64

یتیم شکست

پاکستان کرکٹ ٹیم کی فیلڈنگ اسے لے ڈوبی ہے! ورلڈ کپ کے ابتدائی تینوں مقابلوں میں سے ایک میں بدترین شکست‘ ایک میں ناقابل یقین کامیابی اور ایک بارش کی نذر ہوجانے کے بعد آسٹریلیا کے خلاف میچ پاکستان کے لئے اہم اور بڑا امتحان تھا لیکن افسوس کہ ٹیم گرین اس امتحان میں ناکام ہوئی ہے! برطانیہ کو زبردست شکست دینے کے بعد یہاں کامیابی روایتی حریف بھارت کے خلاف اہم ترین میچ سے پہلے پاکستان کے حوصلوں کو بہت بڑھا سکتی تھی لیکن یہ نادر موقع آن کی آن میں ضائع کر دیا گیا‘آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی صرف اکتالیس رنز سے شکست میں فیلڈروں اور بلے بازوں کی نااہلی کا اہم کردار تھا‘ وہیں قسمت بھی ایک اہم ترین عنصر تھا۔ ابتدائی بیس اوورز کی اننگز میں آسٹریلیا نے ویسے تو بغیر کسی نقصان کے 122رنز بنائے لیکن ان کے بلے باز کتنی بار بال بال بچے؟ اس کا شمار کرنا شاید ممکن نہیں۔ بارہ جون کے مقابلے میں عامر اور وہاب ریاض کی عمدہ باو¿لنگ کے سامنے جب آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی دال نہیں گل رہی تھی تب پاکستانی فیلڈروں اور دیگر باو¿لروں نے رنگ میں خوب بھنگ ڈالا۔ عامر کے 10اوورز میں 30رنز اور وہاب ریاض کے 8اوورز میں 44رنز کے مقابلے میں شاہین آفریدی اور حسن علی نے اپنے 20اوورز میں 137جبکہ عماد وسیم اور شاداب خان کی عدم موجودگی میں سپنرز کی ذمہ داریاں نبھانے والے تجربہ کار شعیب ملک اور حفیظ نے اپنے 11اوورز میں 86رنز دیئے۔

 غالباً یہ 11اوورز ہی تھے جو پاکستان کو بہت مہنگے پڑگئے کیونکہ پاکستان پچ کی سبز رنگت دیکھ کر4فاسٹ باو¿لرز کےساتھ میدان میں اترا تھا یعنی بغیر پانچویں باو¿لر کے۔ اس پر طرہ یہ کہ ٹاس جیت کر خود باو¿لنگ کا فیصلہ کیا جبکہ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا کیا حال ہوتا ہے؟ پھر جو کسر رہ گئی تھی وہ فیلڈروں نے پوری کردی کہ جنہوں نے پہلے آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کا کیچ چھوڑا جو 26رنز پر زندگی ملنے کے بعد 82رنز کی شاندار اننگز کھیل گئے جبکہ ڈیوڈ وارنر کو بھی ایک موقع ملا گو کہ تب تک وہ اپنی قسمت کے بل بوتے پر کافی آگے نکل چکے تھے۔ مجموعی طور پر پاکستان کے فیلڈروں نے کیچ کے 3 اور رن آو¿ٹ کا کم سے کم ایک موقع ضائع کیا۔ ذرا ورلڈ کپ کی دیگر ٹیمیں دیکھیں‘ ان کے فیلڈر باو¿لروں کی محنت سے بننے والے اونے پونے چانس کو بھی تھام لیتے ہیں جبکہ یہاں ’ڈولی‘ اور ’لولی پوپس‘ کو بھی سخاوت کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اب تک ورلڈ کپ میں پاکستانی فیلڈر 8کیچ چھوڑ چکے ہیں‘ ایسی صورت میں صرف باو¿لرز بیچارے کیا کریں؟ ایسی فیلڈنگ اور بلے بازی کے ساتھ آپ کو مچل سٹارک جیسے پانچ باو¿لرز دے کر بھی میدان میں اتارا جائے‘ تب بھی کچھ نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آسٹریلیا کی شکست کی سب سے بڑی ذمہ داری فیلڈنگ پر عائد ہوتی ہے۔

 اس کے بعد آتے ہیں بلے باز۔ 1992ءکے ورلڈ کپ کی مثالیں تو بہت دی جاتی ہیں لیکن فتوحات میں وسیم اکرم اور مشتاق جیسے باو¿لرز کے ساتھ ساتھ جاوید میانداد‘ رمیز راجا‘ عامر سہیل اور انضمام الحق کا کردار بھی بہت اہم تھا۔ آج عالم یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر میں آپ کا گیم چینجر بلے باز فخر زمان اور لائن اپ کے تجربہ کار ترین کھلاڑی شعیب ملک صفر پر آو¿ٹ ہوجاتے ہیں۔ پھر پوری اننگز میں شاید ہی کوئی بلے باز ایسا ہو جو اچھی گیند پر آو¿ٹ ہوا ہو۔ امام الحق سے لے کر آصف علی تک‘ سب کے سب انتہائی غیر ضروری اور ناقص شاٹس کھیلتے ہوئے وکٹیں دے گئے۔

یہ تو حسن اور وہاب ریاض کی مختصر طوفانی اننگز تھیں جو پاکستان کی ڈوبتی امیدوں کو پھر زندہ کرگئیں ورنہ میچ تودرحقیقت 160رنز اور چھٹی وکٹ گرنے کے بعد ہی ختم ہو چکا تھا! آسٹریلیا کے خلاف میچ جیتنا بلاشبہ برطانیہ کے خلاف مقابلے سے کہیں زیادہ آسان تھا خاص طور پر عامر کی باو¿لنگ اور وہاب ریاض کی بیٹنگ کے بعد تو صرف فیصلہ کن وار کرنے کی ضرورت تھی لیکن کپتان سرفراز اس میں بھی ناکام ثابت ہوئے! ایک طرف سے وہاب ریاض کی دھواں دار بیٹنگ کے وقت ہی سرفراز کو معاملات اپنی گرفت میں لے لینے چاہئے تھے جب پاکستان کو صرف چوالیس رنز کی ضرورت تھی بلکہ اُن سے پہلے حسن کو بھی ٹھنڈے مزاج کے ساتھ کھیلنے کی ہدایت دینی چاہئے تھی لیکن کپتان نے ایسا نہیں کیا بلکہ آخری دونوں بلے بازوں کو بھی ایکسپوز کیا‘ یوں سامنے نظر آنے والی کامیابی مایوس کن ناکامی میں بدل گئی۔ بہرحال‘ شکست یتیم ہوتی ہے‘ اسے کوئی قبول نہیں کرتا لیکن ذمہ دار سب ہیں اور سب مل کر ہی اگلے میچز میں شکست خوردہ ذہنیت سے نکل سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔