295

بجٹ اور تنخواہ دار

 یوں تو ہر سال ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جس کا بلا واسطہ اثر تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے‘اس سے قبل حکومتوں نے اس بات کا خیال رکھا کہ تنخواہ دار طبقے پر کم سے کم بوجھ پڑے اسی لئے انہوںنے ٹیکس کی حد میں اضافہ کر دیا تھا اور اس کی تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی حد بارہ لاکھ سالانہ کر دی تھی‘ اس سے تنخواہ دار طبقے کو اچھا خاصا ریلیف ملا تھا‘ اب اس حکومت نے یہ حد چار لاکھ کر دی ہے جس سے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بہت زیادہ ہو جائے گا‘ ادھر جو لوگ بارہ لاکھ سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں اُن کی تعداد کافی زیادہے جس میںاور محکموں کے لوگ تو ایڈجسٹ کر لیں گے مگر یہ بوجھ تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طبقے پر بہت ہی زیادہ ڈالے گا اسلئے کہ دوسرے محکموں سے تعلق رکھنے والے افسر اپنے لئے اور بہت سے ایسے راستے پیدا کر لیتے ہیں جہاں سے وہ اپنا ٹیکس تنخواہ سے باہر سے ہی پیدا کر سکتے ہیں مگر تعلیم سے تعلق رکھنے والے افسر وں کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ تنخواہ سے باہر سے کوئی آمدن کا ذریعہ پیدا کر سکیں گے اسلئے کہ یہ افسر نہ توٹیوشن پڑھا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کیلئے کوئی اور ذریعہ آمدن ہے اسلئے ان کے ٹیکس کا سارا بوجھ ان کی تنخواہ پر ہی پرے گا۔

اسلئے ان کیلئے اپنے خاندان کو چلانا مشکل ہو جائے گا‘ اگر سابقہ حکومت نے ٹیکس کی شرح کو بارہ لاکھ سالانہ رکھا تھا تو وہ اسی لئے تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے ان سفید پوشوں کا گزارہ چل سکے گا مگر ا س حکومت نے جو اس کی شرح کو کم کر دیا ہے تو ہم نہیں سمجھتے کہ وہ طبقہ جو بارہ لاکھ سے زیادہ آمدن ( تنخواہ ) سے حاصل کر رہا ہے وہ اتنا زیادہ ٹیکس دینے کے بعدسفید پوشی سے کیسے گزارہ کر سکے گا‘جن ادارون کا تعلق بلا واسطہ عام آدمی سے ہے وہ تو عام آدمی کی جیب سے اپنا ٹیکس نکلوالےںگے مگر وہ سفید پوش جو اوپر کی آمدن حاصل نہیں کر سکتے اُن کیلئے اپنے سفید پوشی رکھنی بہت مشکل ہو جائے گی‘ادھرجس طرح کا رویہ حکومت نے حزب اختلاف سے رکھا ہوا ہے اور جس طرح کچھ لوگوں کو مستقل طور پرحزب اختلاف کے پیچھے لگا رکھا ہے اس سے معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ یہ بجٹ پاس کروانا حکومت کیلئے انتہائی مشکل ہو گا‘ ادھر جلتی پر تیل نیب نے جناب آصف زرداری کو قید کر کے ڈال دیا ہے اس سے جو کچھ پی پی پی اسمبلی کے اندر اور باہر کرے گی اس سے بھی ہنگامہ ہی نظر آ رہا ہے ‘ سرکاری ملازمین کے حالات تو بڑے ہی خراب نظر آ رہے ہیں ‘تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ بھی ناکافی ثابت ہوگا کیونکہ جوٹیکس کی شرح یہ حکومت رکھ رہی ہے۔

 اُس سے تو تنخواہ دار طبقہ پس کر رہ جائے گا‘ یوں بھی بجٹ تو ہرسال ہی عوام کا تیل نکالتا ہے مگر اس دفعہ کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے اسلئے کہ نئے پاکستان کی حکومت نے سارا سال دوسروںکو ہی کوستے گزارہ ہے اور عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ‘ نہ کسی طرح کا ایسا کام کیا ہے کہ جس سے ملک کی پیداوار میںکچھ ترقی ہو سکے اور نہ ہی معیشت کی طرف توجہ دی ہے صرف پچھلی حکومتوں کو ہی اس کاذمہ دار قرار دے کر اپنا وقت گزار دیا ہے‘ اب کیا ہو گا کہ آمدن کے کوئی ذرائع حاصل نہیں ہو سکے اور بجٹ میں بھی کوئی ایسا نہیں ہوا کہ پیداواری طریقے سے آمدن میں اضافہ کیا گیا ہو تو پھر صرف ٹیکسوںکے ذریعے ہی آمدن میںاضافہ ہو سکا ہے جس سے عوام کا مزید تیل نکلے گا‘ ادھر وزیر اعظم حزب اختلاف سے ہاتھ ملانے کے بھی روا دار نہیں ہیں بجٹ تو پیش کیا گیا مگر اس کی منظوری اور ایوان میں گرما گرمی کا سفر ابھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔