوبوں کی مد میں چلے جائیں گے!نادر موقع ہے کہ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت میں تحریک انصاف ملک کے چار صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں عالمی معیار کی ایک ایک کوچنگ اکیڈمی بناتی‘جسکا مقصد اولمپک مقابلوں میں شامل مختلف کھیلوں کےلئے دستوں کی تیاری ہوتا‘ایسے بہت سے کھیل ہیں‘جن میں پاکستان ہمسایہ ملک بھارت اور درجنوں ممالک سے پیچھے ہے! بجٹ دستاویز کے مطابق مجموعی طور پر وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کےلئے کل 33 کروڑ99لاکھ 58ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں جو کھیلوں سے متعلق جاری 7 ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات کےلئے بھی ناکافی ہیں کیونکہ روپے کی قدر تیزی سے کم ہو رہی ہے اور یہ منصوبے مکمل ہونے سے قبل انکی لاگت بڑھ جائے گی!یہ امر بطور خاص توجہ طلب ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ مذکورہ وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کے ماتحت ہے اور اس وزارت کو ملنے والے مالی وسائل ہی سے آئندہ بارہ مہینوں میں ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر اخراجات کئے جائیں گے!بجٹ دستاویز کے مطابق 89 لاکھ 16ہزار روپے کوچنگ سنٹر کراچی میں زیر تعمیر باکسنگ جمنازیم کےلئے ایک کروڑ روپے نیشنل سپورٹس سٹی نارووال کےلئے 2 کروڑ 87 لاکھ 17 ہزار روپے کوچنگ سنٹر کراچی میں ملازمین کےلئے نئی رہائشی سہولیات کی تعمیر کےلئے‘ اسلام آباد میں بائیومیکینکل لیب کی تعمیر کےلئے 4کروڑ روپے جبکہ قومی کھیلوں کے انعقاد کےلئے 5 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اسکے علاوہ 10 کروڑ 20لاکھ روپے کی مجموعی رقم گلگت میں مصنوعی ہاکی ٹرف بچھانے کےلئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ سات شہروں اسلام آباد‘ فیصل آباد‘ واہ کینٹ‘ پشاور‘ کوئٹہ اور ایبٹ آباد میں مصنوعی ہاکی ٹرف کی تبدیلی کےلئے 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں صرف کھیل اور کھلاڑی ہی نظرانداز نہیں ہوئے بلکہ صحت عامہ کو لاحق خطرات کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اور سالانہ اربوں روپے منافع کمانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ان مصنوعات کو مہنگا نہیں کیا گیاجو ملک کے غریب یا کم آمدنی رکھنے والے طبقات نہیں کرتے۔ صحت سے متعلق حساس افراد کےلئے یہ خبر غیرمعمولی ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے سگریٹ اور انرجی ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کے اصولی فیصلے کے باوجود بھی نئے مالی سال کے مجوزہ بجٹ میں ان اشیاءکو شامل نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس اقدام کے پیچھے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھاگ دوڑ شامل ہوگی کیونکہ وفاقی کابینہ کے بجٹ سے متعلق فیصلے وقت سے پہلے ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوئے‘ جن کی وجہ سے کاروباری طبقات نے اپنے مفادات کا بروقت تحفظ کر لیا! بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ ہیلتھ ٹیکس وفاقی کابینہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا تھا۔

 تو پھر اسے مجوزہ بجٹ کا حصہ کیوں نہیں بنایا جا سکا!؟ حیرت انگیز بات یہ بھی رپورٹ ہوئی ہے کہ پارلیمانی سیشن سے قبل ہونےوالے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے آمدن بڑھانے کےلئے سگریٹ سے اس کے تیسرے درجے کا ٹیکس واپس لینے کی تجویز دی‘اندرون ملک اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے سوشل میڈیا کے ذریعے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی تھی اور اسے حسب حال و ضرورت قرار دیا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سگریٹ کے فی پیکٹ پر 10روپے جبکہ کولڈ ڈرنکس کی ڈھائی سو ملی لیٹر فی بوتل پر ایک روپے بطور ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ حکمت عملی یہ تھی کہ اس ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونےوالی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے گی‘ اس سے قبل سگریٹ پر تین طرح کے ٹیکس عائد تھے لیکن وزارت خزانہ کی تجویز پر سب سے کم درجے کا ٹیکس واپس لے لیا گیا جس سے تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونےوالی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یا ٹیکس میں 33ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے‘ وفاقی فیصلہ ساز یہ تو سوچ رہے کہ وہ تمباکو نوشی کو سستا کر کے ٹیکس اکٹھا کر لیں گے لیکن خام خیالی ملاحظہ کیجئے کہ اس آمدن سے زیادہ رقم تمباکو نوشی کرنےوالوں کے علاج پر خرچ کرنا پڑےگی! عجیب صورتحال ہے کہ ایک طرف نوجوانوں کو کھیل کی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کےلئے ہمارے پاس مالی وسائل نہیں اور دوسری طرف تمباکو نوشی پر عائد ایک عدد ٹیکس واپس لینے سے پھیپھڑوں اور منہ کا سرطان پھیلنے کے ایک بڑے ذریعے کی قیمت کر دی گئی ہے! کھیلوں کو نظرانداز کرنا اور تمباکو نوشی کی حوصلہ افزائی پر مبنی دونوں رجحانات ہی منفی اور ایک دوسرے کے متضاد ہیں! امید ہے کہ حکومت عوام کے وسیع تر مفاد میں ان دونوں شعبوں سے متعلق فیصلوں پر نظرثانی کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔