207

ٹیکس کا بوجھ کس پر؟

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے 1400 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا اعلان کیا ہے‘ خزانہ کیلئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی میں کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تواس کیلئے بھی حکومت پوری طرح تیار ہے‘ مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوگی‘ وہ برآمدات پر کوئی ٹیکس نہ لینے کاا علان بھی کرتے ہیں اور برآمدی شعبے کے اندرون ملک مصنوعات کی فروخت پر دیگر سیکٹرز کی طرح ٹیکس وصولی کا عندیہ بھی دیتے ہیں‘ دریں اثناءمیڈیا رپورٹس کے مطابق بیرونی قرضوں کے حوالے سے تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے سے متعلق امور پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے‘ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں اس حوالے سے ٹی او آرز پر بھی غور ہوا ہے‘ ادھر حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے 5 ہزار افراد کی درخواستیں وصول ہوچکی ہیں جبکہ ایف بی آر نے درپیش صورتحال کے تناظر میں 40ہزار روپے مالیت کے پرائزبانڈ کی رجسٹریشن کا فیصلہ بھی کیا ہے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز کی معیشت اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں اس طرح کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے بعض تلخ فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

حکومت کوبھی یقینا کچھ کڑوے گھونٹ پینے پڑ رہے ہیں‘ اس منظرنامے میں گوکہ حکومت کے فنانشل منیجرز یہی کہہ رہے ہیں کہ کمزور اور غریب طبقے کے اخراجات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ہاں امیر طبقے پر لگنے والے ہر ٹیکس کا بوجھ ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے عوام ہی کو اٹھانا پڑا ہے‘ جیسا کہ ماضی میں ضروری استعمال کی بعض اشیاءپر سیلز ٹیکس عائد ہوتے ہی ریٹیل پرائس کے خانے میں اس کی شرح درج ہو گئی اور ٹیکس کا سارا بوجھ صارف کو منتقل ہوگیا‘اب بھی صرف پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے پر مارکیٹ میں پھل اور سبزیاں بھی یہ کہہ کر مہنگی ہوجاتی ہیں کہ فارورڈنگ چارجز بڑھ چکے ہیں‘ حکومت کا غریب شہریوں پر بوجھ نہ بڑھانے سے متعلق احساس قابل اطمینان سہی تاہم اس کو عملی شکل دینے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

قبائلی اضلاع میں انتخابات

الیکشن کمیشن نے قبائلی اضلاع میں انتخابات 20جولائی تک مو¿خر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ یہ فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست پر کیاگیا‘ صوبے کی حکومت کو 20جولائی تک سکےورٹی امور مکمل کرنے کا کہاگیا ہے‘ قبائلی اضلاع میں نئے دور کاآغاز ایک تاریخی مرحلہ ہے‘ جس کو ثمر آور بنانے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ابھی باقی ہے‘ ہمارے ہاں حکومت کی جانب سے اہم معاملات پر فیصلہ آجانے کے بعد متعلقہ ادارے کام شروع کرتے ہیں جو حکومتی فیصلے کے نتائج کو عرصے تک التواءکا شکار بنادیتے ہیں‘ قبائلی اضلاع میں انتخابات صوبائی اسمبلی کے ہوں یا پھر بلدیاتی نظام دینا ہو‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے نتیجے میں آنے والا سیٹ اپ پہلے دن سے کام کرے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب متعلقہ دفاتر ہوم ورک بروقت مکمل کرکے رکھیں‘ اس ہوم ورک کی مانیٹرنگ کا موثر نظام بھی ضروری ہے۔