169

عوامی ریلیف؟

وزیراعظم عمران خان اور خزانہ ومنصوبہ بندی کے حوالے سے ان کی ٹیم کے اہم افراد نے ایک ہی روز ملکی معیشت کے جائزے اور درپیش حالات کی روشنی میں حکومتی حکمت عملی کے خدوخال اجاگر کئے ہیں‘ وزیراعظم خود اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچالیاگیا ہے اور معیشت اب سنبھل چکی ہے‘ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کہتے ہیں کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کیساتھ 3ارب 40کروڑ ڈالر کے قرضے کا معاہدہ کیاگیاہے‘ وہ دوہزار ارب روپے کے منصوبے ختم کرنے اور خیبرپختونخوا کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کیلئے 73ارب روپے مختص کرنے کا بھی کہتے ہیں‘و زیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کہتے ہیں کہ اب عالمی بینک سے قرضہ لیاجائیگا جبکہ کچھ لوگ عوام کو گمراہ کررہے ہیں‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق قربانی دینا ہوگی‘ مشیر خزانہ اعتراف کرتے ہیں کہ بجٹ میں کچھ فیصلے سخت کئے جو وقت کا تقاضا ہے‘۔

 ایف بی آر کے سربراہ شبرزیدی کا کہنا ہے کہ بجٹ کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں آیا اور یہ کہ ایمنسٹی سکیم میں کوئی توسیع نہیں ہوگی‘حکومت کے اقدامات اور مستقبل کیلئے منصوبہ بندی قابل اطمینان سہی دوسری جانب ڈالر کی قدر کا بڑھنا قابل تشویش ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ڈالر 157روپے 50پیسے پر بند ہوا‘ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے اقتدار سنبھالتے وقت ملک 31ہزار ارب روپے کا مقروض تھاجبکہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا حجم 20ارب ڈالر بتایاگیا‘یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی اکانومی میں صرف سود کی مد میں 2ہزار ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں‘یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں مجموعی مالیاتی خسارے کا والیوم 2300ارب روپے تک پہنچ گیا تھا‘اس سارے منظرنامے میں اکانومی کی بحالی کیلئے تمام کوششیں اپنی جگہ تاہم عوام کی مشکلات سے صرف نظر بھی کسی طور ممکن نہیں‘مارکیٹ میں میزانیے کے اعلان کیساتھ ہی مہنگائی کے آنیوالے طوفان سے انکار ممکن نہیں‘ انکار بنیادی سہولیات اور خدمات کے فقدان سے بھی نہیں کیاجاسکتا‘معاشی منظرنامے کی عکاس اعداد وشمار پر مشتمل رپورٹس اور مستقبل کی پلاننگ اپنی جگہ‘ مالی سال کے آغاز سے قبل جبکہ اعلان کردہ ٹیکس عائد بھی نہیں ہوئے ‘مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنا سوالیہ نشان ہے‘ اقتصادی حالات اپنی جگہ حقیقت سہی‘ عوام کی مشکلات کا ازالہ مارکیٹ کنٹرول اور خدمات کی بہتر فراہمی کیساتھ بھی ممکن ہے اور یہی گڈ گورننس ہے جس کا دعویٰ ہر حکومت کرتی ضرور ہے تاہم وہ برسرزمین نظر نہیں آتی۔

جی ٹی روڈ کی حالت

خیبرپختونخوا حکومت شہر کی خوبصورتی کو ترجیح قرار دیتی ہے‘ اس کام کو جی ٹی روڈ اور کچھ دیگر سڑکوں تک ہی محدود رکھا جاتا رہا ہے جبکہ جی ٹی روڈ کو بھی آگے چمکنی تھانے تک ہی محدود رکھا گیا ہے‘ تھانے سے آگے سڑک پر شہر کی اچھی رہائشی بستیاں ہیں‘کمرشل سرگرمیاں بھی ہیں تاہم سڑک کے وسط میں پودے لگانے سے گریز کیاگیا ہے‘ سڑک کی دونوں جانب خوبصورت گرین بیلٹ کیلئے جگہ موجود ہے لیکن شجر کاری پر توجہ نہیں کی گئی‘ صفائی اور چھڑکاﺅ کے دائرے کو وسعت نہیں دی جارہی‘ کیا ہی بہتر ہو کہ صوبائی دارالحکومت کی حدود میں آنیوالوں کو پہلا تاثر ہی خوبصورت شہر کا دیاجائے‘ اس کیلئے موثر اقدامات اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘ بہت بڑے فنڈز کے بغیر بھی سڑک کا حلیہ درست ہوسکتا ہے۔