84

گرفتاریوں کا موسم

کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے نام پر حکومت کے اقدامات میں تیزی آگئی ہے اور مسلم لیگ ن کے بعد اب پیپلزپارٹی پر بھی ہاتھ ڈالا گیا ہے‘ خدشہ ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید اہم لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی جن میں حکومتی پارٹی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض اہم لیڈر اور وزراءبھی شامل ہوسکتے ہےں‘سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرح پیپلزپارٹی کےساتھ بھی کوئی رعایت حکومت کی ترجیحات میں شامل نہےں ہے اور یہ اطلاعات درست نہےں تھےں کہ این آر او کے ذریعے بعض لیڈروں کو رعایت دی جائے گی‘ شہباز شریف کا مصالحتی فارمولہ بھی بری طرح ناکام ہوگیا ہے اور حمزہ شہباز بھی گرفتار کئے جاچکے ہےں ‘مریم نواز اور بلاول بھٹو کے سخت موقف کے مقابلے میں دونوں پارٹیوں نے یہ حکمت عملی اپنائی تھی کہ آصف علی زرداری اور شہباز شریف مزاحمت کی بجائے مصالحت کا راستہ اپنا کر مقتدر قوتوں کے قریب آنے کی کوشش کریں گے مگر یہ راستہ یا فارمولہ ناکامی سے دوچار ہوا اور اب لگ یہ رہا ہے کہ حکومت نے اس معاملے پر آخری حد تک جانے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے اور لوٹی گئی دولت واپس لانے کا ایجنڈا لیکر برسراقتدارآئے تھے اسلئے ان کے لئے سخت کاروائیوں کے سوا دوسرا کوئی آپشن موجود نہےں ہے۔

 تاہم اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد نہےں کیا جاسکتا کہ جاری احتساب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی تک محدود ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کو سیاست سے باہر کیا جائے‘ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا آپشن زیر غور ہے کہ نوازشریف اور آصف زرداری کواحتسابی عمل کے ذریعے سیاست سے آﺅٹ کیا جائے اور ان کی جگہ مستقبل قریب میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کو ایڈجسٹ کیا جائے‘ اس سلسلے میں بعض مبینہ رابطوں کی اطلاعات بھی زیر گردش ہےں اور شاید یہی وجہ ہے کہ زرداری اور حمزہ کی گرفتاری پر دونوں پارٹیوں کی کوئی عملی اوربڑی مزاحمت سامنے نہےں آئی‘ مولانا فضل الرحمان کی بلائی گئی اے پی سی میں اگر اپوزیشن نے سخت رویہ اپناکر تحریک چلانے کا اعلان کردیا تو یہ بات طے ہے کہ حکومت کے لئے چلنا مشکل ہوجائے گا تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے حکومت کے خاتمے سمیت ہر قسم کے حالات کے باوجود ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ کسی قسم کے دباﺅ یا کمپرومائز کے موڈ میں نہےں ہےں۔

رواں ہفتے کے دوران محض24گھنٹے کے دوران جہاں ایک طرف آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں وہاں لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو بھی حکومت پاکستان کی شکایت پر گرفتار کیاگیا‘ اس سے اگلے روز ایک اعلیٰ عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف سے حق دفاع چھینتے ہوئے ان کے خلاف بعض بنیادی نوعیت کے احکامات جاری کئے جس سے مشرف کی مشکلات میں بھی یکدم اضافہ ہوگیا ہے اور بظاہر لگ یہ رہا ہے کہ ان کے ساتھ کی جانیوالی مبینہ رعایت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے‘ قانونی ماہرین کے مطابق حالیہ احکامات کے بعد اب حکومت کے پاس مشرف کی گرفتاری کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن باقی نہےں رہا اس سے قبل آرمی رولز کے تحت فوج کے تین سابق افسران کو بھی سخت سزائیں دی گئی ہےں جو کہ اس جانب اشارہ تھا کہ بہت کچھ کیا جاسکتا ہے جبکہ پی ٹی ایم کے تین اہم لیڈر بھی زیر حراست ہےں‘ ان کاروائیوں کے کیا نتائج سامنے آتے ہےں یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن کا آغاز ہوچکا ہے اور مزید کاروائیاں متوقع ہےں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔