154

قرضوں کی حقیقت

معمہ ہے کہ دس برس کے دوران لیا گیا 24 ہزار ارب روپے قرض کہاں گیا!؟ اور یہ سوال وزیراعظم عمران خان نے قوم کے سامنے رکھ دیا ہے جو پہلے ہی پریشان حال ہے!ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس قدر قرض کی وجوہات جاننے کےلئے قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیشن سے کیا حاصل ہوگا کیونکہ ماضی میں جب کبھی بھی کمیشن بنائے گئے‘ ان کا حاصل وصول کچھ نہیں رہا الٹا ’نشستن خوردن برخاستن‘ کے اخراجات ادا کرنے پڑ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عمران خان کی نگرانی میں کام کرنےوالا یہ کمیشن ماضی کی سیاسی قیادت سے پوچھ گچھ کرےگا کہ انہوں نے کن ضروریات اور حالات میں اتنے زیادہ قرض لینے کی منظوری دی! موجودہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ جو کہ سال 2010ءسے 2013ءتک وفاقی وزیرخزانہ رہے ہیں‘ یہ بھی تو ماضی کی ایک حکومت کا حصہ تھے تو کیا حکومت اپنے ہی مشیر خزانہ سے بھی پوچھ گچھ کرے گی!؟ایسے بہت سے سوالات نے معاملے کو کافی دلچسپ اور سوشل میڈیا صارفین کےلئے پرکشش بنا دیا ہے! جہاں ہر قسم کی وضاحت موجود ہے‘ مثال کے طور پر موجودہ حزب اختلاف کے سیاسی ہم خیال صارفین لکھتے ہیں کہ پاکستان کے قرضوں کی بجائے ان کی نوعیت کو سمجھنا زیادہ ضروری اور اہم ہے‘ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان پر اس قدر قرضہ ہے تو اس میں عموماً حکومتی قرضے کےساتھ ساتھ دیگر قرضے مثلاً نجی شعبے کا بیرونی قرضے‘ حکومتی واجبات‘ پبلک سیکٹر کمپنیوں کے قرض وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں‘ان میں کچھ ایسے بھی بیرونی قرضے ہوتے ہیں جو کہ حکومت نے ادا نہیں کرنے ہوتے بلکہ ان کا ذمہ دار نجی شعبہ ہوتا ہے مگر انہیں ملک کے کل قرضوں میں اسلئے شمار کیا جا رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ پیسہ تو بہرحال قومی خزانے ہی سے کسی بیرونی کرنسی کی صورت میں ادا ہونا ہوتا ہے۔

مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر اعدادوشمار موجود ہیں‘مالی سال 2007-08ءکے اختتام سے لے کر مالی سال 2017-18ءکے اختتام تک پاکستان کے ذمے واجب الاداءقرضوں کے حجم میں 49ارب ڈالر کا اضافہ ہوا‘ اور وہ 46.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر95.2ارب ڈالر ہوئے جو 100فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔اس 49ارب ڈالر میں سے پیپلزپارٹی کے دور حکومت کے دوران 14.7 ارب ڈالر جبکہ نواز لیگ کے دور حکومت میں 34.3ارب ڈالر قرض لیا گیا‘خود تحریک اِنصاف کی دور حکومت کے ابتدائی 7مہینوں سے پاکستان کا کل قرض 95.2 ارب سے بڑھ کر 105.8ارب ڈالر ہوا‘ جو کہ 10ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہے‘یقینا ماضی کی طرح تحریک انصاف کے لئے گئے ان قرضوں میں حکومت کے ملکی بینکوں سے لئے گئے قرضے‘ نجی کمپنیوں کے بیرونی قرضے‘ پبلک سیکٹر کمپنیوں کے ضمانت اور بغیر ضمانت والے جملہ قرضہ جات شامل ہیں۔ قرضوں کے بڑھنے کے اس طریقے کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے‘ سعودی عرب اگر پاکستان کو اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر بہتر کرنے کےلئے تین یا چار ارب ڈالر دے اور وہ قرضے کی مد میں نہ بھی ہوں لیکن پھر بھی وہ پاکستان کے واجبات میں شمار ہوتے ہیں لیکن اگر صرف قرضوں کی بات کی جائے یعنی وہ قرضہ جو کہ کسی بیرونی ذریعے سے لیا گیا اور وہ قرض جو آئی ایم ایف سے لیا گیا تو ان 2 صورتوں میں لئے جانے والے قرض کی کہانی بڑی حد تک مختلف ہے۔

اگر حکومتی بیرونی قرضہ اور آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض جمع کیا جائے تو یہ مالی سال 2007-08ءکے اختتام سے مالی سال 2017-18ءکے اختتام تک 41.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 70.2ارب ڈالر ہوا۔ اگر سال 2008ءسے 2013ءتک پیپلز پارٹی کے دور کو دیکھا جائے تو اس دوران مجموعی طور پر 6.3ارب ڈالر قرض لیا گیا جبکہ نواز لیگ کے دور حکومت میں یہ رقم 48.1ارب ڈالر سے بڑھ کر 70.2ارب ڈالر تک جا پہنچی جو کہ 22.1ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ ماضی و حال کی ہر سیاسی جماعت نے قرض لیا ہے تو پھر ان میں فرق کیا ہے!؟وزیراعظم کہتے ہیں کہ گزشتہ 10 برس کے دوران 24ہزار ارب روپے کے قرضے لئے گئے‘ جوپیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی کارکردگی ہے‘ لیکن یہ حقیقت کا پورا بیان نہیں! حکومتی کمیشن بنانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بدنیتی کے ساتھ پاکستان کےلئے مہنگے داموں قرضے لئے۔ اس وقت قرض لینے کی کیا وجوہات تھیں یا کون سی مجبوریاں یا ضروریات تھیں جنہیں پورا کرنا پڑا‘ یہ الگ اور طویل بحث ہے اور کمیشن ممکنہ طور پر ان کا جائزہ لے گا۔

 تاہم فی الوقت دیکھا جانا چاہئے کہ موجودہ حکومتی قرضوں پر سود کی شرح کیا عالمی قیمتوں سے مطابقت رکھتی تھی یا نہیں!؟ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ حکومت جتنا ٹیکس اکھٹا کرتی ہے‘ اس کا ایک بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں میں لگ جاتا ہے‘اگر کل ادائیگیاں گنی جائیں تو پاکستان نے جون 2009ءسے مارچ 2019ءتک قرضے کی اصل رقم میں سے 37ارب ڈالرسے زائد رقم ادا کی اور اسی دوران 13ارب ڈالر سے سود ادا کیا ہے مگر اسی دورانیے میں حکومتی قرضے‘ آئی ایم ایف اور زرمبادلہ کے واجبات کے حوالے سے اصل ادائیگی اور سود نکال دیںتو اصل رقم 31ارب جبکہ سود 11ارب ڈالر سے زیادہ بنتا ہے۔ اب بات یہ ہے کہ جو واجب الادا ہے وہ تو دینا ہی پڑے گا یعنی اس مسئلے سے نکلنے کا پاکستان کے پاس واحد حل یہ ہے کہ حکومت اپنی آمدنی بذریعہ ٹیکس وصولی بڑھائے‘اس حوالے سے عمران خان کے جذباتی لائحہ عمل پر تو سوال اٹھائے جا سکتے ہیں مگر سمت پر نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔