81

سیاستدانوں کی گرفتاری

سیانے کہتے ہےں کہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے بلکہ گفتگو کے وقت اگر اپنی آواز انسان خود بھی سن رہا ہو تو وہ پٹڑی سے نہےں اترتا‘ اگلے روز جب نیب والے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کررہے تھے تو مجھے ان کا حامد میر کو دیاگیا انٹرویو یاد آرہا تھا جس مےں موصوف نیب کے سربراہ کا ذکرکرتے ہوئے سخت غصے کے عالم میں آگئے اور نہایت تحقیر سے نیب کے سربراہ کے بارے میں فرمایا کہ کس کی مجال ہے جو مجھ پر کیس بنائے اور مجھے گرفتار کرے‘ کچھ اسی قسم کا مفہوم ان کی باتوں سے ظاہر تھا ایک تکبر‘رعونت ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی‘یہی نہےں نیب کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے نفرت اور حقارت کا رنگ صاف دکھائی دیتا تھا‘ آج اسی نیب کے وہ مہمان بن کر جارہے تھے ‘میگا کرپشن کے مقدمات میں وہ مطلوب ہےں اور اگلے روز انکی ضمانت مسترد ہوگئی تھی‘دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار انہےں عارضی ضمانت بھی دی گئی تھی عید انہےں گھر پر کرنے دی گئی وگر نہ ان کے پیٹی بھرا‘ میاں نوازشریف نے تو پہلی بار عید سلاخوں کے پیچھے گزاری‘مسلم لیگ ن ہو یا پیپلزپارٹی‘ دونوں ہی کئی بار اقتدار کا لطف اٹھا چکی ہےں اگر یہ پارٹی سربراہان چاہتے تو اس ملک کا یہ حال نہ ہوتا جو اسوقت ہے‘ مسلم لیگ ن کی حکومت جاتے جاتے خزانہ ڈکار گئی صرف اور صرف اس لئے کہ آنے والی حکومت عمران خان کی ہوگی اور وہ اسے کسی طور کامیاب ہوتادیکھنا نہےں چاہتے کیوں نہےں دیکھنا چاہتے صرف اسلئے کہ عمران عام لوگوں کی بات کرتا ہے اور اس ملک کے لوٹنے والوں کے لئے نرم گوشہ نہےں رکھتا۔

ان دنوں عمرانی حکومت سخت مشکلات کا شکار ہے تو اس کے پیچھے سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہےں‘قرض لے کر پارلیمنٹ کے ممبران ‘وزیر‘مشیراپنے بےنک بیلنس اور جائیدادیں بڑھاتے رہے ملک کا کسی نے نہ سوچاادھر عمران جو اپنی تقاریر میں فلاحی ریاست بنانے کی بات کررہے تھے وہ خالی خزانے کے ساتھ بلکہ ایک کرپٹ نظام کےساتھ وجود میں نہےں آسکتی‘آج پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے لوگ کس منہ سے عوام کی تکالیف کا رونا روہے ہےں ان لوگوں نے اپنے دور میں اللوں تللوں کے سوا کچھ نہےں کیا‘آج آصف زرداری اگر نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہےں تو یہ مقدمات عمران خان نے ان پر نہےں بنائے بلکہ یہ مقدمات مسلم لیگ ن نے انکی کرپشن پر بنائے تھے جس پر عملدرآمد آج ہورہا ہے‘مزے کی بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے یہ مقدمات درج کرائے آج وہی پیپلزپارٹی کی حلیف ہے بلکہ آصف زرداری کی گرفتاری کی مذمت کررہی ہے‘ بات انتہائی سادہ ہے کہ اگر کسی شخص یا جماعت کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے تو اسے احتساب کا سامنا کرنا چاہئے کہ آئین سے کوئی بھی شخص بالا نہےں اگر فوج اپنے افسران کو سزا دے سکتی ہے تو سول ادارے بھی اپنے کرپٹ افراد کا احتساب کرسکتے ہےں‘ عدالتیں آزاد ہےں حتیٰ کہ نیب کا سربراہ بھی انہی دونوں سیاسی جماعتوں کا لگایا ہوا ہے یوں اگر کسی کا دامن صاف ہے۔

 تو وہ عدالتوں میں بتا سکتا ہے جو سوالات عدالت پوچھتی ہے اس کا تسلی بخش جواب دے کر سرخرو ہوا جاسکتا ہے‘لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کی مبےنہ لوٹ مار کے مقدمات عدالتوں میں ہےں اور انکے پارٹی لیڈر اپنے آپ کو کلیئر کرانے کی بجائے سڑکوں پر آکر احتجاج کی باتیں کرتے ہےں اب ایسی حکومت کو ہٹانے کے لئے گٹھ جوڑ کی خبریں بھی ہےں جو صرف کرپشن کرنےوالوں کا احتساب کررہی ہے‘آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کچھ اور لوگ بھی یقینا کٹہرے میں لائے جائیں گے کم ازکم وہ قوم کو اپنے اثاثوں کا بتادیں کہ اتنی دولت انہوں نے کہاں سے کمائی اور یہ کہ انکے اپنے ملازمین کے نام کھلوائے گئے اکاﺅنٹ میں سے رقوم برآمد کیوں ہورہی ہےں‘آصف زرداری ہو یا میاں نواز شریف کی پارٹی سب کو احتساب سے گزرنا ہے یہی نہےں ججزہوں‘صحافی‘ جرنیل یا بیوروکریٹس سب کو اپنا اپنا حساب دینا چاہئے اس میں آخر کیا قباحت ہے ؟ اب زرداری اور میاں صاحب ایک درجے پر ہےں دونوں حساب دیں اور سرخرو ہوں تاکہ قوم بے یقینی کی اس صورتحال سے باہر آئے بجٹ کی پےش ہوچکا ہے اپوزیشن کو بجٹ پر توجہ دینی چاہئے لیکن لگتا یہی ہے کہ بجٹ سیشن میں بھی گرفتاریوں کےخلاف احتجاج کی باتیں ہوں گی اس شدید گرمی میں اپنے پارٹی ورکروں کو سڑکوں پر لانا ظلم کے مترادف ہے اول تو عوام خود بھی سخت گرمی اور مہنگائی سے بیزار ہےں اب سڑکوں پر کون آئے گا ؟ کچھ دن کےلئے زرداری سب پر بھاری کا نعرہ بھلا دیا جائیگا لیکن عمران خان بھی تو کچھ کریں انصاف کا اونٹ کس کروٹ تو بیٹھے عدالتوں کو جلد فیصلے دے کر قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔