187

جدید دفتری نظام؟

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں آپریشنل دفتری نظام کو جدید صورت دینے کا عندیہ دیا ہے‘ وزیراعلیٰ محمود خان نے تمام دفاتر کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای آفس نظام متعارف کرانے کی منظوری بھی دیدی ہے‘ وزیراعلیٰ نے ایف آئی آرز اور روزناموں کی آٹومشن کے کام کو پورے صوبے میں توسیع دینے اور آسامیوں کیلئے آن لائن درخواستوں کیساتھ امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کے منصوبے کو تمام محکموں میں متعارف کرانے کا بھی کہا ہے‘ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں رائج دفتری نظام اب وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہا‘ اس سسٹم میں سرکاری فائلوں کا ایک سے دوسری میز تک کا سفر ایک طویل وقت لیتا ہے‘ دفتری ریکارڈ پرمشتمل کھاتوں سے کاغذوں کی تلاش ایک دشوارگزار مرحلہ ہے‘ وقت کیساتھ ہمارے سرکاری سیٹ اپ میں کمپیوٹر متعارف ضرور ہوا تاہم اسے زیادہ تر ٹائپ رائٹر کا نعم البدل سمجھا گیا اور خط وکتابت میں معمولی تبدیلیوں کیساتھ کمپوز لیٹر گردش کرنے لگے۔

‘ مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کے متعدد اقدامات اس سست رفتار دفتری نظام میں عملی شکل اختیار کرکے عوام کیلئے سہولت کا باعث نہ بن سکے ‘ اس دوران ریونیو ریکارڈ کوکمپیوٹرائزڈ کرنے جیسے متعدد اعلانات بھی سامنے آئے جن پر عملدرآمد فائلوں میں بند سرکاری دفاتر کی غلام گردشوں میں ہی گم ہوگیا‘ اب بعد از خرابی بسیار سہی ‘ اگر صوبے کی حکومت معاملات کو سنوارنے کا عزم کرہی رہی ہے تو اس میں ضروری ہے کہ ہر ادارے کو اس کے سٹرکچر‘ ضروریات اور افرادی قوت کومدنظر رکھتے ہوئے ڈیڈلائن دی جائے کہ جس میں وہ سارے سسٹم کو اپ ڈیٹ کرلیں‘ اس مقصد کیلئے افرادی قوت کی تربیت پر توجہ بھی ضروری ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ دفاتر میں کمپیوٹر سیکشن کو الگ تھلگ کرکے رکھنے کی بجائے پورے سٹاف کو جدید مشینری سے استفادہ کرنے کا موقع دیاجائے‘ حکومت کا فیصلہ اس صورت بھی ثمر آور شکل اختیار کرسکتا ہے جب آ¾ی ٹی بورڈ ہر محکمے سے علیحدہ علیحدہ رابطہ کرے‘ ضرورت کاجائزہ لیاجائے ‘ مہیا وسائل کا درست استعمال یقینی بنایاجائے اور درکار وسائل کی فراہمی کا بھرپور انتظام کیاجائے‘صوبے میں ریونیو ریکارڈ اور ایف آئی آرز کے جدید سسٹم پر آنے کیلئے حتمی تاریخ دینا بھی ناگزیر ہے۔

سیاسی گرماگرمی اور بات چیت

وطن عزیز میں سیاسی گرماگرمی جاری ہے‘ ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری کا سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے‘ گرماگرمی کی شدت میں اضافہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں قرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن کے اعلان کیساتھ آگیا ہے‘ اس ساری گرماگرمی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی حزب اختلاف نے قائمہ کمیٹیوں سے دیئے گئے اپنے استعفے لے لئے‘ اس مقصد کیلئے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے کوششیں کیں‘ یہ درست ہے کہ جمہوری ممالک میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اختلافات ضرور ہوتے ہیں تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے سلجھایا بھی جاتا رہا ہے‘ اب بھی ضرورت ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم قومی معاملات پر بات چیت کی راہ ہی اپنائی جائے‘ اس مقصد کیلئے رویوں میں لچک لاتے ہوئے بات چیت کھلے دل کیساتھ کرنا ہوگی۔