115

بادشاہتوں کا مستقبل

حادثاتی جنگ کے عنوان سے سولہ جون کے روز شائع ہونےوالے حالات حاضرہ کا احوال اس امریکہ ایران‘ تناو¿ سے متعلق تھاجسکی شدت میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں جو کہ امریکہ اور ایران پر اپنا اپنا سفارتی اثرورسوخ رکھتی ہیں‘ اس پوری صورتحال میں یا تو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں یا دل سے چاہتی ہیں کہ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنا چاہئے‘ جسکی دو وجوہات ہیں کہ ایک تو امریکہ افغانستان کے بعد ایک اور محاذ جنگ مےں الجھ جائے اور دوسرا اسکے مالی وسائل جنگی اخراجات کی نذر ہوں‘یہی صورتحال جب روس کو درپیش ہوئی تو اقتصادی بحران کے سبب اسکی ریاستوں کا اتحاد برقرار رہنا ممکن نہیں رہا تھا اور ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ امریکہ کی طاقت کا شیرازہ بکھرنے کےلئے ضروری ہے کہ اسے اقتصادی طور پر کمزور کیا جائے اور اس کے دفاعی و جنگی اخراجات میں اضافہ ہو‘جو خلیجی ممالک امریکہ کو اپنی ڈھال سمجھتے ہیں‘ انہیں سبق سکھانے کےلئے بھی امریکہ اور ایران کی جنگ کو ضروری سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ایران اپنے سیاسی و نظریاتی اثرورسوخ سے سعودی بادشاہت کےلئے زیادہ بڑا خطرہ ثابت ہو سکتاہے‘ یہی وجہ ہے کہ اس خوف میں مبتلا سعودی عرب نے خلیج کے اہم بحری راستے میں تیل لے جانےوالے بحری جہازوں پر ہوئے تازہ حملے کےلئے بھی بناءثبوت یا دلیل ایران ہی کو مجرم ٹھہرایا ہے جبکہ امریکہ پہلے ہی یہ الزام عائد کر چکا ہے! توجہ طلب ہے کہ خطے میں موجود پہلے ہی سے کشیدگی کو نظرانداز کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ’ان کاملک کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔“ تیرہ جون کے روز خلیج عمان میں دو ٹینکروں پر حملہ ہوا تھا‘ جو اس سے قبل ہوئے 4 آئل ٹینکروں پر ہوئے حملے کے ایک ماہ بعد ہوئے‘ جنہیں امریکہ اور سعودی عرب ایران سے منسوب کرتے ہوئے اپنے خلاف حملہ تصور کر رہے ہیں۔

 جبکہ کوئی تیسری طاقت اس قسم کی اشتعال انگیزی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے!صورتحال لائق توجہ ہے کہ پورے مشرق وسطیٰ میں دوسب سے اہم ترین مقامات آبنائے ہرمز اور باب المندب کے مقامات پر آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس منظم حملے کی چنگاریاں تمام مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں لپیٹنے کی ممکنہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور اقتصادیات کی شہ رگ ہے‘ اسی وجہ سے خلیج میں کوئی بھی بحران صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔تاحال واضح نہیں کہ ناروے اور جرمنی کے جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا‘ اس کی وجوہات کیا ہیں کیونکہ ایران ایسی کسی کاروائی کی تردید کر رہا ہے اور اگر اس نے کیا ہوتا تو وہ اس دلیرانہ کاروائی پر فخر کرتا!تاہم جہاز رانی سے متعلق اقتصادی و سیاسی امور پر تبصرہ کرنےوالے معروف اخبار ٹریڈ ونڈز نے تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ’مذکورہ حملے میں ایک بحری جہاز کوامریکی ساختہ میزائل سے نشانہ بنایا گیا‘ اگر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اس حملے میں کسی ایسے ملک کا ہاتھ ہے جسکے پاس یہ میزائل موجود ہیں‘ اس قسم کے جدید اسلحے کو استعمال کرنے کےلئے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے‘ عام بموں کی طرح انہیں کوئی عام دہشت گرد گروپ تیار بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اسکی تیاری کےلئے الگ سے صنعتی مہارت چاہئے۔ ایران کے پاس پاسدارانِ انقلاب نامی ایسا فوجی دستہ موجود ہے۔

 جو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے اور اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں پرخطر کاروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے‘اس یونٹ کی ایسی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں‘ جن میں انہیں بھاری اور جدید اسلحے سے لیس دکھایا گیا ہے‘ امریکی تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر الزام لگانے کےلئے آئل ٹینکروں پر حملے خود کروائے ہوں تاکہ انہیں جواز بنا کر ایران کےخلاف باقاعدہ بری‘ بحری اور فضائی جنگ شروع کی جاسکے‘اس سلسلے میں 1964ءکی مثال دی جا رہی ہے‘ جب امریکہ نے جان بوجھ کر تارپیڈو میزائل حملے کا ڈرامہ رچایا تھا تاکہ ویت نام جنگ کی راہ ہموار کی جا سکے لیکن اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ ویت نام کی نسبت خلیج میں ممکنہ جنگ کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر واقعی جنگ ہوتی ہے تو ایران کا پہلا وار آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صورت ہوگا‘ جو عمان سے ملحقہ ہے اور جس کے کنٹرول کےلئے پانچ سو سال قبل پرتگالیوں نے لڑائیاں لڑی تھیں۔ کیا تاریخ اور تاریخ میں ہوئی جنگوں سے ملنے والے اسباق مدنظر رکھنے چاہئےں۔ جنگ کی خواہش رکھنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اس سے سوائے تباہی و بربادی کچھ حاصل نہیں ہوتا جبکہ ایران پہلے ہی عالمی معاشی پابندیوں کو جھیل رہا ہے اور اسکے پاس کھونے کے لئے زیادہ کچھ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔