73

صاحبان اقتدار کےلئے سبق

 پرویز مشرف کی کہانی بھی عجیب ہے‘صدارت سے الگ ہونے کے تقریباً6 سال بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے پرویز مشرف کےخلاف سنگین غداری کا کیس دائرکیا دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کیس 1999 کے ایکشن اور آئین معطل کرنے کے اقدام پر نہیں بلکہ نومبر2007 کو ایمرجنسی نافذ کرنے کےخلاف دائر کیا گیا‘یہ ایک الگ المیہ ہے کہ ملک کی بڑی فوج کی 10سال تک قیادت کرنےوالے پر غداری کا مقدمہ قائم ہوا مگر یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے مقدمہ قائم کرنے کے باوجود اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی بلکہ پرویز مشرف کو باہر جانے کا موقع بھی فراہم کیا ان کی غیر موجودگی میں خصوصی عدالت میں ڈھیلا ماٹھا کیس چلتا رہا اور اب گزشتہ روز مسلسل غیر حاضری کی بنیاد پر عدالت نے پرویز مشرف کا حق دفاع سلب کرلیا ہے‘ اب وہ اپنا وکیل بھی نہیں کر سکیں گے بلکہ عدالت ہی دفاع کیلئے وکیل مقرر کرے گی پرویز مشرف کی طرف سے بریت کی اپیل بھی مستردکردی گئی‘ عدالت کا موقف ہے کہ پرویز مشرف پہلے خود کو عدالت کے سامنے پیش کریں پھر مرضی کا وکیل یا دفاع کیلئے حق استعمال کرسکتے ہیں جبکہ وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سےریس بیماری میں مبتلا اور سفر کے قابل نہیں ہیں بہرحال اب انکا معاملہ عدالت کے پاس ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان کا معاملہ بہت پہلے ہی اللہ کے پاس چلا گیاتھا‘پاکستان میں احتساب بیورو کی سیاسی بنیادوں پر تشکیل اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کی ابتدا تو میاں نوازشریف نے ہی 1990 میں کی تھی جب انہوں نے اپنے ایک کاروباری شراکت دار اور پارٹی کے سینیٹر سیف الرحمن کو اس ادارے کا سربراہ بنایا تھا مگر اس کو نئے سرے سے منظم کرنے اور سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے پرویز مشرف نے زیادہ استعمال کیا۔

 یاد نہیںپڑتا کہ اس دور میں کسی سیاستدان کو کرپشن پر سزا بھی ہوئی ہو مگر بے شمار فائلیں دکھا کر بے شمار سیاستدانوں کو راہ راست پر لاکر شریک اقتدار کیاگیا ‘پرویز مشرف نے بلدیاتی اداروں کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ بیورو کریسی کو ان کے تابع کیا مگر کرپشن اور کمیشن خوری بھی عام ہوئی سیاسی فیصلوں سے چندسیاستدان تو ضرور متاثر ہوئے مگر ملک اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوا‘عوام خوشحال ہوئے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مشرف دور کی خوشحالی اور معیار زندگی برقرار رکھنا اب مشکل ہو رہا ہے‘انہوں نے ٹیلی کمیونیکیشن اور میڈیا کو جدید تقاضوں کے ہم آہنگ کیا مگر جس فیصلے نے ملک و قوم کو نقصان پہنچایا وہ افغان پالیسی پر یوٹرن اور9/11 کے بعد افغانستان پر حملے کیلئے امریکہ کا ساتھ دینا تھا اگرچہ اس وقت کے حالات میں اس سے بہتر آپشن نہیں تھا مگر امریکہ کو ضرورت سے زیادہ سہولیات دینے اور اسکے بدلے کوئی فوجی یا اقتصادی مفاد حاصل نہ کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا اگر کوئی مشاورت کی جاتی تو امریکی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم مراعات پر زیادہ معاوضہ لیاجاسکتا تھا‘اس فیصلے کے بعد نہ صرف پاکستان امریکی ایجنسیوں کا مرکز بن گیا بلکہ افغانستان ہمارا مخالف ہوگیا اور بھارت کو کابل میں پاﺅں جمانے کی مہلت مل گئی‘ امریکہ نے افغانستان پر کیا قبضہ کرناتھا وہ تو خود پھنس ہی گیا تھا ہمیں بھی پھنسا دیا۔

اس ایک فیصلے کی وجہ سے پاکستان کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان اور 70 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے ابھی تک افغانستان سے اعتماد بحال نہیں ہو پا رہا اور طویل جنگ کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا‘ اس ایک فیصلے سے پرویز مشرف کو اپنے اقتدارکیلئے امریکہ کی حمایت تو مل گئی مگر پاکستان کو تورا بورا بننے سے بچانے کیلئے جو فیصلہ کیاتھا یہ تورا بورا سے بھی زیادہ تباہ کن ہوا پرویزمشرف اقتدار سے علیحدگی کے بعدکسی طرح بیرون ملک تو چلے گئے مگر وہاں ایک ایسی پیچےدہ بیماری میں مبتلا ہوگئے کہ اب واقعی وہ واپس آنے کے قابل نہیں ‘جو شخص ہر بات پر کہتاتھا کہ کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں آج وہ بیماری کے ہاتھوں ہار چکا ہے پاکستان سے جذباتی لگاﺅ کی وجہ سے خواہش ہے کہ آخری وقت وطن میں گزارے اور دفن بھی اسی مٹی میں ہوں لیکن شاید اب ڈاکٹر اس خواہش کو بھی پورا نہ ہونے دیں‘ یہ مکافات عمل کا ایسا عبرتناک منظر ہے جس میں ہر صاحب اختیار کیلئے سبق موجود ہے اللہ ہم پر رحم کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔