161

قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران پھر ہنگامہ آرائی، اجلاس کل تک ملتوی

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پھر ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس کل تک ملتوی کردیا۔

اسیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت ایوانِ زیریں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن کی جانب سے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کیا گیا۔

اسد قیصر نے بارہا اپوزیشن لیڈر کو بجٹ پر تقریر کا آغاز کرنے کا کہا لیکن شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی نہ ہونے کے باعث تقریر شروع نے کی۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ بات کا آغاز نہیں کریں گے تو سیشن کیسے شروع ہوگا جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ یہ بجٹ سیشن ہے، تمام منتخب ارکان کا استحقاق ہے کہ وہ آکر اپنے مطالبات پیش کریں۔

انہوں نے بلا تاخیر پی پی پی شریک چیئرمین آصف زداری اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی چلانا صرف اسپیکر کا کام نہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔

بجٹ پر شیباز شریف کی تقریر سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے اظہار خیال کی اجازت طلب کی اور بارہا اصرار پر اسپیکر نے انہیں صرف ایک منٹ تک بات کرنے کی اجازت دی۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے، راجا پرویز اشرف

راجا پرویز اشرف نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے رول 108 اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ایوان کا جو بھی رکن کسی بھی وجہ سے موجود نہ ہو تو اسپیکر کو لازمی طور پر اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں۔

—فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ رول 108 کے تحت اسپیکر کو آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں،اگر آپ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کا رویہ جانبدارانہ ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمارے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جارہا، پیپلزپارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے۔

جس کے بعد شہباز شریف نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بجٹ عوام کی ضروریات اور ترجیحات کو پیش نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند دن قبل وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا اور خطاب میں دھمکیاں دیں لیکن انہوں نے دو اہم باتیں کیں، ریاست مدینہ کا ذکر کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ریاست مدینہ میں وہ وقت بھی آیا تھا جب مدینہ میں کوئی زکوۃ لینے والا نہیں تھا، خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت عمر فاروق خود ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔

شہباز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی اجلاس میں ایک بار پھر شور شرابا شروع ہوا، اسپیکر اسمبلی ارکان کو خاموش رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

اس دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے صدر سردار اختر مینگل بھی اپوزیشن کےاحتجاج میں نشست پر کھڑے ہوگئے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 4 بجے منعقد ہونا تھا تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب سے اسپیکر آفس کے سامنے دھرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔

پیپلزپارٹی کے ارکان نے اسپپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایوان میں جانے سے روک دیا تھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی تھی۔

دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ 14 جون کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان زیریں کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس 2 مرتبہ ملتوی کردیا تھا۔

بعد ازاں تیسری مرتبہ شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کی لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف ایوان میں خاموشی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز نہیں کرسکے تھے۔

تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بجٹ پر بحث کے دوران ہنگامہ آرائی کی وجہ سے قومی اسمبلی کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی تھی۔

اپوزیشن نے بجٹ پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا تھا، گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ملاقات کی تھی۔

بلاول بھٹو نے مریم نواز سے ملاقات کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ ہمارے درمیان یہ طے پایا ہے کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا، ملاقات میں مہنگائی اور عوام دشمن بجٹ پر بات ہوئی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’اب حکومت جاتی ہے تو جائے، عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے‘۔