61

بجٹ میں مایوس کون ہوا

قومی بجٹ کے اعدادوشمار اور کمی بیشی کے گوشواروں سے اخبارات کے صفحے اور ٹی وی سکرینیں بھری پڑی ہیں‘ عام آدمی کچھ نہ سمجھنے کے باوجود باریک بینی سے اپنے لئے کسی آسانی کو ڈھونڈرہا ہے‘ مراعات یافتہ طبقہ اپنی پرآسائش زندگی پر پڑنے والے بوجھ کااندازہ لگا رہا ہے اور تنخواہ دار طبقہ مجوزہ اضافے سے زیادہ ٹیکس کے نفاذ پر تلملا رہا ہے‘اپوزیشن اس بات پر پریشان ہے کہ وہ بجٹ پر بحث کرے یا اپنے گرفتار ہونےوالے پیاروں کیلئے کوئی رعایت دیکھے‘یہ سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ بجٹ غیر متوقع نہیں تھا اورحکومت کی طرف سے کبھی بھی کوئی امید نہیں دلائی گئی تھی وزیراعظم عمران خان ہمیشہ یہ رونا روتے رہے ہیں کہ ہماری قوم ٹیکس نہیں دیتی حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ شیرخوار بچے سے لیکر نیم پاگل ملنگ تک اور ریڑھی لگانے والے تاجر سے لیکر دیہاڑی دار مزدور تک ہرمردوزن ٹیکس دیتا ہے لیکن فائل میں گوشوارہ بھر کر جمع نہیں کرواتا اسلئے نان فائلرز کو ٹیکس نادہندہ ہی سمجھا جاتا ہے اب حالیہ بجٹ میں چینی‘ گھی‘ دودھ‘ ڈبہ بند خوراک اور سٹیل کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے کیا یہ ٹیکس شوگر یا گھی مل مالکان دینگے؟ نہیں یہ سارا ٹیکس بھی عام آدمی ہی بھرے گا مگر پھر بھی ٹیکس چور ہی کہلائے گا جبکہ سالانہ اربوں کمانے والے بھی بجٹ کی طرح اعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے گوشوارے تو بھر دینگے مگر ٹیکس ہزاروں سے اوپر نہیں بڑھے گا حکومت کا سارا زور ہی ٹیکس بڑھانے پر ہے اور یہ بات خود ٹیکس حکام بھی سمجھتے ہیں کہ رضا کارانہ انکم ٹیکس دینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا اسلئے اس بار بھی زیادہ زور تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا ہے۔

 جو6 لاکھ سالانہ آمدنی سے ٹیکس شروع ہوتا ہے اگرچہ نجی سطح پر کمائی کی حد اس سے کم ےعنی4 لاکھ سالانہ رکھی گئی ہے مگر یہ متعلقہ شخص کی اپنی تشخیص پر ہے کہ وہ کتنی آمدنی ظاہر کرتا ہے جبکہ ملازم اپنی آمدنی چھپا ہی نہیں سکتا‘جہاں تک اس بات کی توقع ہے کہ ہر آدمی دیانتداری کےساتھ اپنی آمدنی ظاہر کرے اور ٹیکس اداکرے تو اس حوالے سے سخت مایوسی کا عالم ہے جتنا بڑا کوئی کاروباری ہے اتنا ہی ٹیکس چور بھی ہے مہنگی گاڑیاں‘ بڑے گھر اور بچوں کی مہنگے اداروں میں تعلیم کے اخراجات دیکھیں اور ٹیکس گوشوارے دیکھیں تو تضادبیانی سامنے آتی ہے مگر ٹیکس حکام ان سے کچھ نہیں پوچھتے‘1992ءمیں اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ایک کنونشن میں اسوقت کے امیر قاضی حسین احمد نے بڑا دبنگ خطاب کیا تھا انہوں نے کہاتھا کہ ناجائز آمدنی اور کرپشن کے ثبوت پہاڑوں کی مانند ہر شہر میں کھڑے ہیں جو بڑے بنگلوں اور کوٹھیوں کی صورت میں ہیں ہر ایک مالک سے یہ گھر بنانے اور چلانے کے وسائل مانگے جائیں ساری کرپشن سامنے آجائے گی ‘اب یہ کرپشن کے پہاڑ پاکستان سے باہر لندن اور دبئی میں بھی موجود ہیں مگر انکے مالکان سے کوئی پوچھنے والا نہیں جو کسی طرح پکڑ میں آگئے ہیں وہ مظلوم بن رہے ہیں‘ اپنے اثاثوں کے وسائل بتا نہیں سکتے اور کہہ رہے ہیں کہ بتاﺅ کرپشن کہاں کی ہے۔

 عمران خان قوم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ مشکلات میں تھوڑی مالی قربانی دینے اور خوشدلی کے ساتھ ٹیکس دینے کو تیار ہو جائے گی‘ ایسا تب ہی ممکن ہے جب مراعات یافتہ طبقہ پہل کرے مگر اس حوالے سے خود عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کا شمار بھی معروف معنوں میں ٹیکس چور طبقے میں ہی ہوتا ہے‘ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ بجٹ سے پہلے اور بجٹ کے بعد قوم سے خطاب کرنے سے لوگوں کی سوچ تبدیل ہو جائیگی تو یہ خام خیالی ہی ہے ان کو اس کی ابتدا خود پنے آپ‘ اپنے خاندان اور پھر اپنے قریبی رفقاءسے کرنی ہوگی ‘قوم کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ جس کام کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ پہلے ہم خود کر رہے ہیں اسکے بعد ہی عوام کاردعمل سامنے آئیگا‘بجٹ میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں تحائف کو بھی آمدنی تصور کیاگیا ہے یہ ایسا خفیہ ہتھیار تھا جس سے بڑے لوگ اربوں روپے کی آمدنی کو ٹیکس فری کرلیتے تھے بڑوں کے گوشوارے دیکھیں تو باپ نے بیٹے کو‘ بیٹے نے باپ کو‘ اسی طرح بیٹی‘ بیوی یا بہن کو اربوں روپے نقد بھی تحفہ کی شکل میں دیئے ہوئے ہیں اور اس میں دینے اور لینے والے دونوں ٹیکس نہیں دیتے اب یہ آمدنی تصور ہوگی اور اگر اس پر عملدرآمد ہوگیاتو بہت سی چوریاں پکڑی جائینگی اور ٹیکس میں بھی اضافہ ہوگا مگر ابھی یہ سب تجاویز اور مفروضے ہیں جب یہ بڑوں کے مک مکا سے گزر کر اور منظور ہو کر حتمی شکل میں آئینگی تو پتہ چلے گا کہ صرف غریب ہی قابل ٹیکس باقی بچے گا باقی بچ جائےں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔