68

ابنائے وطن پریشان ہیں

ابنائے وطن خستہ حال اور پریشان ہیں‘معاشی بد حالی نے انہیں اتنا نحیف اور کمزور کر دیاہے کہ اب ان کا سڑکوں پر نکلنے کا بھی یارا نہیں‘ پہلے ہی کاروبار ‘ روزگار ‘ بازار ‘ نخاس اور کھیت کھلیان کی صورتحال ناگفتہ بہ تھی اب تو اس ملک کے عام آدمی کو دن میں دو وقت کاکھانا پیٹ بھر کے نصیب نہیں ہورہا ‘ دوسری جانب دہشت گردی اپنا بدنما چہرہ پھر دکھا رہی ہے کسی کوگولی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کسی کو خودکش حملے سے اڑایا جا رہا ہے‘کسی کو اس کے گھر کی انگنائی میں مارا جا رہا ہے تو کسی کو چوراہے پر‘ گھر کے معاملات چلانے میں جو لوگ یدطولیٰ رکھتے تھے انہیں راندہ درگار قرار دے کر دیوار سے لگا دیا ہے اور وہ بالغ نظر اور دور اندیش لوگ جو اچھے برے وقت کی پیش بینی کیا کرتے تھے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے‘ صرف وہی افراد آج ارباب اقتدار کے منظور نظر ہیں کہ جو ”سب اچھا ہے “کی رپورٹ دینے میں ماہر ہیں‘ ملک بھر میں سٹریٹ کرائمز کی جو تازہ ترین لہر آئی ہے اس کی اور بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کیا اس کی ایک بڑی وجہ یہ تو نہیں کہ اب ملک میں فوجی عدالتوں نے مزید توسیع نہ ملنے پر کام کرناچھوڑ دیا ہے اسلئے جرائم پیشہ لوگوں نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے‘ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ سول عدالتوں کے وارنٹ اتنے تیز نہیں ہوتے کہ جتنے ملٹری کورٹس کے ہوتے ہیں اور وہ اگر کسی جرم میں دھر بھی لئے جائیں تو ان کے وکلاءموٹی فیسوں کے عوض مختلف قانونی موشگافیوں سے کسی نہ کسی طریقے سے ان کو جیل کی سلاخوں سے باہر لے آئیں گے‘اس کی دوسری بڑی وجہ ملک میں بیروزگاری ہے۔

 ملک میں اکثریت نوجوان طبقے کی ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری تشویشناک حد تک پھیل چکی ہے بھوکے پیٹ سے ڈرنا چاہئے‘ 1973ءکے آئین میں یار لوگوں نے یہ تو لکھ دیا ہے اور ہمارے ارکان پارلیمنٹ نے اس پر اپنی مہر بھی ثبت کر دی ہے کہ حکومت وقت عوام کو روزگار مہیا کرنے کی ذمہ دا ر ہو گی لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ 1973ءسے لیکر آج تک جتنے بھی اس ملک میں حکمران گزرے بھلے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی یا فوج کےساتھ تھا‘کیا انہوں نے اس ملک کے آئین کی پاسداری کی اور جو حکمران آئین کی پاسداری نہیں کرتا کیاوہ سزا سے مبرا ہو سکتا ہے ؟ اس باریک نکتے پر غور کی ضرورت ہے‘ہمارا المیہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ہمار ے حکمرانوں نے وہ کیا نہیں جو انہوں نے کہا‘ عوام کو باآسانی بہکایا ورغلایا جا سکتا ہے ان کو سبز باغ دکھا کر جھانسے میں لایا جا سکتا ہے‘ اصغر خان سے بھلے کوئی کتنا ہی سیاسی اختلاف رکھے ان کا سخت سے سخت دشمن بھی یہ مانتا ہے کہ وہ جھوٹ کم از کم نہیں بولتے تھے ‘انہوں نے اپنی ایک کتاب میں بھی لکھا اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر آ کر بھی بتلایا کہ ایوب خان کےخلاف بھٹو مرحوم جب تحریک چلا رہے تھے تو انہوں نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ وہ انکی پارٹی میں شامل ہو جائیں ہم الیکشن جیت کر اس بے وقوف قوم پر بیس سال تک باآسانی حکومت کر سکتے ہیں۔

 اقتدار میں آنے کےلئے بس نعرے د لفریب اور پرکشش ہونے چاہئیں جو عام آدمی کو اپیل کرےں جو اس کے دل کو بھا جائےں‘ملک اداروں سے چلائے جاتے ہیں اور ادارے مسلسل تجربات کی روشنی میںاصلاحات چاہتے ہیں اور اصلاحات کا عمل پارلیمنٹ کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے‘ صرف وہی پارلیمنٹ ملک کے عام آدمی کے مفاد میں قوانین وضع کر سکتی ہے جو عام آدمی کے خمیر سے اٹھی ہو اس ملک میں تو ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت ملک کے غریب اور مفلوک الحال طبقے کی صحیح معنوں میں نمائندگی نہیں کر تی یہی وجہ ہے کہ اسے اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اس ملک کے عوام کے اصل مسائل کیا ہیں وہ کن کن غموں میں مبتلا ہیں اور ان غموں کا مداوا کیسے کیا جاسکتا ہے ؟

ہم ان آمروں کےخلاف ملک سے غداری کرنے پر فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ تو بڑے زور و شور سے کرتے ہیںکہ جنہوںنے آئین کو معطل کرکے ملک میں آمرانہ نظام قائم کیا لیکن ہم نے کیا کبھی پارلیمنٹ میں ان حکمرانوں کو بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کامطالبہ کیا کہ جنہوںنے آئین کی متعلقہ شقوں کے مطابق عوام کو دو وقت کی روٹی روزگار ‘تعلیم وغیرہ کی فراہمی مےںکوتاہی کا مظاہرہ کیا وہ عوام کی یہ بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے ؟اگر تو ہم نے اس ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کو ہی چلانا ہے تو پھر متناسب آبادی کی بنیادپر الیکشن کروانا ہو گا یعنی Proportional Representation سسٹم کو اپنانا ہو گا کہ جو یورپ کے بعض ممالک میں رائج ہے‘ موجودہ پارلیمانی نظام میں توجس طرح ماضی میں صرف زردار ہی اسمبلیوںمیں پہنچتے رہے ہیں آئندہ بھی انہی کی قماش کے لوگ آتے رہیں گے اور ملک کے غریب عوام جس طرح اب تک رلتے رہے ہیں آئندہ بھی رلتے رہیں گے ‘ مذہبی اور مسلکی امور بڑی حسا س نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہر لکھاری اور مقررکو نہایت احتیاط سے کام لینا چاہئے اورایسے الفاظ کے استعمال سے قطعاً گریز کرنا چاہئے کہ جن سے کسی طبقے کے جذبات مجروح ہونے کا ©خدشہ ہو‘۔

اس ضمن میں حکمرانوں کو خصوصاً نہایت سوچ سمجھ سے کام لینا چاہئے اس لئے وزیراعظم ہو یا صدربہتر یہ ہوتا ہے کہ وہ لکھی ہوئی تحریر پڑھا کریں اور فی البدیہہ تقاریر کرنے سے اجتناب کریں‘ فی البدیہہ تقریر کرنا بھی ایک فن ہوتا ہے ایک خداداد صفت ہوتی ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی‘ عمران خان کی ایک حالیہ تقریر پر بعض مذہبی حلقوں نے اعتراضات کئے ہیں ہماری دانست میں اگر وہ اپنے لئے کوئی سپیچ رائٹر رکھ لیں تو بہتر ہو گا‘ یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو نہایت ہی اچھے مقرر تھے خصوصاً انگریزی زبان میں‘لیکن انہوں نے اس کے باوجود سرکاری تقریبات میں تقاریر کرنے کے واسطے بالترتیب خالد حسن اور فرحت اللہ بابر صاحب تعینات کئے ہوئے تھے کہ جن کا شمار تجربہ کار اور سینئر صحافیوں میں ہوتا تھا یہ دونوں احباب ا ن کے لئے تقریریں لکھا کرتے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔