61

کھیل سے دیوانگی تک

کرکٹ کے کھیل میں اگر مقابلہ دو ٹیموں کے درمیان ہو رہا ہوتا ہے تو میدان میں موجود تماشائی بھی اپنی اپنی ٹیموں یا پسندیدہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کےلئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر شائقین کرکٹ کا یہ لگاو¿ بالخصوص پاکستان و بھارت کے درمیان دیکھنے کو ملتا ہے‘ جیسا کہ کل ہوا‘ جب پاک بھارت ٹاکرے سے قبل ہی شائقین کرکٹ نے اپنے اپنے طور پر کھیل سے لطف اندوز ہونے کی تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں‘پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کےلئے یقینا تجارت اور عوامی رابطوں کےساتھ کرکٹ سفارتکاری سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ کھیل شائقین کو جوڑے ہوئے ہے جو کہیں قومی جذبے توکہیں خود کو دوسروں سے منفرد رکھنے کی ایک اداکے طور پر کرکٹ مقابلوں کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی حصہ یعنی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں! یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے میدانوں میں چند ایسے چہرے بھی مستقل نظر آتے ہیں جو کھلاڑیوں ہی کی طرح مقبول ہیں اور جنہیں کھلاڑیوں ہی کی طرح بار بار ٹیلی ویژن سکرینوں پر دکھایا جاتا ہے‘ان میں پاکستان کی ترجمانی اور نمائندگی کرنے والے صوفی عبدالجلیل المعروف چاچا کرکٹ کے نام سے کون واقف نہیں ہوگا!؟ آپ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور ضعیف العمر ہونے کے باوجود آپ کمال کے چست ہیں‘ جنہیں ہر گیند پر اچھلتے کودتے اور پوری دیوانگی و جنون کیساتھ پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔

 چاچا کرکٹ نے پہلی بار سٹیڈیم میں پہنچ کر پرجوش نعرے 1968ءمیں اس وقت لگائے تھے جب برطانیہ کی ٹیم کالن کاو¿ڈرے کی قیادت میں لاہور میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی‘ البتہ چاچا کرکٹ کو صحیح معنوں میں شہرت شارجہ کے کرکٹ میدانوں میں ملی جب 1997ءمیں وہاں کھیلے گئے چار قومی ٹورنامنٹس میں وہ پہلی بار مکمل سبز لباس پہنے نظر آئے اور یوں دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ چاچا کرکٹ نے وقت کے ساتھ اپنے نعروں میں تبدیلی کی ہے۔ کسی زمانے میں جب وہ گراو¿نڈ میں داخل ہوتے تو ان کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں مالٹے کی تھیلی ہوا کرتی تھی اور وہ زوردار آواز لگاتے تھے جدھر دیکھو پاکستان ہی پاکستان ہے کہتے تھے لیکن بعد میں وہ اپنے مخصوص لہجے میں آواز لگانے لگے ”جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔پاکستان زندہ باد۔“ اور آج کل صرف ”پاکستان زندہ باد“ پر اکتفا کرتے ہیں!پاکستان کے چاچا کرکٹ کی طرح بھارت سے تعلق رکھنے والے تماشائی سدھیر کمار گوتم المعروف ’سچن‘ بھی کسی اضافی تعارف کے محتاج نہیں اور نہ ہی ان کا چہرہ پاک بھارت شائقین کےلئے ناآشنا ہے‘ وہ بھارت کے ہر عالمی مقابلے میں موجود پائے جاتے ہیں اور اپنے منفرد جذباتی انداز کی وجہ سے بھارتی شائقین کرکٹ کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سچن کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر بھارتی پرچم کے رنگوں سے پینٹ کرتے ہیں ‘سچن اصل سچن کے اس حد تک دیوانے ہیں کہ انہوں نے اپنے شہر بہار سے سائیکل پر تین ہفتے کا سفر طے کر کے ممبئی ٹیسٹ میں ان سے ملاقات کی ٹھانی اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔

 آج اس بات کو پندرہ برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے اور سدھیر بھارتی ٹیم کی حوصلہ افزائی کےلئے ہر مقابلے میں موجود ہوتے ہیں‘ ٹنڈولکر اگرچہ عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں لیکن وہ سدھیر کے غیر ملکی دوروں کی مالی مدد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھارتی ٹیم کی حمایت کےساتھ ٹنڈولکرکو بھی زندہ رکھا ہوا ہے‘ بہرحال سدھیر کی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ورلڈ کپ کا وہ فائنل میچ تھا جب بھارت نے سری لنکا کو شکست دی اور فائنل کے بعد ٹنڈولکر نے ظہیر خان کو بھیج کر خاص طور پر سدھیر کو ڈریسنگ روم میں بلوایا اور ورلڈ کپ انکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے تصویریں بنوائیں‘سدھیر 2006ءمیں سائیکل پر سفر کرتے ہوئے پاکستان آئے تھے‘ واہگہ کی سرحد پر ان کی سائیکل روک لی گئی تھی بعد میں اجازت ملی تو سدھیر کمار پاکستان میں سائیکل پر خوب گھومے اور پاکستانیوں کی مہمان نوازی سے لطف اٹھاتے رہے‘ جس کا ذکر انہوں نے کئی مرتبہ اپنے انٹرویوز میں بھی کیا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی کھلاڑی اور کرکٹ انتظامیہ نے چاچا کرکٹ کی ایسی عزت افزائی نہیں کی کہ انہیں ڈریسنگ روم میں کبھی بلایا ہو یا انہیں اس قدر اہمیت دی ہو لیکن بہرحال اندرون و بیرون ملک پاکستانی شائقین چاچا کرکٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاک بھارت کرکٹ کے یہ دونوں سفیراس بات کا ثبوت ہیں کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑیوں سے زیادہ شائقین لطف اندوز ہوتے ہیں‘ اور دوسروں کو محظوظ ہوتے دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔