101

برن اور ٹراماکی سہولیات

پاکستان میں بدقسمتی سے مرض کی تشخیص اور علاج معالجے پرتوضرورت سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے لیکن اس کی روک تھام اور انسداد کےلئے نہ توکچھ مناسب اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور نہ ہی اس شعبے میںدرکار وسائل خرچ کئے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں جلنے والے مریضوں کی شرح میں ہرسال مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال خیبر پختونخوا میںجھلس کرزخمی ہونےوالے مریضوں کی تعدادتقریباً بیس ہزار سے زائد کا ہندسہ عبور کر چکی ہے جسے مستقبل کے تناظر میں انتہائی تشویش کا باعث قراردیاجارہاہے‘ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت گذشتہ چار سال میں طب کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے دعوے توبہت کرتی رہی ہے لیکن صحت کے بعض شعبوں جن میں برن اور ٹراما بھی شامل ہیں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی‘یہ بات حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی ہے کہ خیبرپختونخوا بشمول قبائلی اضلاع کی چارکروڑآبادی کےلئے حال ہی میں پشاور میں قاےم کئے جانےوالے صوبے کے پہلے اور واحد برن اینڈ ٹراما سنٹر کے علاوہ کوئی دوسرا قابل ذکر توکجا عام سنٹر یا ہسپتال بھی نہیں ہے جسکے باعث مریضوں کو مجبوراًملک کے دیگر شہروں میں علاج کےلئے جانا پڑتا ہے ‘موجودہ برن اینڈ ٹراماسنٹر کے آپریشنل ہونے سے قبل ایل آرایچ اورکے ٹی ایچ میں چھوٹے چھوٹے برن یونٹ قائم تھے جہاں بہت کم سہولیات دستیاب تھیں‘ ان برن یونٹس میں جدید آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کا شدید فقدان ہے۔

 جسکی وجہ سے یہاں 30فیصد سے زیادہ متاثر ہونےوالے مریضوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا یہاں اس امر کی نشاندہی خالی از دلچسپی نہیں ہوگی کہ ایم ایم اے حکومت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 60 بستروں پر مشتمل ایک جدید برن یونٹ کے منصوبے پر کام کا آغازکیاتھا جو پچھلی کئی حکومتوں کے دوران تعطل کاشکار رہا اور اب ایک طویل انتظار کے بعداس سنٹر کا گزشتہ دنوں موجودہ وزیراعلیٰ نے افتتاح کرکے اہل خیبر پختونخوا کا ایک دیرینہ مسئلہ بظاہرتوحل کردیا ہے لیکن عمومی تاثر یہ ہے کہ نہ تویہ سنٹر ابھی تک پوری طرح فعال ہو اہے اور نہ ہی یہاں جدید ضروری سہولیات تاحال دستیاب ہیں اگر ایساہوتا تو چنددن قبل دیرکالونی غفورآبادکے واقعے میں جھلسنے والے بعض افراد علاج معالجے کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث کسمپرسی کی حالت میںموت کے منہ میں نہ جاتے۔

برن سنٹر اینڈ ٹراما ہسپتال کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان کاکہنا تھاکہ برن اینڈ ٹراما سنٹر پچھلے دور حکومت میں انکا پراجیکٹ تھاجوابھی حال ہی میں مکمل کیا گیاہے سنٹر سے صوبے کے علاوہ افغانستان کے مریض بھی مستفید ہونگے‘دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ برن اینڈ ٹراما سنٹر کا منصوبہ ان کا شروع کردہ ہے لیکن موجودہ حکومت اس کو اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہے‘صوبے کے عوام کی اس بحث میں یقینا کوئی دلچسپی نہیں ہوگی کہ موجودہ برن اینڈ ٹراما سنٹر کے قیام کا سہرا ایم ایم اے،اے این پی یا پھر پی ٹی آئی میں کس کے سر ہے لیکن وہ یہ ضرور چاہیں گے کہ ان کے صحت کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں چاہے انہیں کوئی بھی حل کرے۔ عوام کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے صوبے میں وہ سہولیات ملیں جو انہیںکھاریاں اور دیگر جگہوں پر ملتی ہیں اور انہیں پنجاب جانے سے چھٹکارا مل جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔