91

اعصاب کی جنگ

نیب کی حرکت پذیری سے پہلی بار ملک میں بااثرشخصیات کے احتساب کی امید پیدا ہوئی ہے اور کسی حد تک اسکا خوف بھی معاشرے پر آیا ہے یہ الگ بات ہے کہ سرکاری ملازمین اور بیورو کریسی نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے‘ویسے بھی یہ مشہور ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں‘اب اگر رشوت لینے میں ڈر لگے تو کام کرنے کاجواز بھی ختم ہو جاتاہے‘ اپوزیشن تو برملا اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ نیب کے خوف سے بیورو کریسی نے کام کرناچھوڑ دیا ہے ‘بہرحال بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپوزیشن نیب کی تیزی سے خوفزدہ ہے مگر وزیراعظم عمران خان اس کی رفتار اور مقدمات کی پیروی سے مطمئن نظر نہیں آتے‘اسی لئے اب وہ گزشتہ دس سال میں لئے گئے قرضوں کے استعمال کی چھان بین کرنے کیلئے ایک انکوائری کمیشن بنانے جارہے ہیں‘اطلاع ہے کہ اس مجوزہ کمیشن کی سربراہی کیلئے سابق پولیس چےف شعیب سڈل کو پیشکش کی گئی ہے اگر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرلی تو پہلے سے نیب زدہ اپوزیشن کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوجائیگا ‘عمران خان کا موقف ہے کہ جتنے قرضے لئے گئے اتنے کام نہیں ہوئے جبکہ اپوزیشن رہنما ﺅں نے ابھی سے ہی اپنے اپنے ادوار کے میگا پراجیکٹ دوبارہ گنوانے شروع کردیئے ہیں‘ ۔

اسکا مقصد یہی لگتا ہے کہ حکومت کو باور کرایا جائے کہ اس پنڈورہ باکس کے کھولنے سے کچھ برآمد نہیںہوگا‘لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن خوفزدہ ہے‘ سیاست میں اعصاب کی مضبوطی اور فیصلہ کرنے میں پہل بہت اہمیت رکھتی ہے ‘عمران خان نے پے درپے اشتعال انگیز اقدامات سے اپنے مضبوط اعصاب سے اپوزیشن پر غلبہ پالیا ہے اور اب اپنے ارکان پارلیمنٹ کو بھی اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ وہ بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن رہنما کو تقریر کرنے کا موقع نہ دیں اور شورشرابا کرکے ان کو کنفیوز کریں‘ جمعہ کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسکی جھلک نظرآئی ویسے بھی اپوزیشن بجٹ پر بحث کے موڈ میں ہی نہیں ‘جہاں تک بجٹ پر تنقید اور تجویز کا تعلق ہے تو عام آدمی کیلئے مشکل ترین بجٹ ہونے کے باوجود اپوزیشن کے پاس اس سے بہتر بجٹ کی تجاویز نہیں ہیں بلکہ صرف موجودہ اپوزیشن پر ہی کیا موقوف ہمیشہ ہی اپوزیشن صرف تنقید برائے تنقید ہی کرتی آئی ہے‘ ویسے بھی سال میں ایک بار بجٹ پیش کرنا اور سال بھر اس کی سفارشات کے مطابق چلنا ماضی کا قصہ رہ گیا ہے اب تو کسی بھی وقت نئے ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیاجاسکتا ہے اور ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں اضافہ کرسکتے ہیں‘نا ممکن صرف عوام کو سہولت دینا ہوتا ہے‘۔

 بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےساتھ جو ہاتھ ہوا اور متوسط کاروباری طبقے کیلئے جو پھندا بناگیااس پر سوشل میڈیا کے تبصرے یہاں بیان نہیں کئے جاسکتے اور شاید اپوزیشن بھی اس پر خوش ہے کہ وہ حکومت کو عوام دشمن کہنے مےں حق بجانب ہوگی‘ویسے فرض کریں کہ حکومت نئی تجاویز اور بجٹ کی فائنل منظوری سے پہلے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کردیتی ہے عام ضرورت کی اشیاءپر لگائے جانےوالے ٹیکس واپس لے لیتی ہے پٹرول اور بجلی سستی کردیتی ہے مہینہ میں25ہزار سے کم کمانے والوں کا وظےفہ مقرر کردیتی ہے تو کیا اپوزیشن خوش ہو جائے گی‘ وہ حکومت کو خراج تحسین پیش کرے گی‘ نہیں کبھی بھی ایسا نہیں کرے گی بلکہ یہ بھی اندر کی بات ہے کہ اپوزیشن موجودہ بجٹ پیش کرنے پر بہت خوش ہے کیونکہ اصل مقصد عوام کیلئے آسانیاں نہیں بلکہ اپنی سیاست ہے اور ہماری سیاست کی بنیاد ہمیشہ سے ہی اپنی کارکردگی سے زیادہ دوسروں کی نااہلی پر ہی رہی ہے‘اپنے ادوار میں لئے جانےوالے قرضوں اور ہونیوالی مہنگائی پر کوئی شرمندہ نہیں ہوتا مگر حکومت کے ایسے کاموں کو عوام دشمن ثابت کرنا آسان ہوتا ہے اب عمران خان نے اقتصادی یا ترقیاتی حوالے سے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا بلکہ مایوسی کو عام کیا ہے مگر اسکے باوجود اپوزیشن پر پے درپے چڑھائی کرکے اس کو دفاع پر مجبور کردیا ہے‘ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود حکومت اپوزیشن پر چڑھائی کر رہی ہے اور اپوزیشن اپنے دفاع پر مجبور ہے‘عمران خان کے اعصاب مضبوط ہیں مگر عوام کے اعصاب جواب دیتے جارہے ہیں اگر ان کو کوئی ریلیف نہ ملا تو وہ اپوزیشن کی طرف دیکھنے کی بجائے خود ہی میدان میں ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔